ایک بادشاہ تھا، اس کا ایک پیر و مرشد تھا جن کے بے شمار مرید اور عقیدت مند تھے۔
ایک دن بادشاہ نے خوش ہو کر اپنے مرشد سے کہا:
آپ بہت خوش نصیب انسان ہیں، آپ کے ماننے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ گنی بھی نہیں جا سکتی۔
مرشد مسکرائے اور فرمانے لگے:
ان میں سے صرف ڈیڑھ آدمی ایسا ہے جو واقعی میرا سچا ماننے والا ہے، جو مجھ پر جان نچھاور کر سکتا ہے، باقی صرف نام کے مرید ہیں۔
بادشاہ یہ سن کر حیران رہ گیا اور عرض کیا:
پچاس ہزار میں سے صرف ڈیڑھ؟
مرشد نے فرمایا:
اگر ان کے نفس کا امتحان لیا جائے تو حقیقت سامنے آ جائے گی۔
چنانچہ ایک ٹیلے پر فوراً ایک جھونپڑی بنوائی گئی۔ مرشد نے اس جھونپڑی میں خفیہ طور پر دو بکرے باندھ دیے، کسی کو اس بات کا علم نہ تھا۔
پھر مرشد باہر آئے اور بلند آواز سے کہا:
کیا میرے مریدوں میں کوئی ایسا ہے جو مجھ پر سچی محبت رکھتا ہو؟ میری ہر بات دل کی گہرائی سے مانتا ہو؟ اچھے برے ہر حال میں میرا ساتھ دینے والا ہو؟ اگر کوئی ایسا ہے تو میرے پاس آئے۔
پچاس ہزار کے مجمع میں سے صرف ایک آدمی اٹھا اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا مرشد کے پاس پہنچ گیا۔
مرشد نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے جھونپڑی کے اندر لے جا کر خاموش کھڑا کر دیا۔ پھر ایک بکرے کو ذبح کیا اور خون آلود چھری لے کر باہر آئے اور فرمایا:
قربانی دینے والے شخص نے اپنی قربانی پیش کر دی ہے، میں اس سے پوری طرح مطمئن ہوں۔
یہ دیکھ کر لوگوں میں خوف اور حیرت پھیل گئی اور لوگ آہستہ آہستہ وہاں سے ہٹنے لگے، کچھ جوتیاں پہن کر اور کچھ جوتیاں چھوڑ کر بھاگ گئے۔
پھر مرشد نے دوبارہ آواز دی:
اگر کوئی اور ہے جو قربانی دینے کے لیے تیار ہو تو آگے آئے، کیونکہ یہ نفس کا امتحان ہے۔
مجمع میں مکمل خاموشی چھا گئی، کوئی آگے نہ بڑھا۔
اسی دوران ایک عورت کھڑی ہوئی اور بولی:
اے آقا! میں تیار ہوں۔
مرشد نے اسے بھی جھونپڑی کے اندر لے جا کر کھڑا کر دیا اور دوسرا بکرا ذبح کیا۔
جب یہ سب ہو گیا تو بادشاہ نے عرض کیا:
آپ درست فرماتے تھے، واقعی آپ کے ماننے والوں میں صرف ڈیڑھ شخص ہی سچا نکلا۔
بادشاہ نے کہا:
وہ مرد پورا تھا اور عورت آدھی۔
مرشد مسکرائے اور فرمایا:
نہیں بادشاہ سلامت! وہ مرد آدھا تھا اور عورت پوری تھی۔
کیونکہ مرد نے کوئی منظر نہیں دیکھا تھا، لیکن اس خاتون نے سب کچھ دیکھنے کے باوجود بھی قربانی کے لیے قدم بڑھایا۔
اسی لیے میں نے کہا تھا کہ میرے ماننے والوں میں صرف ڈیڑھ شخص ہے، باقی سب اپنے نفس کے بندے ہیں۔
سبق:
1. سچی محبت دعووں سے نہیں، امتحان سے ثابت ہوتی ہے۔
اکثر لوگ زبان سے وفاداری، عقیدت اور محبت کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں، مگر جب وقتِ آزمائش آتا ہے تو وہی لوگ سب سے پہلے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔
2. نفس انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے۔
زیادہ تر لوگ مرشد یا کسی نظریے کے نہیں، بلکہ اپنے نفس کے تابع ہوتے ہیں۔ جب کوئی بات ان کے مفاد، خوف یا آرام کے خلاف جائے تو وہ فوراً بدل جاتے ہیں۔
3. ہمت اور یقین کم لوگوں میں ہوتا ہے۔
پچاس ہزار کے مجمع میں سے صرف ایک مرد اور ایک عورت کا آگے آنا اس بات کی علامت ہے کہ سچی جرات اور یقین ہمیشہ اقلیت میں ہوتا ہے۔
4. اصل بہادری وہ ہے جو خوف کے باوجود قائم رہے۔
عورت کو حقیقت نظر آ چکی تھی، اس کے باوجود اس کا آگے بڑھنا اس کی اعلیٰ ترین ہمت اور یقین کو ظاہر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مرشد نے اسے “پورا” کہا۔
5. اندھا یقین اور شعوری یقین میں فرق ہوتا ہے۔
مرد کا قدم اٹھانا ایک طرح سے لاعلمی میں تھا، جبکہ عورت نے سب کچھ دیکھ کر فیصلہ کیا۔ اس لیے اس کا یقین زیادہ مضبوط اور قیمتی تھا۔
6. ہر مجمع سچا نہیں ہوتا۔
بڑی تعداد میں لوگوں کا ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ سب مخلص یا سچے ہیں۔ حقیقت میں سچے لوگ ہمیشہ کم ہوتے ہیں۔
