بلاعنوان

بلاعنوان

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گھنے اور خوبصورت جنگل میں ایک عجیب مصیبت آ پڑی۔ پورے جنگل کے جانوروں اور پرندوں کی نیند جیسے روٹھ گئی تھی۔ رات بھر ہر طرف بے چینی رہتی۔ کوئی کروٹیں بدلتا، کوئی درختوں کے نیچے ٹہلتا، کوئی آنکھیں بند کر کے سونے کی کوشش کرتا مگر نیند کسی کے پاس آنے کا نام ہی نہیں لیتی تھی۔

آخر تنگ آ کر تمام جانور جنگل کے بادشاہ شیر کے دربار میں حاضر ہوئے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ شیر خود بھی کئی راتوں سے جاگ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں کے نیچے حلقے پڑ چکے تھے اور غصہ بھی پہلے سے زیادہ ہونے لگا تھا۔

دربار میں موجود چالاک لومڑی نے آگے بڑھ کر کہا:

“جہاں پناہ! ہر مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل ضرور ہوتا ہے۔ مجھے ایک دن کی مہلت دیجیے، میں اس مشکل کا علاج ڈھونڈ لوں گی۔”

اگلے دن پورے جنگل میں سرکاری اعلان کر دیا گیا:
“جنگل میں ایک نہایت اہم عہدے کے لیے درخواستیں مطلوب ہیں۔ تنخواہ منہ مانگی دی جائے گی، مگر شرط یہ ہے کہ امیدوار کی آواز انتہائی میٹھی اور دل کو سکون پہنچانے والی ہونی چاہیے۔”

یہ اعلان سنتے ہی پورے جنگل میں ہلچل مچ گئی۔
ہر جانور کو اپنی آواز دنیا کی سب سے خوبصورت لگتی تھی۔ مینڈک تالاب سے نکل آیا، کوّا اپنی آواز کو موسیقی سمجھ کر پہنچ گیا، گدھا تو یہ سوچ کر آیا کہ آج دنیا کو اس کے فن کی اصل پہچان مل جائے گی، اور کئی پرندے بھی اپنے اپنے سُر لیے دربار میں حاضر ہو گئے۔
انٹرویو ہوا تو  تمام امیدواروں میں صرف ایک آواز ایسی نکلی جس میں مٹھاس، سکون اور قدرتی نرمی تھی، اور وہ تھی کوئل کی آواز۔

کوئل کو جنگل کی سرکاری “لالی گلوکارہ” مقرر کر دیا گیا۔ اس کا کام یہ تھا کہ ہر رات اپنے سریلے نغموں سے پورے جنگل کو سلا دے۔
تنخواہ کے معاملے پر لومڑی نے کہا: “تمہارے پاس دو انتخاب ہیں۔ یا تو تم خزانے سے مقررہ تنخواہ لے لو، یا پھر ہر جانور اپنی میٹھی نیند کے بدلے اپنی خوشی سے تمہیں معاوضہ دے گا۔”

کوئل نے دل میں سوچا: “جب پورا جنگل میری وجہ سے سکون کی نیند سوئے گا تو سب دل کھول کر دیں گے۔ سرکاری تنخواہ تو بہت کم ہوگی۔”

چنانچہ اس نے دوسرا انتخاب کر لیا۔
اب ہر رات کوئل گاتی، اس کے سُروں کی مٹھاس درختوں سے ٹکراتی، ہوا میں گھلتی اور جانور لمحوں میں خوابوں کی دنیا میں کھو جاتے۔
پہلا مہینہ ختم ہوا۔
کوئل خوشی خوشی اپنا معاوضہ لینے نکلی، مگر ہر جانور کے پاس ایک نئی کہانی تھی۔
خرگوش بولا: “بہن! اس مہینے گاجروں کی فصل اچھی نہیں ہوئی۔”
بندر بولا: “میرے پاس تو ایک دانہ بھی نہیں بچا۔”
ہرن نے آہ بھری: “اگلے مہینے ضرور دوں گا۔”
کوئل نے سوچا، چلو کوئی بات نہیں، اگلے مہینے سب دے دیں گے۔
مگر دوسرا مہینہ بھی ایسے ہی گزر گیا، پھر تیسرا بھی۔

اب کوئل کو سمجھ آ گیا کہ جنگل والے اس کی آواز کی قدر تو کرتے ہیں، مگر قیمت ادا کرنے کو تیار نہیں۔

اس نے گانا بند کر دیا اور اپنی جگہ گدھے کو مقرر کر دیا۔
پہلی رات جیسے ہی گدھے نے اپنی “سنگیت کی محفل” شروع کی، پورے جنگل میں ہلچل مچ گئی۔
جو جانور پہلے نیند نہ آنے کی شکایت کرتے تھے، اب وہ یہ دعا کرنے لگے کہ کسی طرح خاموشی واپس آ جائے۔

خرگوش اپنے بل سے باہر بھاگا، بندر درخت سے گرنے لگا، پرندے رات کے اندھیرے میں اُڑنے لگے اور شیر نے غصے میں دھاڑ کر کہا: “بس کرو! یہ لوری ہے یا جنگ کا اعلان؟”
اگلی صبح پورا جنگل شرمندہ ہو کر کوئل کے پاس پہنچا۔

سب نے ہاتھ جوڑ کر کہا:
“ہمیں معاف کر دو۔ ہمیں تب احساس ہوا کہ سکون کی بھی ایک قیمت ہوتی ہے۔ ہم تمہارا پچھلا معاوضہ بھی دیں گے اور آئندہ بھی تمہاری قدر کریں گے۔”
کوئل مسکرائی اور دوبارہ اپنی سریلی آواز سے جنگل کو سُلانے لگی۔
اور اس دن کے بعد جنگل میں ایک کہاوت مشہور ہو گئی:

“اچھی چیز کی قدر اس وقت ہوتی ہے، جب اس کی جگہ کوئی بُری چیز لے لے۔”

اخلاقی سبق:

انسان اکثر اُن نعمتوں اور لوگوں کی قدر نہیں کرتا جو خاموشی سے اس کی زندگی میں سکون، خوشی اور آسانی پیدا کر رہے ہوتے ہیں۔ جب وہ نعمت چھن جاتی ہے یا اس کی جگہ کوئی کمتر چیز آ جاتی ہے، تب احساس ہوتا ہے کہ اصل دولت وہی تھی جسے ہم معمولی سمجھ رہے تھے۔ قدر ہمیشہ وقت پر کرنی چاہیے، کیونکہ ہر اچھی چیز کے جانے کے بعد اس کی واپسی ضروری نہیں ہوتی۔



Leave a Reply

NZ's Corner