ایک دن شیطان بیٹھا رسیوں کے پھندے تیار کر رہا تھا۔ کچھ موٹی موٹی رسیوں کے پھندے تھے، کچھ باریک اور کمزور رسیوں کے پھندے تھے۔ وہاں سے ایک علم والے کا گزر ہوا تو اس نے شیطان سے پوچھا: “ارے او دشمنِ انسان! یہ کیا کر رہے ہو؟”
شیطان نے سر اٹھا کر دیکھا اور اپنا کام جاری رکھتے ہوئے بولا: “دیکھتے نہیں حضرت، انسانوں کو قابو کرنے کے لیے پھندے تیار کر رہا ہوں۔”
ان حضرت نے پوچھا: “یہ کیسے پھندے ہیں؟ کچھ موٹے کچھ باریک؟”
شیطان نے جواب دیا: “پھندے ان لوگوں کے لیے ہیں جو شیطان کی باتوں میں نہیں آتے، لہٰذا مختلف قسم کے پھندے تیار کرنے پڑتے ہیں۔ کچھ خوشنما، کچھ موٹے اور کچھ باریک۔”
ان حضرت کے دل میں تجسس پیدا ہوا، پوچھا: “کیا میرے لیے بھی کوئی پھندا ہے؟”
شیطان نے سر اٹھا کر مسکراتے ہوئے کہا: “آپ علم والوں کے لیے مجھے پھندے تیار نہیں کرنے پڑتے۔ آپ لوگوں کو تو میں چٹکیوں میں گھیر لیتا ہوں۔ علم کا تکبر ہی کافی ہے آپ لوگوں کو پھانسنے کے لیے۔”
ان حضرت نے حیران ہو کر پوچھا: “پھر یہ موٹے پھندے کس کے لیے ہیں؟”
شیطان نے کہا: “موٹے پھندے اخلاق والوں کے لیے ہیں جن کے اخلاق اچھے ہیں۔ ان پر قابو پانا مشکل ہوتا ہے۔”
حدیثِ شریف میں ہے کہ “اعمال میں سب سے زیادہ وزنی چیز اخلاق ہے۔


