ایک دفعہ ملا نصر الدین کو شہر کے ایک بہت بڑے امیر آدمی نے کھانے کی دعوت دی۔ ملا اس وقت اپنے کھیتوں میں کام کر رہے تھے، اس لیے وہ اسی پرانے اور پیوند لگے ہوئے لباس میں سیدھے دعوت پر چلے گئے۔
جب وہ امیر آدمی کے دروازے پر پہنچے، تو دربان نے ان کے میلے کچیلے کپڑے دیکھ کر انہیں پہچاننے سے انکار کر دیا اور بڑی بدتمیزی سے دھکے دے کر باہر نکال دیا کہ “تم جیسے فقیروں کا یہاں کیا کام؟”
ملا خاموشی سے وہاں سے چلے گئے، گھر پہنچے، غسل کیا اور اپنا بہترین زرق برق ریشمی جبہ پہنا، سر پر بڑی سی پگڑی سجائی اور دوبارہ اسی محفل میں پہنچے۔ اس بار دربانوں نے انہیں جھک کر سلام کیا اور بڑی عزت کے ساتھ اندر لے گئے۔
جب ملا نے کھانے کو مخاطب کیا
میزبان نے ملا کو سب سے اونچی نشست پر بٹھایا اور ان کے سامنے لذیذ کھانے چن دیے۔ سب کی نظریں ملا پر تھیں، لیکن ملا نے ایک عجیب کام شروع کر دیا۔ انہوں نے سالن کا چمچہ اٹھایا اور اپنے قیمتی لباس کی آستین پر ڈالتے ہوئے بولے:
“کھاؤ میرے پیارے جبے، یہ لذیذ کھانا کھاؤ!”
پھر انہوں نے کباب کا ٹکڑا اٹھا کر اپنی پگڑی کے کونے سے لگایا اور کہا:
“تمہارا بھی حق ہے، تم بھی کھاؤ!”
سب حیران رہ گئے!
تمام مہمان اور خود میزبان یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ میزبان نے گھبرا کر پوچھا: “ملا صاحب! یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ کیا آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟ بھلا لباس بھی کہیں کھانا کھاتا ہے؟”
ملا نصر الدین نے مسکرا کر جواب دیا:
“محترم میزبان! جب میں تھوڑی دیر پہلے اپنے پرانے کپڑوں میں آیا تھا، تو مجھے اندر آنے کی اجازت بھی نہیں ملی۔ اب جب میں نے یہ قیمتی لباس پہنا ہے، تو مجھے بہترین کھانا پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ دعوت میرے لیے نہیں، بلکہ میرے ان کپڑوں کے لیے ہے۔ اس لیے میں انہیں ان کا حصہ کھلا رہا ہوں!”
سبق: انسان کی قدر اس کے کردار سے ہونی چاہیے، نہ کہ اس کے ظاہر اور لباس سے۔
