بلاعنوان

بلاعنوان

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک تاجر دور دراز شہروں میں قیمتی ریشم، خشک میوہ جات اور خوشبودار مصالحے فروخت کیا کرتا تھا۔ ایک دن وہ اپنے گھوڑے پر سامان لادے ایک گھنے جنگل سے گزر رہا تھا۔ دوپہر کی دھوپ کافی تیز تھی اور سفر کی تھکن نے اسے نڈھال کر دیا تھا۔
راستے میں ایک صاف و شفاف ندی بہتی نظر آئی۔
تاجر نے سوچا کہ کیوں نہ چند لمحے آرام کر لیا جائے۔
اس نے اپنا سامان ایک درخت کے نیچے رکھا اور پانی پینے کے لیے ندی کی طرف بڑھ گیا۔
چند منٹ بعد جب وہ واپس لوٹا تو اس کے ہوش اڑ گئے۔
اس کے قیمتی تھیلے، ریشم کی گٹھڑیاں اور مصالحوں کے ڈبے سب غائب تھے۔
صرف ایک چھوٹا سا تھیلا زمین پر پڑا تھا۔
تاجر پریشانی سے ادھر ادھر دیکھنے لگا۔
اسی دوران اسے اوپر سے قہقہوں کی آواز سنائی دی۔
اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو درختوں پر بندروں کی ایک پوری فوج بیٹھی ہوئی تھی۔

ہر بندر کے ہاتھ میں اس کے سامان کا کوئی نہ کوئی حصہ تھا۔ کوئی ریشم لپیٹے بیٹھا تھا، کوئی بادام کھا رہا تھا اور کوئی مصالحوں کی خوشبو سونگھ کر عجیب منہ بنا رہا تھا۔ پہلے تو تاجر گھبرا گیا، لیکن پھر اچانک اسے بچپن میں پڑھی ہوئی ایک مشہور کہانی یاد آ گئی۔
وہی کہانی جس میں بندر ٹوپیاں چرا لیتے ہیں اور تاجر اپنی ٹوپی زمین پر پھینک دیتا ہے، جسے دیکھ کر بندر بھی اپنی ٹوپیاں پھینک دیتے ہیں۔

تاجر کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔

اس نے سوچا: “آج میری مشکل بھی اسی طرح حل ہو جائے گی۔” اس نے زمین پر پڑا آخری تھیلا اٹھایا، اسے ہوا میں گھمایا اور زور سے نیچے پھینک دیا۔
پھر وہ انتظار کرنے لگا کہ بندر بھی اس کی نقل کریں گے۔

مگر ایسا کچھ نہ ہوا۔
بندروں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔

پھر ایک نوجوان بندر درخت چھلانگ لگائی، وہ تھیلا اٹھایا اور واپس اوپر جا کر اپنے بچے کے ہاتھ میں دے دیا۔
تاجر حیران رہ گیا۔

سب بندر اس کی طرف دیکھ کر ہنسنے لگے۔
آخر ایک بوڑھا بندر شاخ پر بیٹھا بولا:
“لگتا ہے تم نے وہ پرانی ٹوپیوں والی کہانی پڑھی ہوئی ہے۔”
تاجر حیرت سے بولا:
“ہاں، پڑھی تو ہے۔”
بوڑھا بندر مسکرایا اور بولا:
“اچھا، تو کیا تمہیں لگتا ہے کہ صرف تم نے ہی وہ کہانی پڑھی ہے؟”
تاجر حیران ہو کر بولا:
“کیا مطلب؟”
بوڑھے بندر نے ساتھ بیٹھے ایک نوجوان بندر کی طرف اشارہ کیا اور کہا:
“یہ میرے پوتے ہیں۔ پچھلے ہفتے ہی انہوں نے ‘ٹوپی فروش اور بندر’ والی کہانی پڑھی ہے۔”
پوتا بندر فوراً بولا:
“دادا جان! استاد نے تو یہ بھی بتایا تھا کہ اس کہانی کے بعد انسان ہمیشہ یہی چال چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔”
اب پورا درخت قہقہوں سے گونج اٹھا۔
بوڑھے بندر نے مسکراتے ہوئے کہا:
“بیٹا! پڑھنے کا فائدہ یہی ہوتا ہے کہ دوسروں کی غلطیوں سے سیکھا جائے۔ ہمارے پردادا شاید ٹوپیاں واپس پھینک دے تھے، مگر ہم نے ان کی غلطی کتابوں میں پڑھ لی ہے۔”
تاجر بے بسی سے بولا:
“تو اب میرا سامان کون واپس کرے گا؟”
بوڑھا بندر بولا:
“سامان تو مل جائے گا، لیکن آج کی فیس الگ ہوگی۔”
“کیسی فیس؟”
“یہ کہ آئندہ کسی کہانی کو پڑھ کر یہ نہ سمجھ لینا کہ باقی دنیا نے وہ نہیں پڑھی”
یہ کہہ کر بندروں نے ہنستے ہنستے اس کا سارا سامان نیچے پھینک دیا۔
تاجر سامان سمیٹتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ آج اسے تجارت سے زیادہ تعلیم کی قیمت سمجھ آئی ہے۔

اخلاقی سبق:

عقلمند وہ نہیں جو صرف اپنی زندگی کے تجربات سے سیکھے، بلکہ اصل عقلمند وہ ہے جو دوسروں کے تجربات، غلطیوں اور تاریخ کے اسباق سے بھی فائدہ اٹھائے۔ علم نسلوں کا نچوڑ ہوتا ہے، اور جو قومیں اپنے ماضی سے سیکھتی ہیں وہ ایک ہی غلطی بار بار نہیں دہراتیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner