ایک دن ملا نصر الدین کے پڑوسی کو کسی کام سے دوسرے گاؤں جانا تھا۔ وہ ملا کے گھر آیا اور بولا: “ملا جی! مجھے اپنی بیوی کو لانے دوسرے گاؤں جانا ہے، کیا آپ مجھے ایک دن کے لیے اپنا گدھا ادھار دے سکتے ہیں؟”
ملا نصر الدین اپنے گدھے سے بہت پیار کرتے تھے اور اسے کسی کو نہیں دینا چاہتے تھے۔ انہوں نے فوراً ایک بہانہ بنایا اور جھوٹ بولتے ہوئے کہا: “بھائی! میں تو تمہیں گدھا دے دیتا، لیکن میرا گدھا تو یہاں ہے ہی نہیں۔ میرا بیٹا اسے صبح ہی لکڑیاں لانے کے لیے جنگل لے گیا ہے۔”
پڑوسی مایوس ہو کر جانے ہی لگا تھا کہ اچانک گھر کے پیچھے بنے اصطبل سے گدھے کے زور زور سے ہینچنے (ڈھینچو ڈھینچو کرنے) کی آواز آئی۔
پڑوسی رک گیا اور غصے سے ملا کی طرف دیکھ کر بولا: “ملا جی! آپ مجھ سے جھوٹ بول رہے تھے؟ آپ کا گدھا تو گھر پر ہی ہے، سنیں وہ کیسی آوازیں نکال رہا ہے!”
ملا نصر الدین نے بالکل برا نہیں منایا۔ انہوں نے غصے سے پڑوسی کو دیکھا، اپنے سفید داڑھی پر ہاتھ پھیرا اور بڑے سنجیدہ لہجے میں بولے:
“سبحان اللہ! تم بھی عجیب انسان ہو۔ تم ایک پچاس سال کے سفید داڑھی والے انسان (مجھ) پر یقین نہیں کر رہے، اور ایک چار ٹانگوں والے گدھے کی بات پر یقین کر رہے ہو؟ جاؤ، میں ایسے بندے کو گدھا نہیں دیتا جو میری بات سے زیادہ گدھے کی گواہی کو سچ مانے!”
پڑوسی بیچارہ اپنا سا منہ لے کر رہ گیا اور ملا مسکراتے ہوئے اپنے گھر کے اندر چلے گئے۔
نتیجہ (Moral):
حاضر جوابی اور چلاکی سے انسان بعض اوقات اپنی بات منوا ہی لیتا ہے، چاہے وہ کتنی ہی غلط کیوں نہ ہو۔
😂😂
