ایک کنجوس شخص کی کہانی

ایک کنجوس شخص کی کہانی

بہت پرانے زمانے کی بات ہے، جب برصغیر پر مغلوں کی حکومت تھی۔ انہی دنوں ایک شہر میں ایک ایسا دولت مند شخص رہتا تھا جس کی دولت کے قصے دور دور تک مشہور تھے۔ لوگ کہتے تھے کہ اس کے خزانوں میں اتنا سونا اور چاندی ہے کہ اگر کئی نسلیں بھی بیٹھ کر کھائیں تو ختم نہ ہو۔

اس کی تجارت دور دراز ملکوں تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس کے قافلے شہروں اور صحراؤں سے گزرتے تھے، اور اس کی حیثیت اس قدر بلند تھی کہ مغل بادشاہ کے دربار تک اس کی رسائی تھی۔ مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ اتنی بے پناہ دولت رکھنے کے باوجود وہ انتہا درجے کا کنجوس تھا۔

وہ قیمتی لباس خرید سکتا تھا مگر پرانے اور پیوند لگے کپڑے پہنتا تھا۔ گھوڑوں اور بگھیوں کے اصطبل بھر سکتا تھا مگر میلوں پیدل چلتا تھا تاکہ سواری پر خرچ نہ آئے۔ کھانے کے وقت بھی اس کی نظریں لقموں پر ہوتی تھیں، گویا ہر نوالہ اس کے خزانے سے کوئی سکہ کم کر دے گا۔

لوگ اکثر کہتے تھے:

“اتنی دولت کا فائدہ کیا، جسے نہ خود استعمال کیا جائے اور نہ دوسروں پر خرچ کیا جائے؟”

مگر وہ ہنس کر جواب دیتا:

“دولت خرچ کرنے کے لیے نہیں، جمع کرنے کے لیے ہوتی ہے۔”

وقت گزرتا رہا۔

پھر ایک دن وہ شدید بیمار پڑ گیا۔

شہر کے لوگوں نے مشورہ دیا کہ بہترین حکیم کو بلایا جائے۔ کسی نے کہا کہ دارالحکومت سے طبیب منگوا لو۔ کسی نے کہا کہ علاج میں تاخیر جان لیوا ہو سکتی ہے۔

مگر وہ ہر بار ایک ہی جواب دیتا:

“حکیم آئے گا تو فیس مانگے گا، دوائیں آئیں گی تو خرچ ہوگا۔”

بیماری بڑھتی گئی۔

رشتہ دار منتیں کرتے رہے، ملازم سمجھاتے رہے، مگر اس کے دل پر کنجوسی کا ایسا پردہ پڑ چکا تھا کہ وہ اپنی جان پر خرچ کرنے کو بھی تیار نہ تھا۔

آخر ایک دن وہ اسی دولت کے انباروں کے درمیان دنیا سے رخصت ہو گیا جنہیں جمع کرنے میں اس نے پوری زندگی گزار دی تھی۔

اس کے مرنے کے بعد وارثوں میں جھگڑے شروع ہو گئے۔

کسی نے زمینیں بیچ دیں، کسی نے محلات فروخت کر دیے، کسی نے عیش و عشرت میں خزانے اڑا دیے۔ جو دولت اس شخص نے عمر بھر جوڑنے میں لگا دی تھی، وہ چند برسوں میں بکھر گئی۔

چند سال بعد لوگ حیرت سے اس کی ویران حویلی کے پاس سے گزرتے اور کہتے:

“یہ وہی شخص تھا جس کی دولت کا کوئی حساب نہ تھا۔”

ایک بوڑھے شخص نے یہ بات سن کر کہا:

“اس کی دولت ختم نہیں ہوئی، اس کی دولت تو اس دن ختم ہو گئی تھی جب اس نے اسے استعمال کرنے کے بجائے صرف گننا شروع کر دیا تھا۔”

اور حقیقت بھی یہی تھی۔

وہ شخص ساری زندگی دولت کا نگہبان بنا رہا، مالک کبھی نہ بن سکا۔

اخلاقی سبق:

دولت ایک نعمت ہے، مقصد نہیں۔ جو شخص ساری زندگی صرف جمع کرنے میں گزار دیتا ہے، وہ اکثر اس سے کم فائدہ اٹھاتا ہے جتنا اس کے بعد آنے والے لوگ اٹھا لیتے ہیں۔ مال کا حسن صرف جمع کرنے میں نہیں بلکہ اس کے صحیح استعمال میں ہے، کیونکہ خزانے قبر تک ساتھ نہیں جاتے، مگر ان سے کیے گئے اچھے کام انسان کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner