کوریا کے ایک گاؤں میں ایک بہت بڑا شیر رہتا تھا۔ وہ بہت طاقتور اور خوفناک تھا، لیکن ایک چیز سے وہ بہت ڈرتا تھا املوک (persimmon)۔
یہ کیسے ممکن ہوا؟ اس کی کہانی کچھ یوں ہے کہ ایک سردیوں کی شام کو گاؤں میں ایک ماں اپنے روتے ہوئے بچے کو چپ کرانے کی کوشش کر رہی تھی۔ باہر برف پڑ رہی تھی اور ہوا میں سردی کا زور تھا۔ بچہ کسی بھی طرح خاموش نہیں ہو رہا تھا۔ ماں نے پہلے کہا، “چپ رہو، ورنہ شیر آ جائے گا!” لیکن بچہ روتا رہا۔
پھر ماں نے کہا، “دیکھو، املوک!” (املوک ایک پھل ہے جو کورین بچوں کو بہت پسند ہے)۔ بچہ فوراً خاموش ہو گیا۔
اتفاق سے یہ سب کچھ ایک شیر سن رہا تھا جو باہر دیوار کے پیچھے چھپا ہوا تھا۔ وہ اپنے پنجے چبھو چکا تھا اور گھر میں گھسنے ہی والا تھا کہ اس نے ماں کی یہ باتیں سنیں۔ وہ حیران رہ گیا۔ اس نے اپنے آپ سے کہا، “میں بہت بڑا اور طاقتور ہوں، تمام جانور مجھ سے ڈرتے ہیں، لیکن یہ بچہ ‘املوک’ سے ڈرتا ہے؟ املوک آخر ہے کیا؟”
شیر کے ذہن میں عجیب خوف پیدا ہو گیا۔ اس نے سوچا کہ شاید املوک کوئی بہت بڑا اور خوفناک عفریت ہے جو بچے کو بھی خاموش کر دیتا ہے۔
ڈر کے مارے شیر وہاں سے بھاگ نکلا۔ راستے میں اس کی ملاقات ایک چور سے ہوئی جو ایک بیل چرا کر لے جا رہا تھا۔ اندھیرے میں چور نے شیر کو دیکھ کر سمجھ لیا کہ یہ بیل ہے اور اس کی پیٹھ پر چھلانگ لگا دی۔
شیر نے محسوس کیا کہ اس کی پیٹھ پر کوئی بہت بھاری چیز آ گری ہے۔ اس نے سوچا کہ یہ وہی ‘املوک’ ہے جس سے بچہ ڈرتا تھا۔
دونوں خوفزدہ ہو گئے۔ چور بیل کی پیٹھ پر بیٹھا ہوا تھا اور شیر سمجھ رہا تھا کہ یہ املوک ہے۔ دونوں نے جان بچانے کے لیے دوڑ لگائی اور کبھی واپس نہیں آئے۔
اخلاقی سبق: ڈر اکثر غلط فہمی سے پیدا ہوتا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ کسی بھی چیز سے ڈرنے سے پہلے اسے سمجھنے کی کوشش کرے۔
حوالہ:
یہ کہانی کوریائی لوک ادب کی مشہور حکایت “The Tiger and the Persimmon” سے ماخوذ ہے۔
