قدیم زمانے کی بات ہے کہ ہندوستان کے ایک گھنے اور پُرفضائو جنگل میں ایک نہایت طاقتور، درندہ صفت اور ظالم شیر رہتا تھا، جس کا نام “چترنگ” تھا۔ چترنگ اتنا وحشی اور خونخوار تھا کہ وہ دن بھر بے دریغ شکار کرتا اور جنگل کے دوسرے جانوروں کو اپنے رعب سے خوفزدہ رکھتا تھا۔
جنگل کے تمام جانور، ہرن سے لے کر خرگوش تک، شیر کے ظلم سے تنگ آ کر پریشان ہو گئے۔ ان کی بستیوں میں کوئی امن و سکون باقی نہ رہا تھا۔ آخر کار انہوں نے ایک بڑی اور خطرناک مجلس منعقد کی۔ ہاتھی، گینڈا، بھیڑیا، لومڑی، سانبھر اور یہاں تک کہ چھوٹا سا بے بس خرگوش بھی اس اجلاس میں شریک ہوا۔
مجلس میں فیصلہ ہوا کہ جنگل کے تمام جانور مل کر شیر چترنگ کے پاس جائیں گے اور اسے امن کی درخواست پیش کریں گے۔ ان کا منصوبہ یہ تھا کہ ہر روز باری باری ایک جانور خود کو اس کی خدمت میں پیش کرے گا تاکہ شیر کو جنگل میں بھاگ دوڑ کر شکار کرنے کی زحمت نہ اٹھانی پڑے۔
یہ تجویز سب کو پسند آئی۔ وہ شیر کے پاس پہنچے اور اسے سمجھایا، “اے جنگل کے بادشاہ! آپ ہر روز ہمارا شکار کر کے بے جا تھک جاتے ہیں۔ ہماری تجویز ہے کہ ہر روز ایک جانور خود بخود آپ کی خدمت میں حاضر ہو جائے گا، تاکہ آپ کو شکار کے لیے بھٹکنے کی ضرورت نہ پڑے۔”
شیر چترنگ نے اس تجویز کو بڑی خوشی سے قبول کر لیا۔ وہ سمجھ گیا کہ اب اسے بغیر کسی مشقت کے روزانہ تازہ گوشت مل جائے گا۔ چنانچہ شیر نے معاملہ منظور کر لیا اور جانوروں کو اپنے پاس سے رخصت کر دیا۔
اب ہر روز ایک نئے جانور کی باری آتی۔ کبھی ہرن، کبھی بھینسا، کبھی جنگلی سور سب اپنی باری پر ڈرتے ہوئے شیر کے پاس جاتے اور اس کا نوالہ بن جاتے۔ یہ سلسلہ کئی مہینے جاری رہا۔
ایک دن خرگوش کی باری آئی۔ وہ ننھا، کمزور اور بے بس خرگوش ڈر کے مارے کانپ رہا تھا۔ اس کی باری تھی کہ وہ شیر کی بھوک مٹانے جائے، لیکن اس کے دماغ میں ایک چمک پیدا ہوئی۔ اس نے سوچا، “ہم سب کیوں شیر کے ظلم کے آگے گھٹنے ٹیک رہے ہیں؟ کیا واقعی شیر اتنا طاقتور ہے کہ اسے کوئی شکست نہیں دے سکتا؟”
اس نے سوچا کہ اگر وہ بھی اپنے سے پہلے جانوروں کی طرح شیر کے پاس جائے گا تو اس کا انجام بھی ان ہی جیسا ہو گا۔ لیکن وہ ایسا نہیں کرنا چاہتا تھا۔ چنانچہ اس نے ایک بہت ہی دانشمندانہ اور خطرناک منصوبہ بنایا۔
خرگوش نے پورے دن میں شیر کے پاس جانے کی بجائے دیر کردی۔ اس نے سوچا کہ شیر کو غصہ دلانے سے پہلے اس کی عقل سے کام لیا جائے۔ جب کافی دیر ہو گئی تو خرگوش آہستہ آہستہ شیر کے بل کی طرف بڑھا۔ اس نے دیکھا کہ شیر غصے سے اپنی ماند کے اندر پاؤں پٹ رہا تھا اور دانت پیس رہا تھا۔
جیسے ہی خرگوش نے شیر کے بل کے پاس قدم رکھا، شیر نے غضب ناک آواز میں کہا، “اے حقیر مخلوق! کیوں اتنی دیر لگائی؟ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ آج تمہاری باری تھی؟ مجھے شدید بھوک لگی ہے۔”
خرگوش نے کانپتے ہوئے لیکن پراعتماد انداز میں جواب دیا، “جنگل کے بادشاہ! معاف کیجئے گا، میں راستے میں ایک بہت بڑی مصیبت میں پھنس گیا تھا۔”
شیر نے غصے سے کہا، “مصیبت؟ کیسی مصیبت؟ بتاؤ ورنہ میں تمہیں اس وقت کھا جاؤں گا۔”
خرگوش نے کہا، “اے بادشاہ! جب میں آپ کی خدمت کی طرف آرہا تھا تو راستے میں ایک اور شیر ملا، جو بہت بڑا اور طاقتور تھا۔ اس نے مجھے روک لیا اور کہنے لگا کہ وہ اس جنگل کا اصل بادشاہ ہے اور تم ایک جھوٹے ہو۔ وہ تم سے لڑنا چاہتا ہے۔ اس نے مجھے آپ کو پیغام دیا ہے کہ اگر آپ میں ہمت ہے تو آ کر اس سے لڑیں۔”
یہ سن کر شیر چترنگ بہت غصے میں آ گیا۔ اس نے کہا، “کیا؟ میرے جنگل میں میرے علاوہ کوئی اور شیر؟ ناممکن! مجھے اس کی جگہ بتاؤ، میں ابھی جاتا ہوں اور اسے سبق سکھاتا ہوں۔”
خرگوش نے کہا، “حضور! وہ شیر اس گہرے کنوئیں میں رہتا ہے جو جنگل کے اس پار واقع ہے۔ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو وہاں لے چلوں۔”
شیر بڑے غصے میں خرگوش کے پیچھے ہو لیا۔ وہ اس کنوئیں تک پہنچے جہاں خرگوش نے بتایا تھا کہ دوسرا شیر رہتا ہے۔ کنواں بہت گہرا تھا اور اس کا پانی صاف اور شفاف تھا جیسے شیشہ۔ خرگوش نے شیر کو کنوئیں کے کنارے لا کر کھڑا کیا اور کہا، “اے بادشاہ! اندر دیکھیں، وہ شیر اس کنوئیں میں بیٹھا ہے اور آپ کو للکار رہا ہے۔”
شیر نے کنوئیں میں جھانکا تو اسے اپنا ہی عکس نظر آیا۔ اس نے سمجھا کہ یہ کوئی دوسرا شیر ہے جو اس کی طرف دیکھ رہا ہے اور منہ بنا رہا ہے۔ اس نے اپنے عکس پر غصے سے دہاڑا ماری تو عکس نے بھی منہ کھولا۔ شیر نے یہ دیکھ کر غصے سے کنوئیں میں چھلانگ لگا دی۔ وہ گہرے پانی میں جا گرا اور اس کی موت واقع ہو گئی۔
خرگوش نے یہ منظر دیکھ کر خوشی سے اچھل پڑا۔ وہ بھاگ کر جنگل کے دوسرے جانوروں کو یہ خوشخبری سنانے لگا، “شیر مر گیا! شیر مر گیا! اب ہم سب آزاد ہیں۔”
تمام جانور خوشی سے ناچنے لگے اور خرگوش کی عقل مندی کی تعریف کرنے لگے۔ اس دن کے بعد جنگل میں امن و سکون قائم ہو گیا اور کوئی ظالم کسی پر ظلم نہیں کر سکتا تھا۔
اخلاقی سبق: جب ظلم کی انتہا ہو جائے تو اس کا مقابلہ زور و طاقت سے نہیں، بلکہ عقل و دانش سے کیا جا سکتا ہے۔ کمزور بھی اپنی ذہانت سے بڑے سے بڑے ظالم کو شکست دے سکتا ہے۔
حوالہ: یہ کہانی مشہور عربی کتاب کلیلہ و دمنہ سے ماخوذ ہے، جو سنسکرت کی کتاب پنچ تنتر کا عربی ترجمہ ہے اور بعد میں اسے دنیا کی بہت سی زبانوں میں منتقل کیا گیا۔
