ایک بار طوفان میں ایک جہاز تباہ ہو گیا اور صرف ایک ہی شخص زندہ بچا جو ایک چھوٹے غیر آباد جزیرے پر بہہ کر پہنچ گیا۔
اس نے خدا سے دعا کی کہ اسے بچا لے، لیکن کئی دن گزر گئے، نہ کوئی مدد آئی اور نہ ہی کوئی اسے بچانے آیا۔ تھک ہار کر، ایک دن اس نے ادھر ادھر سے چیزیں ڈھونڈیں اور ٹوٹے ہوئے جہاز کے بہہ کر آئے ہوئے لکڑی کے ٹکڑوں سے اپنے لیے ایک چھوٹی سی جھونپڑی بنا لی۔
اسے بہت افسوس ہوا کہ اس کی دعائیں سنی نہیں جا رہیں اور اسے اس جزیرے پر اکیلا ہی رہنا پڑے گا۔ اس نے آس پاس سے زندہ رہنے کے لیے چیزیں اکٹھی کیں اور وہ سب کچھ جھونپڑی میں رکھ دیا، جب تک کہ اسے کوئی مدد نہ مل جائے۔
دن گزرتے رہے، لیکن ایک دن جب وہ کھانے کی تلاش میں نکلا ہوا تھا، کچھ دیر بعد جب وہ واپس آیا تو اس نے دیکھا کہ اس کی جھونپڑی آگ کے شعلوں میں جل رہی تھی اور اس کا سارا سامان اس جھونپڑی کے اندر جل کر راکھ ہو گیا تھا۔
آدمی ٹوٹ گیا، اس نے وہ سب کچھ کھو دیا جو اس نے اب تک بنایا تھا۔ وہ غم اور غصے سے سکتے میں آ گیا۔
وہ رویا اور آسمان کی طرف دیکھ کر چلایا، “اے خدا؟ کیوں؟ تو میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا ہے؟؟”
مگر اگلے دن سویرے ہی وہ ایک جہاز کی آواز سے جاگ گیا جو اس جزیرے کی طرف آ رہا تھا۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ اسے بچانے کے لیے کوئی جہاز آ گیا ہے۔
جب وہ آدمی جہاز پر سوار ہوا تو اس نے اپنے بچانے والے سے پوچھا، “آپ کو کیسے پتا چلا کہ میں یہاں ہوں؟؟”
بچانے والے نے جواب دیا، “ہم نے اس جزیرے سے دھوئیں کا اشارہ اٹھتے دیکھا تھا۔”
آدمی نے جواب دیا، “لیکن میں نے تو کوئی دھوئیں کا اشارہ دیا ہی نہیں تھا۔”
بچانے والے نے کہا، “کیا تم نے ہمیں اشارہ دینے کے لیے وہ آگ نہیں جلائی تھی؟”
اسی لمحے اس آدمی کو احساس ہوا کہ اس کی دعائیں سنی جا چکی تھیں اور خدا کے پاس ضرورت مندوں کی مدد کرنے کے اپنے طریقے ہوتے ہیں۔ اور اس نے خدا کا شکر ادا کیا کہ اس نے اسے بچا لیا۔
جب حالات خراب ہوں تو مایوس ہو جانا آسان ہے، لیکن ہمیں ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ درد اور تکلیف کے درمیان بھی ہمیشہ خدا پر بھروسہ رکھنا چاہیے
