ایک سلطنت تھی جس کی وسعت دور دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس کے بلند دروازے، سنگِ مرمر کے ایوان، سونے سے مزین چھتیں اور آسمان سے باتیں کرتے مینار دیکھنے والوں کو حیرت میں ڈال دیتے تھے۔ محل کے گرد بلند فصیلیں تھیں، فصیلوں پر پہرے دار تعینات تھے اور دربار میں ایسے وزیر و امیر جمع رہتے تھے جن کی زبانوں پر بادشاہ کی تعریف اور نگاہوں میں اپنی اپنی غرض کے سوا کچھ نہ تھا۔ بادشاہ خود کو خوش نصیب سمجھتا تھا۔ اس کے خزانے بھرے ہوئے تھے، اس کے دسترخوان پر انواع و اقسام کے کھانے چنے جاتے تھے اور اس کے ایک اشارے پر سینکڑوں آدمی دوڑ پڑتے تھے۔ اسے گمان تھا کہ اس کی رعایا بھی اسی طرح آسودہ ہوگی جس طرح وہ خود آسودہ تھا، کیونکہ دربار میں روزانہ اس کے کانوں تک یہی خبریں پہنچائی جاتی تھیں کہ ملک میں امن ہے، بازار آباد ہیں، کسان خوش حال ہیں اور ہر طرف اس کے عدل کے چرچے ہیں۔ اسے کیا خبر تھی کہ محل کی بلند فصیلیں صرف دشمن کو باہر رکھنے کے لیے نہیں، کبھی کبھی سچائی کو اندر آنے سے روکنے کے لیے بھی کھڑی کی جاتی ہیں۔ ایک رات بادشاہ گہری نیند سو رہا تھا کہ اچانک اس نے خود کو ایک ایسی جگہ پایا جہاں نہ کوئی محل تھا، نہ تخت، نہ تاج، نہ شاہی محافظ۔ ہر طرف آگ بھڑک رہی تھی۔ شعلے آسمان کی طرف بلند ہو رہے تھے، زمین تپ رہی تھی اور فضا میں ایسی ہیبت طاری تھی کہ سانس لینا بھی دشوار محسوس ہوتا تھا۔ بادشاہ نے گھبرا کر اپنے اردگرد دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ گردن تک آگ میں پھنسا ہوا ہے۔ اس کا جسم شعلوں میں گھرا تھا، مگر وہ نہ آگے بڑھ سکتا تھا نہ پیچھے ہٹ سکتا تھا۔ اس نے نکلنے کی کوشش کی، ہاتھ پاؤں مارے، پوری قوت سے چیخا، مگر اس کی آواز جیسے اسی کے سینے میں گھٹ کر رہ گئی۔ کچھ فاصلے پر ایک بے شمار ہجوم کھڑا تھا۔ ہزاروں نہیں، شاید لاکھوں چہرے؛ کچھ اس کی طرف رخ کیے ہوئے، کچھ ایک دوسرے کی جانب دیکھتے ہوئے، مگر کسی کی نگاہ اس پر نہ ٹھہرتی تھی۔ بادشاہ نے ایک شخص کو پہچاننے کی کوشش کی، پھر دوسرے کو، مگر کوئی اس کی طرف متوجہ نہ ہوا۔ اس نے مدد کے لیے پکارا، چیخا، فریاد کی، حتیٰ کہ اس کی آواز رونے میں بدل گئی، مگر ہجوم کے چہروں پر نہ حیرت ابھری، نہ رحم، نہ خوف۔ ایسا لگتا تھا جیسے سب اندھے ہوں، سب بہرے ہوں، جیسے ان کے سامنے کوئی انسان موجود ہی نہ ہو۔ بادشاہ نے آخری بار پوری قوت سے پکارا، ’’مجھے بچاؤ! کوئی تو میری آواز سنو! میں یہاں ہوں!‘‘ مگر جواب میں صرف شعلوں کی گرج سنائی دی۔ اسی لمحے وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ اس کا سینہ دھونکنی کی طرح چل رہا تھا، بدن پسینے سے تر تھا اور دل اس زور سے دھڑک رہا تھا جیسے ابھی سینے سے باہر نکل آئے گا۔ اس نے کمرے میں نگاہ دوڑائی۔ شاہی چراغ روشن تھے، پردے اپنی جگہ تھے، محافظ دروازے پر موجود تھے۔ سب کچھ معمول کے مطابق تھا، مگر خواب کی ہیبت اس کے دل میں ابھی تک زندہ تھی۔ اس نے پانی پیا، خود کو تسلی دی کہ یہ محض ایک خواب تھا، اور پھر دوبارہ سو گیا۔ اگلی رات وہی منظر پھر اس کی آنکھوں کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ وہی آگ، وہی گردن تک شعلوں میں پھنسا ہوا جسم، وہی بے حس ہجوم اور وہی فریاد جسے کوئی سننے والا نہ تھا۔ اس بار بادشاہ نے خواب میں لوگوں کی طرف ہاتھ بڑھایا، ایک ایک چہرے کو پکارا، مگر کوئی آگے نہ آیا۔ جب اس کی آنکھ کھلی تو وہ پہلے سے زیادہ خوف زدہ تھا۔ اس نے صبح دربار میں خواب کا ذکر کرنے کا ارادہ کیا، مگر وزیروں نے حسبِ معمول سلطنت کی خوش حالی کے قصیدے شروع کر دیے۔ بادشاہ نے بھی اپنی پریشانی چھپا لی۔ شاید اسے خوف تھا کہ کہیں اس کے خواب کو اس کی کمزوری نہ سمجھ لیا جائے۔ تیسری رات پھر وہی خواب آیا۔ اس بار آگ کی تپش پہلے سے زیادہ محسوس ہوتی تھی۔ بادشاہ کے حلق سے نکلنے والی چیخیں اس کے اپنے کانوں میں گونج رہی تھیں، مگر ہجوم بدستور بے خبر کھڑا تھا۔ وہ تڑپتا رہا، فریاد کرتا رہا اور جب آنکھ کھلی تو اس کے ہونٹ خشک تھے، گلا درد کر رہا تھا اور چہرے پر خوف کی ایسی کیفیت تھی جو اس نے کسی جنگ کے میدان میں بھی محسوس نہ کی تھی۔ اب بادشاہ کو یقین ہونے لگا کہ یہ کوئی معمولی خواب نہیں۔ اس نے اگلی صبح اپنے وزیروں کو حکم دیا کہ سلطنت کے کسی ایسے درویش، بزرگ یا صاحبِ علم کو تلاش کیا جائے جو خواب کی حقیقت سمجھ سکے۔ کئی دن کی تلاش کے بعد ایک عمر رسیدہ اللہ والے کو دربار میں لایا گیا۔ اس کے لباس میں کوئی شاہانہ شان نہ تھی، قدموں میں کوئی بناوٹ نہ تھی اور گفتگو میں وہ خوشامد بھی نہ تھی جس کے بادشاہ کا کان عادی ہو چکا تھا۔ بادشاہ نے اسے اپنے قریب بٹھایا اور تینوں راتوں کا خواب تفصیل سے سنایا۔ پھر بے قراری سے پوچھا، ’’بتائیے، یہ کیسا خواب ہے؟ میں آگ میں پھنسا ہوا ہوں، گردن تک شعلوں میں گھرا ہوں، میرے سامنے لوگوں کا ایک بڑا ہجوم کھڑا ہے، مگر کوئی میری آواز نہیں سنتا۔ میں ان کے سامنے تڑپتا ہوں، فریاد کرتا ہوں، مگر وہ ایسے بے خبر رہتے ہیں جیسے مجھے جانتے ہی نہ ہوں۔ اس خواب کا مطلب کیا ہے؟‘‘ بزرگ نے فوراً جواب نہ دیا۔ اس نے کچھ دیر خاموشی اختیار کی، پھر بادشاہ کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا، ’’حضور، تعبیر سننے سے پہلے ایک سوال کا جواب دیجیے۔ کیا آپ اپنی رعایا کے حالات سے واقف ہیں؟‘‘ بادشاہ نے کہا، ’’میرے پاس وزراء ہیں، حاکم ہیں، قاضی ہیں، محصول جمع کرنے والے افسر ہیں۔ وہ سب مجھے حالات سے آگاہ رکھتے ہیں۔‘‘ بزرگ نے پوچھا، ’’اور کیا آپ نے کبھی خود کسی غریب کے دروازے پر جا کر اس کی بات سنی ہے؟ کسی بھوکے بچے کی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھا ہے کہ اس نے آخری مرتبہ پیٹ بھر کر کب کھانا کھایا تھا؟ کسی بیوہ سے دریافت کیا ہے کہ اس کے گھر کا چولہا کیسے جلتا ہے؟ کسی کسان کے ساتھ کھیت میں کھڑے ہو کر معلوم کیا ہے کہ اس کی فصل پر کتنا قرض چڑھا ہے؟‘‘ بادشاہ خاموش ہو گیا۔ بزرگ نے بات آگے بڑھائی، ’’آپ کے محل کے دروازے بلند ہیں، فصیلیں اونچی ہیں، پہرے سخت ہیں اور آپ کے اردگرد ایسے لوگ ہیں جن کا فائدہ اسی میں ہے کہ آپ تک ہر خبر خوش نما صورت میں پہنچے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ رعایا آپ کے حال سے واقف ہے، مگر شاید آپ اس کے حال سے واقف نہیں۔ آپ کی نگاہ محل کی دیواروں سے آگے نہیں جاتی اور آپ کے کان خوشامد کے شور سے باہر کی آوازیں نہیں سنتے۔‘‘ بادشاہ نے قدرے ناگواری سے کہا، ’’لیکن اس خواب میں تو میں خود فریاد کر رہا ہوں اور کوئی میری آواز نہیں سنتا۔ اس کا میری رعایا سے کیا تعلق؟‘‘ بزرگ نے دھیمے مگر پُراثر لہجے میں جواب دیا، ’’حضور، شاید آپ کو اسی احساس کی ایک جھلک دکھائی گئی ہے جس سے آپ کی رعایا مدتوں سے گزر رہی ہے۔ وہ آپ کے دروازے پر فریاد کرتی ہے، مگر اس کی آواز آپ تک نہیں پہنچتی۔ وہ اپنے دکھ سنانے آتی ہے، مگر آپ کے حاکم اسے دربار تک پہنچنے نہیں دیتے۔ وہ انصاف مانگتی ہے، مگر اس کی بات سنے جانے سے پہلے ہی اس کی درخواست رد کر دی جاتی ہے۔ آپ نے کبھی سوچا کہ جب ایک مظلوم بار بار پکارے اور کوئی اس کی فریاد نہ سنے تو اس کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟‘‘ بادشاہ کے چہرے کا رنگ بدلنے لگا۔ بزرگ نے چند لمحے توقف کیا اور پھر کہا، ’’اور جہاں تک اس آگ کا تعلق ہے، میں اس خواب کی بنیاد پر آپ کے آخرت کے انجام کا قطعی فیصلہ نہیں سنا سکتا۔ غیب کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ لیکن یہ خواب آپ کے لیے ایک سخت تنبیہ ضرور ہو سکتا ہے۔ اگر آپ ظلم، غفلت اور بے انصافی پر قائم رہے تو اس دن کو یاد رکھیے جب انسان اپنے اعمال کے ساتھ اپنے رب کے حضور کھڑا ہوگا۔ وہاں نہ تخت کام آئے گا، نہ تاج، نہ خزانے، نہ خوشامدی درباری۔ وہاں کسی مظلوم کا حق آپ کے نامۂ اعمال پر بوجھ بن سکتا ہے، اور وہاں آپ کی فریاد سننے والا وہی ہوگا جس کے سامنے سب کو حاضر ہونا ہے۔‘‘ بادشاہ کی آنکھیں جھک گئیں۔ اس نے آہستہ سے پوچھا، ’’تو مجھے کیا کرنا چاہیے؟‘‘ بزرگ نے کہا، ’’اپنے لوگوں کے قریب جائیے۔ ان کے درمیان بیٹھیے، ان کی بات سنیے، ان کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھیے۔ اپنے دروازے ان کے لیے کھولیے، ان حاکموں کا محاسبہ کیجیے جو آپ اور رعایا کے درمیان دیوار بنے ہوئے ہیں۔ جس کے پاس فریاد لے کر آنے کے سوا کوئی راستہ نہیں، اسے یہ احساس نہ ہونے دیجیے کہ اس کی آواز بے کار ہے۔ حکمرانی صرف حکم دینے کا نام نہیں؛ یہ ان لوگوں کی ذمہ داری اٹھانے کا نام بھی ہے جن کے حقوق آپ کے سپرد ہیں۔‘‘ یہ الفاظ بادشاہ کے دل میں اتر گئے۔ اس نے اسی روز اپنے لباس اور شاہی تکلف کو ایک طرف رکھا، چند محافظوں کے ساتھ شہر کا رخ کیا اور عام لوگوں کے درمیان جا پہنچا۔ پہلے پہل لوگ اسے دیکھ کر گھبرا گئے۔ کسی نے سر جھکا لیا، کسی نے اپنا مسئلہ بیان کرنے سے گریز کیا اور کسی نے یہ سمجھا کہ شاید بادشاہ ان کی وفاداری آزمانے آیا ہے۔ مگر جب بادشاہ نے خود ایک بوڑھے مزدور کے پاس بیٹھ کر اس کی بات سنی، ایک بیوہ کے گھر کے حالات معلوم کیے اور ایک کسان سے اس کے قرض اور محصول کے بارے میں پوچھا تو آہستہ آہستہ لوگوں کے دل کھلنے لگے۔ اسے معلوم ہوا کہ جس سلطنت کو اس کے وزراء خوش حال کہتے تھے، وہاں کئی گھر ایسے تھے جہاں کئی کئی دن گوشت تو درکنار، روٹی بھی نصیب نہ ہوتی تھی؛ ایسے کسان بھی تھے جن کی فصل سے زیادہ ان کے قرض بڑھتے تھے؛ ایسے یتیم بھی تھے جن کے نام پر وظیفہ جاری ہوتا، مگر رقم راستے ہی میں کسی افسر کی جیب میں چلی جاتی؛ اور ایسے مظلوم بھی تھے جو انصاف کی امید میں دربار کے چکر کاٹتے کاٹتے بوڑھے ہو گئے تھے۔ بادشاہ کے لیے یہ سب خبریں نئی تھیں، مگر رعایا کے لیے ان میں کوئی نئی بات نہ تھی۔ اسے پہلی بار احساس ہوا کہ اس کے محل کی دیواروں کے باہر ایک ایسی دنیا بھی آباد ہے جس کے دکھ اس کے کانوں تک پہنچنے سے پہلے ہی دبا دیے جاتے تھے۔ اس نے حکم دیا کہ عوام کی شکایات براہِ راست سنی جائیں، محصول میں ہونے والی زیادتیوں کی تحقیق ہو، ناجائز طور پر چھینی گئی زمینیں واپس کی جائیں اور ان اہلکاروں کا محاسبہ کیا جائے جو مظلوموں کی فریاد روک کر بیٹھے تھے۔ اس نے دربار کے اوقات مقرر کیے جن میں کوئی بھی ضرورت مند، بغیر کسی سفارش کے، اپنی بات بیان کر سکتا تھا۔ بادشاہ نے صرف حکم جاری کرنے پر اکتفا نہ کیا؛ وہ وقتاً فوقتاً خود بھی بازاروں، کھیتوں اور بستیوں میں جانے لگا۔ شروع میں اسے یہ سب دشوار محسوس ہوا۔ کبھی کسی کی شکایت سن کر غصہ آتا، کبھی حقیقت جاننے کے لیے کئی لوگوں سے پوچھ گچھ کرنا پڑتی، کبھی اپنے ہی پسندیدہ وزیر کے خلاف کارروائی کرنا پڑتی۔ مگر رفتہ رفتہ اسے معلوم ہونے لگا کہ انصاف صرف اچھے ارادے کا نام نہیں، بلکہ اپنی پسند، اپنی سہولت اور اپنے قریبی لوگوں کے مفاد کے خلاف کھڑے ہونے کا نام بھی ہے۔ چند ہفتے گزرے تو بادشاہ نے ایک رات اطمینان سے نیند پوری کی۔ نہ آگ دکھائی دی، نہ وہ ہجوم، نہ وہ بے بس فریاد۔ اس نے صبح بیدار ہو کر شکر ادا کیا، مگر دل میں ایک سوال باقی تھا۔ اس نے بزرگ کو دوبارہ بلوایا اور پوچھا، ’’آپ کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کے بعد وہ خواب آنا بند ہو گیا ہے۔ کیا اب میں اس خطرے سے محفوظ ہو گیا ہوں؟‘‘ بزرگ نے جواب دیا، ’’حضور، خواب کا بند ہو جانا اس بات کی ضمانت نہیں کہ انسان کا حساب ختم ہو گیا۔ اسے اپنے عمل کی اصلاح کی علامت سمجھیے، نجات کا پروانہ نہیں۔ جس طرح ایک رات کی بے خوابی کے بعد انسان پھر سو جاتا ہے، اسی طرح دل بھی کبھی غفلت میں واپس جا سکتا ہے۔ آپ کو اپنے منصب کی ذمہ داری ہر روز یاد رکھنی ہوگی۔ اور ایک بات ہمیشہ ذہن میں رکھیے: جس دن آپ اپنی رعایا کی فریاد سننا چھوڑ دیں گے، ممکن ہے آپ کا سکون بھی آپ سے روٹھ جائے۔‘‘ بادشاہ نے سر جھکا کر کہا، ’’میں اس بات کو نہیں بھولوں گا۔‘‘ وقت گزرتا گیا۔ بادشاہ نے اپنے طرزِ حکمرانی میں تبدیلی جاری رکھی۔ اس نے سیکھ لیا کہ محل کی بلند دیواریں سلطنت کو مضبوط دکھا سکتی ہیں، مگر اگر ان دیواروں کے باہر لوگوں کے دل ٹوٹ رہے ہوں تو ایسی مضبوطی کھوکھلی ہوتی ہے۔ اسے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ دربار میں خاموشی ہمیشہ اطمینان کی علامت نہیں ہوتی؛ کبھی لوگ خوف سے خاموش ہوتے ہیں، کبھی مایوسی سے، اور کبھی اس لیے کہ انہیں یقین ہی نہیں رہتا کہ ان کی بات سننے والا کوئی ہے۔ اب جب بھی وہ اپنے محل کی بلند فصیلوں کو دیکھتا تو اسے وہ ہجوم یاد آ جاتا جس کے درمیان وہ خواب میں چیخ رہا تھا۔ وہ سوچتا کہ اگر دنیا میں اس کے سامنے کھڑے لوگ اس کی آواز نہیں سنتے تو اس کی حکمرانی کا کیا فائدہ؟ اور اگر وہ خود دوسروں کی فریاد سننے سے انکار کر دے تو کل اپنے اعمال کے جواب سے کیسے بچ سکے گا؟ اس نے اپنی زندگی میں یہ اصول بنا لیا کہ کوئی مظلوم اس کے دربار سے صرف اس لیے خالی ہاتھ واپس نہ جائے کہ اس کے پاس سفارش نہیں، دولت نہیں یا بلند آواز نہیں۔ کیونکہ وہ جان چکا تھا کہ بادشاہ کی اصل عظمت اس کے تاج میں نہیں، اس انصاف میں ہے جو اس کے زیرِ سایہ رہنے والوں کو ملتا ہے۔ اور شاید اسی لیے وہ خواب، جو پہلے اسے خوف سے بیدار کر دیتا تھا، اب اس کے لیے زندگی بھر کی بیداری کا پیغام بن گیا تھا۔
حاصلِ سبق:
انسان دوسروں کی فریاد سے منہ موڑ سکتا ہے، مگر اپنے اعمال کے حساب سے نہیں بچ سکتا۔ اختیار ہو یا دولت، عزت ہو یا منصبسب امانت ہیں۔ جو دنیا میں مظلوم کی آواز سنتا ہے، وہ اپنی ذمہ داری ادا کرتا ہے؛ اور جو جان بوجھ کر اسے ان سنا کرتا ہے، اسے یاد رکھنا چاہیے کہ ایک دن اسے بھی اپنے اعمال کا جواب دینا ہوگا۔


