افریقہ کے ایک گرم اور سنہری میدانوں والے ملک میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا جس کی کنجوسی پورے خطے میں مشہور تھی۔
لوگ کہتے تھے کہ اگر اس کے ہاتھ سے ایک اشرفی گر جائے تو وہ اسے اٹھانے کے لیے اتنی دیر جھکے رہتا کہ سورج غروب ہو جائے۔
وہ خزانے جمع کرنے کا ایسا شوقین تھا کہ سونے کے سکوں کو رات کو گن کر سوتا اور صبح اٹھ کر دوبارہ گن لیتا، کہیں رات کے اندھیرے میں کوئی اشرفی کم نہ ہو گئی ہو۔
مگر دنیا میں ایک چیز ایسی ہے جو اکثر عقل مندوں کو بھی دھوکا دے دیتی ہے:
آسان منافع۔
جادوگر کی پیشکش
ایک دوپہر دربار میں ایک پراسرار جادوگر حاضر ہوا۔
اس کے کپڑے گرد آلود تھے، مگر آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی۔
اس نے جھک کر سلام کیا اور بولا:
“جہاں پناہ! میں ایک سودا کرنا چاہتا ہوں۔”
بادشاہ فوراً چونک گیا۔
“سودا؟ کتنے کا؟”
جادوگر مسکرایا۔
“دس ہزار اشرفیوں کا۔”
بادشاہ تقریباً تخت سے اٹھ کھڑا ہوا۔
“کیا بیچنا ہے؟”
جادوگر نے جواب دیا:
“آپ کا سایہ۔”
دربار میں خاموشی چھا گئی۔
وزیر نے سمجھا شاید اس نے غلط سنا ہے۔
“کیا کہا؟”
“بادشاہ کا سایہ۔”
بادشاہ نے حیرت سے زمین کی طرف دیکھا جہاں اس کا سایہ آرام سے اس کے قدموں کے ساتھ چپکا ہوا تھا۔
پھر ہنس کر بولا:
“یہ بھی کوئی چیز ہے؟”
جادوگر نے کندھے اچکائے۔
“میرے لیے ہے۔”
عظیم کاروبار
بادشاہ نے فوراً حساب لگایا۔
“سایہ کھاتا نہیں۔”
“نہیں۔”
“پیتا نہیں۔”
“نہیں۔”
“خزانہ نہیں مانگتا۔”
“بالکل نہیں۔”
“اور اس کے بدلے دس ہزار اشرفیاں ملیں گی؟”
“جی ہاں۔”
بادشاہ نے خوشی سے ہاتھ ملایا۔
“سودا منظور ہے!”
جادوگر نے ایک عجیب سا منتر پڑھا۔
ہوا کا ایک جھونکا آیا۔
اور اگلے ہی لمحے بادشاہ کا سایہ اس کے قدموں سے الگ ہو کر جادوگر کے تھیلے میں جا بیٹھا۔
جادوگر اشرفیاں دے کر رخصت ہو گیا۔
بادشاہ خوش تھا۔
اسے لگ رہا تھا کہ اس نے زندگی کا سب سے منافع بخش سودا کیا ہے۔
پہلی مصیبت
اگلے دن بادشاہ باغ میں چہل قدمی کے لیے نکلا۔
سورج آسمان پر پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔
چند ہی لمحوں بعد اسے عجیب بے چینی محسوس ہونے لگی۔
گرمی پہلے سے کہیں زیادہ لگ رہی تھی۔
وہ ایک درخت کے نیچے جا کھڑا ہوا۔
مگر سکون نہ ملا۔
وزیر نے پوچھا:
“حضور خیریت؟”
بادشاہ نے پسینہ پونچھتے ہوئے کہا:
“پتہ نہیں کیوں، آج سورج مجھ سے ذاتی دشمنی نبھا رہا ہے۔”
دوسری مصیبت
شام ہوئی۔
چاندنی رات اتری۔
بادشاہ محل کی چھت پر ٹہلنے نکلا۔
مگر اب اسے غیر معمولی ٹھنڈ محسوس ہونے لگی۔
ہوا کا ہر جھونکا ایسے لگتا تھا جیسے برف کا ٹکڑا جسم سے ٹکرا گیا ہو۔
وہ کانپنے لگا۔
“یہ کیا ماجرا ہے؟”
وزیر نے کچھ نہ کہا، مگر اس کی نظریں بار بار زمین کی طرف جا رہی تھیں۔
جہاں بادشاہ تھا، وہاں کوئی سایہ نہیں تھا۔
رعایا کا مذاق
چند دنوں بعد پورے شہر میں خبر پھیل گئی۔
“بادشاہ کا سایہ غائب ہو گیا!”
لوگ چھپ چھپ کر اسے دیکھنے لگے۔
بازاروں میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں۔
ایک بڑھیا نے دوسرے سے کہا:
“میں نے اپنی عمر میں بہت بادشاہ دیکھے ہیں، مگر بے سایہ بادشاہ پہلی بار دیکھا ہے۔”
ایک بچے نے پوچھا:
“اماں، کیا یہ بھوت ہے؟”
دوسرے بچے نے جواب دیا:
“نہیں، یہ شاید آدھا انسان ہے!”
آہستہ آہستہ لوگ اس کے پیچھے سرگوشیاں کرنے لگے:
“دیکھو، پریت جا رہا ہے!”
“اس کا سایہ کہاں گیا؟”
“شاید اس نے بھی ٹیکس سے بچنے کے لیے بھاگ لیا!”
بادشاہ کو یہ مذاق تیر کی طرح لگنے لگا۔
مہنگا سبق
آخر ایک دن اس نے حکم دیا:
“فوراً اس جادوگر کو ڈھونڈ کر لاؤ!”
کئی دنوں کی تلاش کے بعد جادوگر دربار میں پیش کیا گیا۔
بادشاہ نے بے صبری سے کہا:
“میرا سایہ واپس کرو!”
جادوگر مسکرایا۔
“ضرور۔”
“کتنے میں؟”
“دس ہزار اشرفیاں اور۔”
بادشاہ اچھل پڑا۔
“کیا؟”
“حضور، جب آپ نے بیچا تھا تو وہ آپ کے پاس تھا۔”
“اور اب؟”
“اب میرے پاس ہے، اس لیے قیمت بھی میری مرضی کی ہے۔”
وزیر نے آہستہ سے سر جھکا لیا۔
اسے معلوم تھا کہ اس بار بادشاہ کے پاس کوئی چارہ نہیں۔
چنانچہ مزید دس ہزار اشرفیاں دی گئیں۔
سایے کی واپسی
جادوگر نے تھیلا کھولا۔
ایک ہلکی سی سیاہ لہر زمین پر پھیلی۔
اور اگلے ہی لمحے بادشاہ کا سایہ دوڑتا ہوا آ کر اس کے قدموں سے لپٹ گیا، جیسے برسوں بعد گھر لوٹا ہو۔
اسی لمحے بادشاہ نے سکون کی ایک عجیب لہر محسوس کی۔
سورج اب پہلے جیسا لگ رہا تھا۔
چاندنی بھی نرم محسوس ہونے لگی۔
اور سب سے بڑھ کر، لوگ اسے دوبارہ انسان سمجھنے لگے تھے۔
بادشاہ کی دانش
اس رات بادشاہ دیر تک خاموش بیٹھا رہا۔
پھر اس نے وزیر سے کہا:
“آج میں نے ایک بڑی بات سیکھی ہے۔”
“کیا، حضور؟”
بادشاہ بولا:
“دنیا کی بعض چیزیں اس وقت تک بے قیمت لگتی ہیں جب تک وہ چھن نہ جائیں۔”
“اور بعض اوقات…”
وہ مسکرایا۔
“…ان کی اصل قیمت جاننے کے لیے دو بار قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔”
سبق
لالچ اکثر ہمیں ان چیزوں کا سودا کرنے پر آمادہ کر دیتا ہے جن کی حقیقی قدر ہم نہیں جانتے۔
جو نعمت ہمیشہ ہمارے ساتھ ہو، وہ معمولی محسوس ہونے لگتی ہے، مگر اس کی غیر موجودگی ہی اس کی اہمیت ظاہر کرتی ہے۔
#منقول
