بہت پہلے کی بات ہے۔ ایک شخص کے چار بیٹے تھے۔ وہ سب طاقتور، محنتی اور بہادر تھے، مگر افسوس کہ ایک دوسرے کے سب سے بڑے دشمن بھی تھے۔
وہ ایک ہی چھت کے نیچے رہتے، ایک ہی دسترخوان پر کھانا کھاتے، لیکن ان کے دلوں کے درمیان نفرت کی ایسی دیوار کھڑی ہو چکی تھی جسے کوئی نصیحت گرا نہ سکتی تھی۔
ہر صبح کسی نہ کسی بات پر جھگڑا ہوتا، ہر شام نئی ناراضی جنم لیتی، اور ہر رات باپ بے بسی سے یہ سب دیکھتا رہتا۔ وہ جانتا تھا کہ جس گھر سے اتفاق اٹھ جائے، وہاں دولت، طاقت اور وراثت بھی زیادہ دیر سلامت نہیں رہتیں۔
ایک شام اس نے چاروں بیٹوں کو اپنے پاس بلایا۔ اس کی آواز میں کمزوری تھی، مگر الفاظ میں برسوں کی حکمت۔
“بیٹو! آج میں تم سے ایک آخری کام کہنا چاہتا ہوں۔”
چاروں خاموشی سے اس کے سامنے کھڑے ہوگئے۔
اس نے بڑے بیٹے سے کہا،
“سمندر پر جاؤ اور میرے لیے ایک برتن پانی لے آؤ۔”
دوسرے سے کہا،
“جنگل سے ایک شاخ لے آؤ۔”
تیسرے سے فرمایا،
“پہاڑ سے ایک پتھر لے آؤ۔”
اور سب سے چھوٹے بیٹے سے کہا،
“دریا کے کنارے سے ایک مٹھی ریت لے آؤ۔”
چند گھنٹوں بعد چاروں واپس آگئے۔ ایک سمندر کا پانی لایا، دوسرا درخت کی شاخ، تیسرا ایک بڑا پتھر اور چوتھا مٹھی بھر ریت۔
بزرگ نے سب چیزیں اپنے سامنے رکھیں اور بڑے بیٹے سے پوچھا،
“کیا تم نے سمندر دیکھا؟”
“جی ابا جان! جہاں تک نظر جاتی تھی، صرف پانی ہی پانی تھا۔”
بزرگ مسکرایا اور بولا،
“اگر میں کہوں کہ کل پورا سمندر میرے پاس لے آؤ، کیا لا سکتے ہو؟”
بیٹا فوراً بولا،
“ہرگز نہیں ابا جان! چند قطرے تو لا سکتا ہوں، مگر پورا سمندر نہیں۔”
پھر اس نے باقی تینوں بیٹوں سے بھی یہی سوال کیا کہ کیا وہ پورا جنگل، پورا پہاڑ یا پورا دریا یہاں لا سکتے ہیں؟
تینوں نے عاجزی سے ایک ہی جواب دیا۔
“نہیں ابا جان! یہ ناممکن ہے۔”
بزرگ نے گہری سانس لی۔ اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔ وہ آہستہ سے کھڑا ہوا، چاروں بیٹوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھا اور بولا،
“آج تم سب نے وہ جواب دے دیا ہے جو میں برسوں سے تمہیں سمجھانا چاہتا تھا۔”
“سمندر اپنی ہر بوند کے ساتھ سمندر بنتا ہے، پہاڑ اپنے ہر پتھر کے ساتھ پہاڑ بنتا ہے، جنگل اپنے ہر درخت کے ساتھ جنگل بنتا ہے، اور دریا اپنے کنارے کی ہر مٹھی ریت کے ساتھ مکمل ہوتا ہے۔”
“اگر سمندر کی بوندیں جدا ہو جائیں تو صرف قطرے رہ جاتے ہیں۔ اگر پہاڑ کے پتھر بکھر جائیں تو صرف کنکریاں بچتی ہیں۔ اگر جنگل کے درخت الگ ہو جائیں تو وہ جنگل نہیں رہتا، صرف لکڑیاں رہ جاتی ہیں۔”
پھر اس نے چاروں بیٹوں کے ہاتھ ایک دوسرے کے ہاتھ میں رکھ دیے اور لرزتی ہوئی آواز میں کہا،
“میرے پیارے بیٹو! تم بھی انہی کی طرح ہو۔ جب تک تم متحد رہو گے، تمہاری طاقت سمندر کی گہرائی، پہاڑ کی مضبوطی اور جنگل کی وسعت جیسی ہوگی۔ لیکن جس دن تم ایک دوسرے سے جدا ہوگئے، تمہاری حیثیت صرف ایک قطرے، ایک پتھر اور ایک شاخ کی رہ جائے گی۔”
یہ الفاظ سنتے ہی چاروں بیٹوں کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ انہیں پہلی بار احساس ہوا کہ ان کا سب سے بڑا دشمن ایک دوسرے نہیں، بلکہ ان کا اختلاف تھا۔
انہوں نے اپنے باپ کے ہاتھ چومے، ایک دوسرے کو گلے لگایا اور وعدہ کیا کہ آئندہ کبھی آپس میں نفرت کو اپنے درمیان جگہ نہیں دیں گے۔
کہتے ہیں، اس دن کے بعد ان چاروں بھائیوں نے کبھی ایک دوسرے سے جھگڑا نہیں کیا۔
اور اس رات، برسوں بعد، وہ بوڑھا باپ سکون سے سویا، کیونکہ اس نے اپنی سب سے قیمتی وراثت—اپنے بیٹوں کا اتحاد—واپس پا لیا

