بلاعنوان

بلاعنوان

عرب کے ایک وسیع صحرا میں، جہاں ریت کے ٹیلے سورج کی روشنی میں سونے کی طرح چمکتے تھے اور دور دور تک کھجوروں کے جھنڈ مسافروں کو امید دلاتے تھے، ایک بردبار اونٹ رہتا تھا۔
وہ ان اونٹوں میں سے تھا جو کم بولتے ہیں، زیادہ چلتے ہیں، اور دوسروں کی حماقتوں پر صرف مسکرا کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔
ایک دن وہ ایک دریا پار کرنے نکلا۔
یہ دریا صحرا کے درمیان ایک نیلی لکیر کی طرح بہتا تھا، اور مسافروں کے لیے نعمت بھی تھا اور امتحان بھی۔
اونٹ سکون سے پانی میں اترا اور لمبے لمبے قدم اٹھاتا ہوا آگے بڑھنے لگا۔
عظیم مہم جو چوہا
اسی دوران ایک ننھا سا چوہا کہیں سے دوڑتا ہوا آیا۔
اس نے دریا کو دیکھا، پھر اپنی مختصر ٹانگوں کو دیکھا، پھر اونٹ کو دیکھا۔
اور فوراً ایک فیصلہ کر لیا۔
بغیر اجازت لیے وہ اونٹ کی ٹانگ سے چڑھتا ہوا اس کی کوہان تک جا پہنچا۔
اونٹ نے گردن موڑ کر پوچھا:
“جناب، یہ کیا ہو رہا ہے؟”
چوہا بڑے اعتماد سے بولا:
“دریا پار کرنے جا رہا ہوں۔”
“اچھا! اپنی طاقت سے یا میری؟”
“سفر میں ذرائع نہیں، منزل اہم ہوتی ہے۔”
اونٹ نے زیرِ لب مسکرا کر سفر جاری رکھا۔
دریا کے بیچ میں
چند ہی دیر بعد وہ دریا کے وسط میں پہنچ گئے۔
پانی اونٹ کے گھٹنوں سے اوپر تھا، مگر ابھی بھی اس کے لیے معمولی بات تھی۔
چوہا اپنی جگہ بیٹھا ہوا تھا، جیسے کسی شاہی کشتی کا کپتان ہو۔
اچانک اس نے فخر سے اعلان کیا:
“واہ! دیکھو میں کیسا تیر رہا ہوں!”
اونٹ نے حیرانی سے پوچھا:
“تم تیر رہے ہو؟”
“بالکل!”
“مگر تم تو میری پیٹھ پر بیٹھے ہو۔”
چوہے نے ناک اونچی کی۔
“تم نیچے سے دیکھ رہے ہو، اس لیے حقیقت سمجھ نہیں پا رہے۔”
“حقیقت کیا ہے؟”
“پانی میرے بالوں کو چھو رہا ہے!”
اونٹ نے گردن گھما کر دیکھا۔
واقعی چوہے کی دم کے چند بال پانی کی بوندوں سے بھیگ رہے تھے۔
فلسفۂ چوہا
چوہا اب جوش میں آ چکا تھا۔
“دیکھا؟”
“کیا؟”
“یہی کہ میں بھی دریا عبور کر رہا ہوں۔”
اونٹ نے کہا:
“مگر تمہارا اور میرا کردار ایک جیسا نہیں۔”
چوہا فوراً بولا:
“کیوں نہیں؟”
“کیونکہ میں چل رہا ہوں۔”
“اور میں نگرانی کر رہا ہوں۔”
“کس چیز کی؟”
“سفر کی کامیابی کی!”
اونٹ نے سوچا کہ بعض مخلوقات کو دلیل سے نہیں، تجربے سے سمجھایا جاتا ہے۔
گہرا پانی
کچھ دور جا کر دریا اچانک گہرا ہو گیا۔
اونٹ نے ایک لمبا قدم اٹھایا اور نسبتاً گہرے حصے میں داخل ہو گیا۔
پانی اوپر آیا۔
اونٹ کے لیے یہ اب بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا۔
مگر چوہے کی دنیا بدل گئی۔
ایک لمحہ پہلے جو خود کو عظیم ملاح سمجھ رہا تھا، اگلے ہی لمحے پھسل کر پانی میں جا گرا۔
عظیم کپتان کی چیخ
چوہا ہاتھ پاؤں مارنے لگا۔
“بچاؤ!”
“ارے بچاؤ!”
“میں ڈوب گیا!”
اونٹ نے سکون سے پوچھا:
“آپ تو تیر رہے تھے؟”
“اب فلسفہ بعد میں کرنا!”
چوہا غوطے کھاتے ہوئے بولا۔
“پہلے جان بچاؤ!”
اونٹ نے ہنستے ہوئے اسے اپنے منہ سے پکڑا اور دوبارہ کوہان پر بٹھا دیا۔
چوہا کانپ رہا تھا اور اس کے سارے فلسفے دریا میں بہہ چکے تھے۔
حساب برابر
کچھ دیر بعد جب وہ کنارے کے قریب پہنچے تو اونٹ نے پوچھا:
“اب بتاؤ، دریا کون پار کر رہا تھا؟”
چوہا کچھ لمحے خاموش رہا۔
پھر اس نے اپنی فطری حاضر جوابی سے کام لیا۔
“ہم دونوں!”
اونٹ ہنس پڑا۔
“وہ کیسے؟”
چوہا بولا:
“تم بھیگ رہے تھے اور میں ڈوب رہا تھا۔”
“پھر؟”
“دونوں اپنی اپنی سطح پر مصروف تھے۔”
“یعنی؟”
“یعنی شراکت داری تھی!”
اونٹ اتنا ہنسا کہ اس کے قدموں کے گرد پانی چھلکنے لگا۔
کنارے پر دانش
جب دونوں کنارے پر پہنچے تو اونٹ نے چوہے کو آہستگی سے زمین پر اتارا۔
پھر محبت بھرے لہجے میں بولا:
“دوست، دوسروں کے کندھوں پر سفر کرنا کوئی برائی نہیں۔”
چوہے نے سر ہلایا۔
“مگر؟”
“مگر یہ بھول جانا کہ سفر کون کرا رہا ہے، بڑی برائی ہے۔”
چوہا شرمندہ سا مسکرایا۔
“بات تو درست ہے۔”
“اور یاد رکھو،”
اونٹ نے کہا،
“جو شخص اونچائی پر بیٹھ کر خود کو بڑا سمجھنے لگے، اسے کبھی کبھی پانی کی گہرائی بھی دکھا دینی چاہیے۔”
سبق
دوسروں کی محنت پر کھڑے ہو کر اپنی عظمت کے دعوے کرنا آسان ہے، مگر حقیقت کا ایک گہرا پانی اکثر ساری غلط فہمیاں بہا لے جاتا ہے۔
عقل مند وہ ہے جو مدد لینے پر شکر گزار رہے، نہ کہ اسے اپنی کامیابی سمجھ بیٹھے۔
اور عرب کے قصہ گو کہا کرتے تھے:
“جو چوہا اونٹ کی کوہان پر بیٹھ کر خود کو جہاز سمجھ لے، اسے ایک لہر ہی کافی ہوتی ہے۔”
#منقول

Leave a Reply

NZ's Corner