ایک دفعہ ایک بوڑھی عورت شہر کے سب سے بڑے بینک میں گئی۔ وہاں جا کر اس نے بینک مینیجر سے کہا:
“میں اپنے اکاؤنٹ میں کچھ پیسے جمع کروانا چاہتی ہوں۔”
مینیجر نے پوچھا:
“کتنے پیسے ہیں؟”
بوڑھی عورت نے جواب دیا:
“تقریباً دس لاکھ روپے ہیں۔”
مینیجر حیران ہو کر بولا:
“واہ! تمہارے پاس تو بہت پیسے ہیں، تم کیا کام کرتی ہو؟”
بوڑھی عورت نے کہا:
“میں شرطیں لگاتی ہوں۔”
مینیجر نے کہا:
“واہ! شرطیں لگا لگا کر اتنے پیسے جمع کر لیے؟”
بوڑھی عورت بولی:
“جی ہاں۔ اگر یقین نہیں تو تم میرے ساتھ ایک لاکھ روپے کی شرط لگا لو۔ مجھے لگتا ہے تم نے وِگ (نقلی بال) لگائی ہوئی ہے۔”
مینیجر فوراً بولا:
“نہیں، یہ میرے اصلی بال ہیں، میں ابھی جوان ہوں!”
بوڑھی عورت نے کہا:
“چلو پھر ایک لاکھ کی شرط لگا لو۔”
مینیجر نے دل میں سوچا کہ بوڑھی عورت پاگل ہو گئی ہے، ویسے ہی ایک لاکھ روپے ہار جائے گی۔ اس نے کہا:
“ٹھیک ہے، میں شرط مان لیتا ہوں۔”
بوڑھی عورت نے کہا:
“چونکہ ایک لاکھ روپے کی شرط ہے، اس لیے میں کل اپنے وکیل کو بھی ساتھ لاؤں گی تاکہ سب کچھ اس کے سامنے ہو اور بعد میں کوئی مُکر نہ سکے۔”
رات کو مینیجر کو نیند نہیں آئی۔ وہ ساری رات اسی شرط اور پیسوں کے بارے میں سوچتا رہا۔
اگلی صبح مینیجر بینک پہنچا تو بوڑھی عورت اپنے وکیل کے ساتھ آ گئی۔ تینوں آمنے سامنے بیٹھ گئے۔
بوڑھی عورت نے پوچھا:
“کیا تم تیار ہو؟”
مینیجر بولا:
“جی ہاں، میں تیار ہوں۔”
بوڑھی عورت نے کہا:
“تسلی کے لیے میں تمہارے بال نوچ کر دیکھنا چاہتی ہوں، کیونکہ ایک لاکھ روپے کا سوال ہے۔”
مینیجر نے کہا:
“ٹھیک ہے، دیکھ لو۔”
بوڑھی عورت نے اس کے بال نوچ کر دیکھنے شروع کر دیے۔ اتنے میں وکیل اپنا سر دیوار سے ٹکرانے لگا۔
مینیجر نے حیران ہو کر پوچھا:
“آپ کو کیا ہوا؟”
وکیل بولا:
“اس بوڑھی عورت نے میرے ساتھ پانچ لاکھ روپے کی شرط لگائی تھی کہ کل میں شہر کے سب سے بڑے بینک کے مینیجر کے بال نوچوں گی۔ اب میں شرط ہار گیا ہوں!”
