بلاعنوان

بلاعنوان

جنگل میں ایک سور رہتا تھا۔ اس کی ایک عجیب عادت تھی: جہاں سے وہ گزرتا، باقی جانور راستہ بدل لیتے۔ وجہ اس کی طاقت نہیں بلکہ اس کے جسم سے اٹھنے والی ایسی شدید بدبو تھی کہ قریب کھڑا رہنا بھی مشکل ہو جاتا۔ حتیٰ کہ جنگل کا بادشاہ شیر بھی اسے دیکھ کر دور سے راستہ بدل لیتا۔

ایک دن اتفاق سے کنویں کے قریب شیر اور سور کا آمنا سامنا ہوگیا۔ سور حسبِ معمول کیچڑ میں لت پت تھا۔ شیر نے جونہی اسے قریب آتے دیکھا، پہلے ایک قدم پیچھے ہٹا، پھر دوسرا، مگر سور کی بدبو کا ایک تیز جھونکا ایسا آیا کہ شیر کا دماغ چکرا گیا اور وہ وہاں سے پلٹ گیا ۔

سور چند لمحے شیر کو جاتے دیکھتا رہا، پھر اس کی آنکھوں میں عجیب چمک آگئی۔

“اوہو!” اس نے گردن اکڑاتے ہوئے کہا، “تو یہ بات ہے! شیر بھی مجھے دیکھ کر بھاگ جاتا ہے!”

اس دن کے بعد سور کا غرور سنبھالے نہ سنبھلتا تھا۔ جس جانور کو دیکھتا، آنکھیں نکال کر کہتا، “راستے سے ہٹ جاؤ!”

چھوٹے جانور ڈر کے مارے ہٹ جاتے تو اس کا غرور اور بڑھ جاتا۔ کوئی جانور بحث سے بچنے کے لیے خاموش رہتا تو سور سمجھتا، “دیکھا! میرے سامنے بولنے کی بھی کسی میں ہمت نہیں۔”

ایک دن وہ جنگل کے ایسے حصے میں جا نکلا جہاں ایک جنگلی گینڈا رہتا تھا۔ سور نے اسے بھی حسبِ عادت آنکھیں دکھائیں۔

گینڈے نے پہلے تو اسے نظرانداز کیا، مگر سور باز نہ آیا۔ وہ قریب گیا، سینہ پھلایا اور بولا، “تمہیں معلوم نہیں میں کون ہوں؟ شیر تک میرے سامنے ٹھہر نہیں سکا!”

گینڈے نے حیرت سے اسے دیکھا، پھر بولا، “اچھا؟”

سور نے گردن مزید اکڑائی، “ہاں! شیر مجھے دیکھ کر بھاگ گیا تھا!”

گینڈا کچھ دیر اسے دیکھتا رہا، پھر بولا، “تو آج ذرا دیکھتے ہیں تمہاری وہ دہشت کتنی ہے۔”

اگلے ہی لمحے گینڈے نے اسے ایسا سبق سکھایا کہ سور کی ساری اکڑ زمین پر پڑی تھی اور اس کی آواز جنگل کے آخری درخت تک سنائی دے رہی تھی۔

تب جنگل کے ایک بوڑھے جانور نے کہا:

“شیر سور کی طاقت سے نہیں ڈرا تھا، اس کی بدبو سے دور رہا تھا۔ مگر سور نے اس فاصلے کو اپنی فتح سمجھ لیا۔”

پھر اس نے گہری بات کہی:

“یہی حال جہالت کا بھی ہے۔ بعض لوگ جب اہلِ علم کے سامنے اپنی بے بنیاد باتیں شروع کرتے ہیں اور اہلِ علم انہیں جواب دینے کے بجائے خاموشی اختیار کرتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے انہیں لاجواب کر دیا۔ انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ سامنے والا شکست کھا کر خاموش نہیں ہوا، بلکہ اس نے یہ سوچ کر خاموشی اختیار کی ہے کہ اس بحث میں دلیل سے زیادہ بدبو ہے، اور بدبو کا علاج دلیل سے نہیں، فاصلے سے کیا جاتا ہے۔”

حاصلِ سبق:
ہر خاموشی شکست نہیں ہوتی، اور ہر جواب نہ ملنا لاجوابی نہیں۔ کبھی اہلِ علم اس لیے خاموش رہتے ہیں کہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ سامنے والے کے پاس دلیل نہیں، صرف شور ہے۔ جاہل جب اپنے شور کے بعد خاموشی دیکھتا ہے تو اسے اپنی فتح محسوس ہوتی ہے، حالانکہ حقیقت میں اہلِ علم صرف اتنا کر رہے ہوتے ہیں کہ شیر کی طرح سور سے دور رہیں۔


Leave a Reply

NZ's Corner