بلاعنوان

بلاعنوان

ایک گھنا، خاموش اور خوبصورت جنگل تھا… جہاں سورج کی روشنی بھی درختوں کے پتوں سے چھن کر زمین پر سنہری دھبے بناتی تھی۔ اس جنگل میں ہر جانور اپنی زندگی میں مصروف تھا، مگر ایک عجیب سی اداسی فضا میں بسی ہوئی تھی۔
اس جنگل میں ایک ننھا ہرن رہتا تھا، جس کا نام “چاندو” تھا۔ چاندو باقی ہرنوں سے مختلف تھا۔ وہ نہ تو تیز دوڑ سکتا تھا اور نہ ہی زیادہ اونچا چھلانگ لگا سکتا تھا۔ اسی وجہ سے باقی جانور اکثر اس کا مذاق اڑاتے تھے۔
ایک دن جنگل میں شدید طوفان آیا۔ آسمان پر کالے بادل چھا گئے، تیز ہوائیں چلنے لگیں، اور بارش موسلا دھار برسنے لگی۔ درخت جڑوں سے ہلنے لگے، اور جانور خوف سے ادھر ادھر بھاگنے لگے۔
اسی ہنگامے میں ایک ننھا خرگوش، جو اپنی ماں سے بچھڑ گیا تھا، ایک گہرے گڑھے میں گر گیا۔ وہ زور زور سے مدد کے لیے پکارنے لگا، مگر طوفان کے شور میں کوئی اس کی آواز نہ سن سکا۔
چاندو نے دور سے خرگوش کی ہلکی سی چیخ سنی۔ وہ خود بھی ڈرا ہوا تھا، مگر اس کے دل میں ہمدردی جاگ اٹھی۔ وہ آہستہ آہستہ گڑھے کے پاس پہنچا۔ اس نے دیکھا کہ خرگوش باہر نہیں نکل سکتا۔
چاندو نے اپنی کمزور ٹانگوں کے باوجود ہمت کی۔ اس نے اپنے جسم کو گڑھے کے کنارے جھکایا اور خرگوش کو کہا، “تم میری پیٹھ پر چڑھ جاؤ، میں تمہیں باہر نکالنے کی کوشش کرتا ہوں۔”
خرگوش نے ڈرتے ڈرتے ایسا ہی کیا۔ چاندو پوری طاقت لگا کر پیچھے ہٹا… اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں… لیکن وہ ہار نہیں مانا۔
آخرکار، ایک لمحہ آیا… اور خرگوش باہر نکل آیا۔
طوفان تھم گیا۔ صبح کا سورج نکلا تو پورا جنگل اس واقعے سے باخبر ہو چکا تھا۔ وہی جانور جو پہلے چاندو کا مذاق اڑاتے تھے، آج اس کے سامنے سر جھکائے کھڑے تھے۔
بوڑھا ہاتھی آگے بڑھا اور بولا: “اصل طاقت جسم میں نہیں، دل میں ہوتی ہے… اور آج تم نے یہ ثابت کر دیا۔”
چاندو کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، مگر یہ خوشی کے آنسو تھے۔
اس دن کے بعد، جنگل کی فضا بدل گئی۔ جانور ایک دوسرے کا مذاق اڑانے کے بجائے ایک دوسرے کا سہارا بن گئے۔
اور چاندو… وہ اب کمزور نہیں تھا، کیونکہ اس نے سب سے بڑی طاقت پا لی تھی — محبت اور ہمت کی طاقت۔ 🌿
اصلاحی اور اخلاقی ناول اور کہانیاں کے لیے پروفائل پر وزٹ کریں اور اگر پسند ائے تو اس پیج کو فالو بھی کریں

Leave a Reply

NZ's Corner