بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

خان بھائی پہلی بار عرب ملک میں کیا۔ ائیر پورٹ سے ٹیکسی پکڑی اور منزل کی طرف روانہ ہوا۔ نیا ملک، نئی زبان اور اردگرد ہر طرف عربی بولنے والے لوگ… خان بھائی کے لیے یہ سب کچھ بالکل نیا اور دلچسپ تھا۔ وہ کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے اونچی عمارتیں، روشن سڑکیں اور مصروف بازار دیکھ کر دل ہی دل میں حیران بھی ہو رہے تھے اور خوش بھی۔

راستے میں عربی ٹیکسی ڈرائیور نے ایک دو باتیں کیں۔ خان بھائی کو عربی تو آتی نہیں تھی، مگر عزت بچانے کے لیے انہوں نے بڑے اعتماد سے جواب میں سورۂ فاتحہ سنادی۔ ڈرائیور بھی خاموشی سے سنتا رہا اور گاڑی چلاتا رہا۔

آخر کار جب منزل کے پاس پہنچے تو خان بھائی سوچنے لگے کہ ٹیکسی ڈرائیور کو روکنے کی ” عربی ” کیا ہو سکتی ہے۔ دل میں کئی لفظ آئے مگر کوئی بھی یقین کے ساتھ زبان پر نہ آ سکا۔

خان بھائی نے سوچنا شروع کر دیا عمرانیات۔

کم بخت کوئی مناسب لفظ سمجھ نہ آرہا تھا۔ ادھر ٹیکسی بھی آہستہ آہستہ منزل کے قریب پہنچتی جا رہی تھی اور خان بھائی کے دماغ کی گاڑی بھی تیزی سے دوڑ رہی تھی، مگر عربی کا بریک والا لفظ ہاتھ نہیں آ رہا تھا۔

آخر کار جب عربی یاد نہ آئی تو خان بھائی نے فٹافٹ ٹیکسی ڈرائیور کے کندھے پر ہاتھ رکھا…

اور بولا

” یا شیخ – صدق الله العظيم ” 😂

#منقول

Leave a Reply

NZ's Corner