انصاف

انصاف



ایک شیر نے دس بھیڑیوں کی نگرانی کے لیے ایک چیتے کو مقرر کیا۔

شیر ہر روز ان کے لیے گوشت کے گیارہ ٹکڑے لاتا تھا۔ چیتا بڑی دیانت داری سے خوراک تقسیم کرتا۔ ایک ٹکڑا اپنے لیے رکھتا اور باقی دس ٹکڑے دس بھیڑیوں میں برابر برابر بانٹ دیتا۔ نہ کسی کے ساتھ زیادتی، نہ کسی کو خصوصی رعایت، اور نہ ہی کسی کی حق تلفی۔

کچھ دن گزرے تو بھیڑیوں کے درمیان سرگوشیاں شروع ہو گئیں۔

ایک بھیڑیے نے کہا:
”آخر چیتے کو ہم جتنا ہی حصہ کیوں ملتا ہے؟“

دوسرا بولا:
”وہ کرتا ہی کیا ہے؟ بس گوشت تقسیم کرتا ہے!“

تیسرے نے کہا:
”ہم دس ہیں اور وہ اکیلا۔ اگر ہم اسے یہاں سے نکال دیں تو خوراک کی تقسیم کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں۔“

چیتے نے ان کی باتیں سن لیں، لیکن اپنے اصولوں پر قائم رہا۔ اسے یقین تھا کہ جب وہ سب کے ساتھ انصاف کر رہا ہے تو کسی کو اس سے شکایت نہیں ہونی چاہیے۔

مگر ایک دن بھیڑیوں نے اسے گھیر لیا۔

ان میں سے ایک طاقتور بھیڑیا آگے بڑھا اور بولا:
”اب ہمیں کسی نگران کی ضرورت نہیں۔ تم یہاں سے چلے جاؤ!“

چیتے نے دس بھیڑیوں سے لڑنے کے بجائے وہاں سے چلے جانے کو ترجیح دی اور واپس شیر کے پاس پہنچ گیا۔

اگلے دن شیر نے لومڑی کو بھیڑیوں کا نیا نگران مقرر کر دیا۔

لومڑی کے سامنے بھی گوشت کے وہی گیارہ ٹکڑے رکھے گئے۔

لیکن لومڑی نے چیتے کی طرح سب میں برابر تقسیم کرنے کے بجائے پہلے تین ٹکڑے اپنے لیے الگ کر لیے۔ پھر دو ٹکڑے سب سے طاقتور بھیڑیے کو دیتے ہوئے بولی:

”آج سے تم میرے نائب ہو!“

اس کے بعد اس نے تین مزید ٹکڑے دو ایسے بھیڑیوں کو دے دیے جو سب سے زیادہ شور مچاتے تھے۔

وہ بولی:
”تم دونوں نظم و ضبط برقرار رکھنے میں میری مدد کرو گے۔“

باقی بھیڑیوں کے سامنے جو کچھ بچا، وہ ان کی طرف پھینک دیا۔

یہ دیکھ کر بھیڑیے غصے سے بھڑک اٹھے۔

وہ چیخنے لگے:
”یہ سراسر ناانصافی ہے! چیتے کے زمانے میں تو ہم سب کو برابر حصہ ملتا تھا!“

لومڑی نے مسکرا کر صرف ایک سوال کیا:

”تو پھر تم نے اسے نکالا ہی کیوں تھا؟“

یہ سوال سنتے ہی سب بھیڑیے خاموش ہو گئے۔

اب لومڑی کا دور شروع ہو چکا تھا۔ وہ کبھی کسی کو زیادہ خوراک دے کر اپنا حامی بناتی، کبھی کسی کو سزا دیتی اور کبھی کسی سے مستقبل میں بڑے حصے کا وعدہ کرتی۔

طاقتور بھیڑیے اپنے خصوصی فائدے کھونے کے خوف سے لومڑی کا ساتھ دینے لگے۔ کمزور بھیڑیے طاقتوروں کے ڈر سے خاموش ہو گئے۔ یوں بھیڑیوں کے درمیان اتحاد ختم ہوتا گیا اور ہر کوئی اپنے حصے، اپنے فائدے اور اپنی بقا کے بارے میں سوچنے لگا۔

کچھ عرصے بعد چیتے کی شیر سے ملاقات ہوئی۔

چیتے نے افسردگی سے پوچھا:

”میں نے تو سب کے ساتھ انصاف کیا تھا۔ کسی کا حق نہیں مارا، کسی کو کم نہیں دیا۔ پھر بھی انہوں نے میرے خلاف بغاوت کیوں کی؟ اور اب جب لومڑی اپنے لیے زیادہ رکھتی ہے اور دوسروں کے ساتھ ناانصافی کرتی ہے، تو یہی بھیڑیے خاموش کیوں ہیں؟“

شیر نے جواب دیا:

”تم نے انہیں انصاف دیا، لیکن یہ سمجھ لیا کہ وہ ہمیشہ اس کی قدر بھی کریں گے۔ اکثر لوگ جس نعمت کو روزانہ حاصل کرتے ہیں، اسے اپنا معمول سمجھنے لگتے ہیں۔ انہیں احساس نہیں رہتا کہ اس نعمت کو برقرار رکھنے کے لیے کسی کے اصول، دیانت داری اور انصاف کا ہونا بھی ضروری ہے۔“

چیتے نے پوچھا:
”اور لومڑی نے ایسا کیا کیا کہ سب اس کے سامنے خاموش ہو گئے؟“

شیر نے کہا:

”اس نے چند بھیڑیوں کو مراعات دیں، باقیوں کے دلوں میں خوف پیدا کیا اور سب کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کر دیا۔ اب طاقتور اپنے فائدے بچانے میں مصروف ہیں، کمزور سزا سے ڈرتے ہیں اور سب ایک دوسرے پر شک کرتے ہیں۔ جب کسی معاشرے کے لوگ انصاف کے لیے متحد ہونے کے بجائے اپنے اپنے مفادات کی حفاظت میں لگ جائیں، تو ناانصافی کرنے والوں کے لیے حکومت کرنا آسان ہو جاتا ہے۔“

چیتا خاموش ہو گیا اور گہری سوچ میں ڈوب گیا۔

شیر نے آخر میں کہا:

”صرف انصاف کرنا کافی نہیں، لوگوں کو انصاف کی قدر سمجھانا بھی ضروری ہے۔ کیونکہ جب لوگ کسی نعمت کو بغیر کسی جدوجہد کے مسلسل حاصل کرتے رہتے ہیں، تو کبھی کبھی اس کی اہمیت بھول جاتے ہیں۔ اور جب وہ نعمت چھن جاتی ہے، تب انہیں احساس ہوتا ہے کہ ان کے پاس کیا تھا۔“

اور یوں بھیڑیوں کو اس وقت چیتے کی قدر سمجھ آئی، جب وہ ان کے درمیان موجود نہیں رہا۔





جب معاشرے میں اصولوں سے زیادہ مفادات، انصاف سے زیادہ ذاتی فائدے اور کردار سے زیادہ وفاداریاں اہم ہو جائیں، تو سب سے زیادہ نقصان عام آدمی کو اٹھانا پڑتا ہے۔

قوموں کی اصل طاقت کسی ایک حکمران میں نہیں، بلکہ انصاف، مضبوط اداروں، جواب دہی اور ایسے نظام میں ہوتی ہے جہاں کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہ ہو۔

کیونکہ آخرکار سوال یہ نہیں کہ حکمران کون ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا نظام سب کے لیے ایک جیسا انصاف فراہم کرتا ہے؟

Leave a Reply

NZ's Corner