بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

ایک چھوٹے سے گاؤں کے قریب ایک چھوٹا تالاب تھا۔ اس تالاب میں کئی مینڈک رہتے تھے، اور اکثر تالاب کے کنارے چھوٹے کیچڑ میں چھپ کر آرام کرتے تھے۔

ایک دن ایک سانپ وہاں آیا۔ سانپ بھوکا تھا اور تالاب کے مینڈکوں کو شکار بنانے کا ارادہ رکھتا تھا۔ اس نے ایک مینڈک کی طرف آہستہ آہستہ رینگتے ہوئے کہا:

“مینڈک بھائی! ڈرو نہیں، میں تمہیں نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔ تمھیں باہر لے چلوں گا تاکہ تمہیں زیادہ اچھا اور محفوظ مقام ملے۔”

مینڈک نے سانپ کی باتوں پر شک کیا، لیکن اس نے سوچا کہ شاید سانپ سچا ہو۔ وہ آہستہ آہستہ اپنی کرخت جلد کے ساتھ کنارے کی طرف آیا۔

جیسے ہی مینڈک سانپ کے قریب پہنچا، سانپ نے اچانک اسے پکڑ لیا اور کھانے کی تیاری کرنے لگا۔

لیکن مینڈک ہوشیار تھا۔ اس نے اپنی کرخت جلد کا فائدہ اٹھایا، اچانک جھٹکا دیا اور سانپ کی گرفت سے چھٹکارا پا گیا۔

مینڈک فوراً تالاب میں چھلانگ لگا کر پانی میں غوطہ دے کر چھپ گیا، اور سانپ خالی ہاتھ رہ گیا۔

مینڈک نے تالاب میں بیٹھ کر سوچا:

“اگر میں ہوشیار نہ ہوتا اور اپنی قدرتی خصوصیات کو استعمال نہ کرتا، تو شاید آج میری زندگی کا خاتمہ ہو گیا ہوتا۔”

سانپ نے بھی یہ سبق سیکھا کہ صرف جسمانی طاقت کافی نہیں ہوتی، بلکہ شکار کے دوران ہوشیاری اور چالاکی بھی ضروری ہے۔

اخلاقی سبق

  1. ہوشیاری اور اپنی قدرتی صلاحیتوں کا استعمال زندگی بچانے میں مددگار ہوتا ہے۔
  2. ظاہر کے دھوکے اور وعدے ہمیشہ سچ نہیں ہوتے، سوچ سمجھ کر قدم اٹھائیں۔
  3. کمزور یا چھوٹے جانور بھی اپنی چالاکی سے خطرے کو ٹال سکتے ہیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner