ایک استاد اپنے شاگرد کے ساتھ سعودی عرب کے صحرا میں سفر کر رہا تھا۔ دورانِ سفر استاد اسے بار بار سمجھاتا:
“اللہ پر بھروسا رکھو، وہ اپنے بندوں کو کبھی بے سہارا نہیں چھوڑتا۔”
رات کو دونوں نے ایک جگہ پڑاؤ کیا۔ استاد نے شاگرد سے کہا:
“گھوڑوں کو چٹان کے ساتھ باندھ دو۔”
شاگرد گھوڑے باندھنے گیا، مگر دل میں سوچا:
“استاد مجھے آزما رہے ہیں۔ اگر اللہ پر بھروسا ہے تو گھوڑوں کو اللہ کے سپرد کر دینا چاہیے۔”
چنانچہ اس نے گھوڑے بغیر باندھے چھوڑ دیے اور واپس آکر سو گیا۔
صبح اٹھا تو گھوڑے غائب تھے۔ وہ غصے میں استاد کے پاس آیا:
“آپ کہتے تھے اللہ پر بھروسا کرو، میں نے گھوڑے اللہ کے سپرد کیے تھے، مگر وہ تو چلے گئے!”
استاد مسکرایا اور بولا:
“اللہ گھوڑوں کی حفاظت کرنا چاہتا تھا، مگر اس کے لیے تمہارے ہاتھوں کی ضرورت تھی کہ تم انہیں باندھ دیتے۔”
توکل کا مطلب اپنی ذمہ داری چھوڑ دینا نہیں۔
تدبیر بھی کرو، کوشش بھی کرو، اور پھر نتیجہ اللہ کے سپرد کر دو۔
اللہ پر بھروسا کرو، مگر اپنی رسّی بھی مضبوطی سے باندھو۔ 🤲


