چنگیز خان نے اپنی وفات (1227ء) سے قبل اپنی وسیع و عریض سلطنت اپنے چار بیٹوں میں تقسیم کی: جوجی خان، اوگتائی خان، جغتائی خان اور تولوی خان۔ یہ تقسیم دراصل منگول سلطنت کے مستقبل کی سیاسی ساخت کی بنیاد بنی۔
جوجی خان، جو چنگیز خان کا سب سے بڑابیٹا تھا، کو بحیرۂ قزوین کے شمالی علاقے، دشتِ قبچاق، بلغار اور قفقاز کے خطے دیے گئے۔ تاہم جوجی خان اپنے والد کی زندگی میں ہی وفات پا گیا، جس کے بعد ان کے بیٹے باتو خان نے اس خطے کی قیادت سنبھالی۔ باتو خان نے 1236ء تا 1242ء یورپ پر عظیم حملے کیے اور مشرقی یورپ کے بڑے حصے کو روند ڈالا، جس کے نتیجے میں “سنہری اردُو” (Golden Horde) ایک طاقتور ریاست کے طور پر ابھری۔
دوسری جانب تولوی خان کو منگولیا کا قلبی علاقہ ملا، اور اس کے بیٹے ہلاکو خان نے بعد میں مغربی ایشیاء کی طرف اپنی فتوحات کا رخ کیا۔ ہلاکو نے 1256ء میں اسماعیلی قلعوں کا خاتمہ کیا، 1258ء میں بغداد پر حملہ کر کے عباسی خلافت کا خاتمہ کیا اور عباسی خلیفہ المستعصم باللہ کو (ق-ت-ل) کر دیا۔ اس کے بعد اس کی پیش قدمی شام کی طرف ہوئی۔
یہاں ایک اہم بات بتانا نہایت ضروری ہےکہ، باتو خان کی وفات تقریباً 1255ء میں ہوئی، یعنی سقوطِ بغداد (1258ء) سے چند سال قبل، اور اس کے بعد اقتدار برکہ خان کے ہاتھ میں آیا، جو جوجی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔
برکہ خان تاریخ کے ان منفرد حکمرانوں میں سے ہیں جنہوں نے اسلام قبول کر کے نہ صرف اپنی زندگی بلکہ پوری ریاست کا رخ بدل دیا۔ ان کے اسلام قبول کرنے (تقریباً 1250ء کی دہائی) کے بعد سنہری اردُو کے بڑے حصے نے بھی اسلام قبول کیا۔ اس عظیم موقعہ پر علامہ اقبال نے کیا خوب لکھا ہے،کہ
“ہے عیاں یورشِ تاتار کے افسانے سے
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے “
جب ہلاکو خان نے بغداد کو تباہ کیا تو برکہ خان اس پر شدید برہم ہوئے، اور یہی وہ موڑ تھا جہاں پہلی بار منگول آپس میں ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہوئے۔
1262ء کے قریب برکہ خان اور ہلاکو خان کے درمیان باقاعدہ جنگ شروع ہوئی، جسے تاریخ میں منگول خانہ جنگی کے اہم ابواب میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس جنگ میں برکہ خان نے ہلاکو کے خلاف سنہری اردُو کی طاقت کو استعمال کیا اور اسے شمالی محاذ پر الجھا دیا۔
یہی وہ عنصر تھا جس نے اسلامی دنیا کو بالواسطہ فائدہ پہنچایا۔ جب ہلاکو شام میں اپنی پیش قدمی جاری رکھے ہوئے تھا، تو منگول سلطنت کے اندرونی تنازعات اور برکہ خان کے ساتھ جنگ نے اسے اپنی فوج کا بڑا حصہ واپس لے جانے پر مجبور کیا۔ اس صورتحال میں اس نے اپنے ایک جرنیل کتبوغا کو شام میں چھوڑ دیا، جسے بعد ازاں مسلمانوں نے 658 ہجری / بمطابق 1260ء میں معرکہ عین جالوت میں شکست دی۔ یہ معرکہ اسلامی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔
برکہ خان نے نہ صرف جنگی محاذ پر کردار ادا کیا بلکہ مصر کے مملوک حکمران سلطان الظاہر بیبرس کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی قائم کیے۔ دونوں کے درمیان اتحاد نے منگول خطرے کے مقابلے میں ایک مضبوط اسلامی بلاک تشکیل دیا۔ تاریخی روایات کے مطابق مملوک سلطان رکن الدین بیبرس نے برکہ خان کے لیے حرمین شریفین اور دیگر بڑے شہروں میں دعائیں بھی کروائیں، جو اس تعلق کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بات بھی وضاحت طلب ہے کہ برکہ خان کی بیٹی کی شادی کے حوالے سے مختلف روایات ملتی ہیں، مگر مستند تاریخی کتب میں اس کا واضح اور قطعی ثبوت محدود ہے، اس لیے اسے احتیاط کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے۔
برکہ خان نے665 ھ/ بمطابق 1266ءاپنی وفات تک اسلام اور اپنی ریاست کی خدمت جاری رکھی۔ ان کی سلطنت، جسے سنہری اردُو کہا جاتا ہے، ترکستان سے لے کر روس اور سائبیریا تک پھیلی ہوئی تھی۔
