بلاعنوان۔۔۔!

بلاعنوان۔۔۔!

ریگستان کا وعدہ

پرانے عرب کے ریگستان میں، جہاں دن آگ برساتا اور راتیں خاموشی اوڑھ لیتی تھیں، ایک قبیلہ آباد تھا جسے بنو سالم کہا جاتا تھا۔ اس قبیلے میں ایک نوجوان رہتا تھا، نام تھا نعمان۔ وہ بہادر تھا، تلوار چلانا جانتا تھا، مگر اس کی اصل پہچان اس کی امانت داری تھی۔
ایک دن قبیلے کے سردار نے نعمان کو بلا کر کہا۔
“اے نعمان، یہ سونے کے سکے ہیں۔ انہیں دوسرے قبیلے کے سردار تک پہنچانا ہے۔ راستہ طویل ہے، اور خطرات سے بھرا۔”

نعمان نے سکوں کی تھیلی تھامی، آنکھیں جھکائیں اور کہا۔
“اے سردار، جان چلی جائے تو جائے، مگر امانت میں خیانت نہیں ہوگی۔”

نعمان اپنے اونٹ پر روانہ ہوا۔ دن ڈھلنے لگا تو ریت کے ٹیلوں کے پیچھے سے ایک زخمی مسافر ملا۔ وہ پیاس سے نڈھال تھا۔ اس نے کانپتی آواز میں کہا۔

“اے مسافر، اگر پانی نہ ملا تو جان چلی جائے گی۔”
نعمان کے پاس پانی محدود تھا۔ اگر وہ دیتا تو خود خطرے میں پڑ سکتا تھا۔ پھر بھی اس نے مشکیزہ آگے بڑھایا۔ مسافر نے پانی پیا، جان میں جان آئی، مگر اس کی نگاہ نعمان کی تھیلی پر ٹھہر گئی۔

وہ مسافر دراصل ایک بدنام ڈاکو تھا۔ رات کی تاریکی میں اس نے نعمان پر حملہ کیا، اسے باندھ دیا اور تھیلی لے کر فرار ہو گیا۔
تین دن بعد وہ ڈاکو دوسرے قبیلے کے دروازے پر پہنچا۔ جب اس نے سکے پیش کیے تو سردار نے پوچھا۔
“یہ امانت کس نے دی؟”

ڈاکو نے غرور سے کہا۔

“میں نے چھین لی۔ ایک نعمان نامی شخص سے۔”
یہ سنتے ہی سردار کا چہرہ بدل گیا۔

“نعمان؟ وہی جس کی امانت داری کے قصے ریگستانوں میں مشہور ہیں؟”
سردار نے فوراً حکم دیا، ڈاکو کو قید کیا جائے، اور نعمان کو تلاش کیا جائے۔ نعمان کو نیم مردہ حالت میں ریت سے نکالا گیا۔ جب اسے
ہوش آیا تو اس نے پہلا سوال یہی کیا۔
“امانت… محفوظ ہے؟”

سردار نے سکوں کی تھیلی اس کے سامنے رکھ دی اور کہا۔

“اے نعمان، تم نے امانت بچانے کے لیے جان خطرے میں
ڈالی۔ آج تم نے ثابت کر دیا کہ اصل دولت سونا نہیں، کردار ہوتا ہے۔”

سبق

پرانے عرب میں دولت، طاقت اور تلوار سب کچھ نہیں سمجھے جاتے تھے، بلکہ وعدہ نبھانا، امانت کی حفاظت، اور کمزور کی مدد انسان کی اصل پہچان تھی۔ ریگستان کی ریت وقت کے ساتھ اڑ جاتی ہے، مگر کردار کی خوشبو صدیوں تک باقی رہتی ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner