کہتے ہیں ایک بادشاہ شدید بیمار ہو گیا۔ جب اسے یقین ہو گیا کہ اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں تو اس نے اپنی رعایا میں ایک عجیب اعلان کروا دیا۔
جو شخص میری وفات کے بعد ایک رات میری قبر میں گزارنے کے لیے تیار ہو جائے، میری پوری سلطنت، خزانے اور بادشاہت اسی کے نام کر دی جائے۔
اعلان سنتے ہی پورا ملک خوف میں مبتلا ہو گیا۔ بادشاہت سب کو پسند تھی، لیکن قبر کی ایک رات… اس کا تصور ہی لوگوں کے جسم میں کپکپی پیدا کرنے کے لیے کافی تھا۔ کسی نے آگے بڑھنے کی ہمت نہ کی۔
اسی دوران ایک غریب کمہار سامنے آیا۔
وہ ساری زندگی غربت میں جیا تھا۔ نہ اس کے پاس زمین تھی، نہ محل، نہ خزانے، نہ نوکر چاکر۔ اس کی کل کائنات صرف ایک گدھا تھا، جس پر سامان لاد کر وہ اپنی روزی کماتا تھا۔
اس نے سوچا:
آخر مجھے کس چیز کا ڈر؟ میرے پاس تو کچھ ہے ہی نہیں۔ ایک گدھا ہے، اور بس۔
ایک رات کے بدلے پوری بادشاہت… اس سے بہتر سودا اور کیا ہو سکتا ہے؟
اس نے شرط قبول کر لی۔
بادشاہ کی وفات کے بعد اسے قبر میں اتارا گیا۔ وہ خوش تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ بس ایک رات کی بات ہے، صبح نکلوں گا تو تاج میرے سر پر ہوگا۔
لیکن رات ابھی شروع ہی ہوئی تھی…
کچھ دیر بعد اس نے محسوس کیا کہ فضا بدل گئی ہے۔ قبر کی تاریکی مزید گہری ہو گئی۔ پھر اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس سے حساب لیا جا رہا ہو۔
اس سے پوچھا گیا۔۔
فلاں دن تم نے اپنے گدھے کو بھوکا کیوں رکھا تھا؟
اس نے جواب دیا
میں خود بھی بھوکا تھا۔
پھر سوال ہوا
فلاں دن تم نے اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ کیوں لادا؟
پھر پوچھا گیا
فلاں دن تم نے غصے میں اسے مارا کیوں؟
فلاں دن اسے پانی دیر سے کیوں پلایا؟
فلاں دن اس کے زخموں کا علاج کیوں نہ کیا؟
وہ حیران رہ گیا۔
اس نے تو کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ ایک جانور کے بارے میں بھی اتنا تفصیلی حساب ہو سکتا ہے۔
اور پھر اس نے خود کو ان تمام کوتاہیوں کے بدلے میں ایک دردناک عذاب میں مبتلا دیکھا، جیسے کوئی انتہائی ڈراؤنا خواب۔۔۔۔جس میں پوری رات وہ خوف، ندامت اور جواب دہی اور عذاب کے احساس میں تڑپتا رہا۔
صبح جب لوگ اپنے نئے بادشاہ کا استقبال کرنے کے لیے جمع ہوئے اور قبر کھولی تو اچانک وہ کمہار روتا، کانپتا اور چیختا ہوا باہر نکلا اور بھاگنے لگا۔
لوگ حیران رہ گئے۔
انہوں نے کہا۔۔
بادشاہ سلامت! آپ کہاں جا رہے ہیں؟
سلطنت آپ کی منتظر ہے۔
وہ روتے ہوئے صرف ایک جملہ کہہ سکا
میں تو ایک گدھے کا حساب نہیں دے سکا، پوری رعایا کا حساب کیسے دوں گا؟
یہ محض ایک حکایتی قصہ ہے، لیکن اس کے اندر چھپا پیغام ہم سب کے دل کو ہلا دینے کے لیے کافی ہے۔
ہم سب اپنی زندگی میں بہت بڑی بڑی چیزوں سے ڈرتے ہیں، لیکن چھوٹی چھوٹی زیادتیوں کو معمولی سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔
حالانکہ اللہ کے ہاں کوئی چیز چھوٹی نہیں۔
قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ جو شخص ذرہ برابر نیکی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا اور جو ذرہ برابر برائی کرے گا وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔ سورۃ الزلزال
ذرہ…
یعنی وہ چیزیں بھی جنہیں ہم خود بھول چکے ہوں گے۔
ذرا سوچئے…
اگر ایک جانور کے ساتھ زیادتی کا حساب ہو سکتا ہے تو پھر۔۔
کسی کا دل توڑنے کا حساب؟
والدین کے آنسوؤں کا حساب؟
بیوی بچوں کے حقوق کا حساب؟
ملازمین کی حق تلفی کا حساب؟
یتیم کے مال کا حساب؟
ماتحتوں پر ظلم کا حساب؟
جھوٹ، غیبت، تکبر، حسد اور ناانصافی کا حساب؟
اور ان تمام لوگوں کا حساب جنہیں ہم نے کبھی اپنی زبان، رویے یا اختیار سے تکلیف پہنچائی؟
اسکی جوابدہی اور اسکا بدلہ کتنا ہی دردناک اور تکلیف دہ ہوگا، جب ایک دن ایک ہزار سال جتنا بڑا اور ہر عذاب کے بعد جلد اور جسم پھر سے نئے عذاب کے لیے تیار کردیا جائے گا۔۔۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوک سے مر گیا تو مجھے ڈر ہے کہ اللہ عمر سے اس کے بارے میں سوال کرے گا۔
یہ وہ لوگ تھے جو حکومت نہیں، حساب سے ڈرتے تھے۔
آج ہمارا مسئلہ اس کے برعکس ہے۔
ہم اقتدار چاہتے ہیں لیکن جواب دہی کا خوف ہی نہیں۔
ہم عہدے چاہتے ہیں لیکن امانت کا احساس نہیں۔
ہم دنیا میں عزت، شہرت، طاقت اور اختیار کے پیچھے بھاگتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک دن ہم سب اسی مٹی میں لیٹے ہوں گے۔
وہاں نہ کوئی عہدہ ہوگا، نہ پروٹوکول، نہ محافظ، نہ بینک بیلنس۔
وہاں صرف دو چیزیں ہوں گی۔
ہمارا نامہ اعمال۔
اور ان لوگوں کے حقوق جنہیں ہم نے ضائع کیا۔
شاید اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بار بار آخرت کی یاد دلائی، کیونکہ انسان دنیا میں رہتے ہوئے یہ بھول جاتا ہے کہ ہر لفظ، ہر عمل، ہر نیت اور ہر ذمہ داری کا حساب ہونا ہے۔
یہ دنیا دراصل ایک امتحان گاہ ہے۔
ہم یہاں مالک بن کر نہیں آئے۔
ہم امانت دار بن کر آئے ہیں۔
اولاد امانت ہے۔
مال امانت ہے۔
عہدہ امانت ہے۔
طاقت امانت ہے۔
یہاں تک کہ ہمارا جسم بھی امانت ہے۔
اور ایک دن ان سب کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
شاید اسی لیے نیک لوگ اقتدار سے زیادہ قبر کی تنہائی سے ڈرتے تھے۔
وہ جانتے تھے کہ اصل کامیابی تخت حاصل کرنا نہیں، بلکہ اللہ کے سامنے سرخرو ہو کر کھڑا ہونا ہے۔
اس لیے آج اپنے آپ سے صرف ایک سوال پوچھئے:
اگر آج رات مجھے بھی اپنی قبر میں اترنا پڑ جائے…
تو کیا میں اپنے اعمال کا حساب دینے کے لیے تیار ہوں؟
کیونکہ ایک دن واقعی ایسا ہونے والا ہے۔
اور اس دن شاید ہمیں احساس ہو کہ ہم پوری زندگی ان چیزوں کے پیچھے بھاگتے رہے جن کی وہاں کوئی حیثیت نہیں ہوگی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حقوق العباد ادا کرنے، عاجزی اختیار کرنے، اور اس دن کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے جس دن نہ مال کام آئے گا، نہ اولاد، نہ عہدہ، بلکہ صرف وہ دل نفع دے گا جو اپنے رب کے سامنے سلامتی کے ساتھ حاضر ہوگا۔
آمین یا رب العالمین
