اپنی نگاہ بدلیں، دنیا خود بدل جائے گی!

اپنی نگاہ بدلیں، دنیا خود بدل جائے گی!



ایک نہایت امیر شخص تھا۔ اس کے پاس اتنی دولت تھی کہ وہ اپنی مرضی کی کوئی بھی چیز خرید سکتا تھا، مگر ایک مسئلہ اسے مسلسل پریشان رکھتا تھا: اس کی آنکھوں میں ہر وقت درد رہتا تھا۔

وہ کئی ڈاکٹروں سے علاج کروا چکا تھا۔ بے شمار دوائیں استعمال کیں، سینکڑوں انجکشن لگوائے، مگر درد کم ہونے کے بجائے بڑھتا ہی چلا گیا۔ بالآخر ڈاکٹروں نے بھی جواب دے دیا۔

آخرکار ایک ایسے بزرگ کو بلایا گیا جو ناقابلِ علاج سمجھی جانے والی بیماریوں کا علاج کرنے میں مہارت رکھتے تھے۔

بزرگ نے اس شخص کا مسئلہ سمجھنے کے بعد کہا:

’’کچھ عرصے تک آپ صرف گلابی رنگ اور گلابی رنگ کی چیزیں ہی دیکھیں۔ کوشش کریں کہ کوئی دوسرا رنگ آپ کی آنکھوں کے سامنے نہ آئے۔‘‘

امیر شخص نے فوراً چند بیرل گلابی رنگ خریدا اور مصوروں کو حکم دیا کہ اس کی نظر میں آنے والی ہر چیز کو گلابی رنگ میں رنگ دیا جائے۔

چند ہی دنوں میں اس کا گھر، دفتر، فیکٹریاں، دیواریں، دروازے، کھڑکیاں، فرنیچر، گاڑیاں، کپڑے، جوتے، حتیٰ کہ کھانے پینے کی چیزیں بھی گلابی رنگ کی ہو گئیں۔

اس کی آنکھوں کو تو کچھ سکون ملا، مگر اس کی زندگی عذاب بن گئی۔ وہ اپنے گھر اور دفتر تک محدود ہو کر رہ گیا تھا۔ نہ کہیں گھومنے جا سکتا تھا، نہ کھڑکی سے باہر جھانک سکتا تھا۔

کچھ دن بعد اس نے دوبارہ بزرگ کو بلوایا۔

جب بزرگ وہاں پہنچے تو ملازمین گلابی رنگ کی بالٹیاں اٹھائے ان کے استقبال کے لیے کھڑے تھے۔ بزرگ نے سفید لباس پہن رکھا تھا، اس لیے ملازمین نے انہیں بھی گلابی رنگ میں نہلا دیا!

بزرگ جب امیر شخص کے سامنے پہنچے تو زور سے ہنسے اور بولے:

’’ارے بھائی! اگر آپ نے پوری دنیا کو گلابی رنگ میں رنگنے کے بجائے صرف گلابی شیشوں والی عینک خرید لی ہوتی تو آپ کا بہت سا مال و دولت بھی بچ جاتا اور آپ کو اس اذیت سے بھی نہ گزرنا پڑتا۔‘‘

پھر بزرگ نے سمجھایا:

’’آپ پوری دنیا کو گلابی رنگ میں نہیں رنگ سکتے، لیکن اپنی نگاہ ضرور بدل سکتے ہیں۔‘‘

سبق:

ہم میں سے بہت سے لوگ چاہتے ہیں کہ دنیا ہماری مرضی کے مطابق ہو جائے۔ لوگ ہماری سوچ کے مطابق چلیں، حالات ہماری خواہشات کے مطابق بدل جائیں اور ہر شخص ہمارے نظریے سے اتفاق کرے۔

لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ دنیا کو بدلنا ہمیشہ ہمارے اختیار میں نہیں ہوتا، البتہ اپنے رویّے، سوچ اور نقطۂ نظر کو بدلنا ہمارے اختیار میں ضرور ہوتا ہے۔

دوسروں کو بدلنے کی کوشش میں اپنی توانائیاں ضائع کرنے کے بجائے خود کو بہتر بنانے پر توجہ دیں۔ بعض اوقات مسئلہ دنیا میں نہیں، بلکہ اسے دیکھنے کے ہمارے انداز میں ہوتا ہے۔

اگر آپ دنیا کو بدلنا چاہتے ہیں تو پہلے خود کو بدلیں۔ جب آپ کی سوچ اور نگاہ بدلیں گی تو دنیا بھی آپ کو پہلے سے مختلف دکھائی دینے لگے گی۔
#منقول

Leave a Reply

NZ's Corner