گاؤں کے ایک سیدھے سادے مگر ذہین کسان اللہ وسایا نے زندگی میں پہلی بار ارادہ کیا کہ وہ شہر جا کر اپنے بیٹے کے اسکول کے کپڑے، بیوی کے لیے شال اور کچھ بیج خریدے گا۔ صبح سویرے بیل گاڑی سے قریبی اسٹیشن پہنچا، سر پر صاف ستھری پگڑی، ہاتھ میں لکڑی کی لاٹھی، جیب میں چند نوٹ، اور دل میں ایک انجانی خوشی۔
شہر کا شور، گاڑیوں کے ہارن، لوگوں کی جلدی۔سب کچھ اسے حیران کر رہا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ گاؤں میں سورج نکلنے سے پہلے مرغ بولتا ہے، یہاں انسان چیختے ہیں۔ اسی دوران ایک نرم لہجے والا شخص آگے بڑھا۔ سفید کپڑے، چمکدار جوتے، تسبیح ہاتھ میں۔ بولا، “السلام علیکم بھائی جان! لگتا ہے آپ گاؤں سے آئے ہیں؟ میں حاجی فضل دین ہوں، خدمتِ خلق میں لگا رہتا ہوں۔ اگر کہیں جانا ہو تو بتائیں، میرا بھی راستہ بازار کی طرف ہے۔
اللہ وسایا کے دل میں فوراً اعتماد جاگا۔ اس نے سوچا، “واہ رے شہر، یہاں بھی نیک لوگ ہیں!” حاجی فضل دین باتوں میں بڑا میٹھا تھا۔ راستے بھر وہ کہتا رہا، “میں خود بھی کبھی تمہاری طرح دہقان تھا، اب اللہ نے کچھ دیا ہے تو نیکی بانٹتا ہوں۔”
دونوں باتیں کرتے کرتے ایک گلی میں مڑ گئے۔ حاجی صاحب بولے، “یہ عام دکانوں سے مہنگا پڑے گا۔ میرے جاننے والے ایک گودام میں سستا مال دیتے ہیں، تمہیں وہاں لے چلتا ہوں۔”
اللہ وسایا نے اثبات میں سر ہلایا۔ گودام سنسان گلی میں تھا، دروازہ ٹوٹی اینٹوں کے پیچھے چھپا ہوا۔ جیسے ہی اندر داخل ہوا، دروازہ دھڑ سے بند ہوا۔ تین آدمی باہر نکل آئے۔ ایک نے لاٹھی اٹھائی، دوسرا بولا، “چل میاں، جیب خالی کر، ورنہ تیری پگڑی زمین پر گرے گی!”
اللہ وسایا کے پسینے چھوٹ گئے۔ مگر وہ گاؤں کا وہ کسان تھا جو بیلوں کی آنکھوں سے بھی ارادے بھانپ لیتا تھا۔ اس نے جلدی سے کہا، “لے لو بھائی، جو کچھ ہے سب لے لو۔ مگر ایک بات سن لو، پھر جو چاہو کرنا۔”
ٹھگ ہنسے۔بول، یہ تیرے آخری الفاظ ہوں گے۔
اللہ وسایا بولا، “پچھلے ہفتے ہمارے گاؤں کے پاس والے قصبے میں پولیس نے دو ایسے ہی حاجی نما ٹھگوں کو گرفتار کیا تھا۔ ان کا تیسرا ساتھی فرار ہوگیا تھا۔ پولیس نے بتایا تھا کہ وہ شہر میں چھپ گیا ہے۔ تمہارا چہرہ کچھ جانا پہچانا لگتا ہے۔ کہیں وہ تم ہی تو نہیں؟”
یہ سننا تھا کہ حاجی فضل دین کا رنگ فق ہوگیا۔ اس کے ساتھی ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ ایک بولا، “یار یہ تو خبر رکھتا ہے! کہیں سچ نہ نکل آئے۔
دوسرا جھنجھلا کر بولا، چل چھوڑ اس گنوار کو، مسئلہ نہ کھڑا کر۔
انہوں نے تیزی سے دروازہ کھولا اور اللہ وسایا کو باہر دھکیل دیا۔
اللہ وسایا لڑکھڑاتا ہوا باہر نکلا۔ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو تینوں دروازہ بند کر کے غائب ہو چکے تھے۔ وہ سیدھا بازار کے مجمع میں جا پہنچا، لوگوں کو سارا واقعہ سنایا۔ چند سمجھدار آدمیوں نے پولیس کو خبر دی، اور کچھ ہی دیر میں وہی حاجی فضل دین اور اس کے دو ساتھی دھر لیے گئے۔
پولیس والے ہنستے ہوئے بولے، “میاں، تم تو بڑے چالاک نکلے، ورنہ یہ لوگ بڑے بڑے کو چونا لگا چکے ہیں۔”
اللہ وسایا مسکرا کر بولا، “ہم گاؤں والے سادہ ضرور ہیں، مگر احمق نہیں۔ زمین جتنے والا جانتا ہے کہ کہاں کانٹے چھپے ہیں۔”
گاؤں واپس جا کر جب سب نے اس کی بات سنی تو بوڑھا نمبردار بولا،
“بیٹا، تم نے ایک بڑی بات سیکھ لی ۔نیکی کے چہرے میں چھپی چالاکی سب سے خطرناک ہوتی ہے۔ سادگی خوبصورت ہے، مگر آنکھیں بند کر لینا بےوقوفی ہے۔”
اس دن سے گاؤں کے لوگ جب بھی شہر جاتے، ایک دوسرے سے کہتے،پگڑی مضبوط باندھنا، اور مسکراہٹوں سے ہوشیار رہنا، کیونکہ ہر حاجی، حاجی نہیں ہوتا۔



Chor k ghar daku par ghayz🙂😄😄😁😆