بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

سلطان صلاح الدین ایوبی عدل و انصاف اور دانائی کے لیے پوری دنیا میں مشہور تھے۔ ایک دن وہ اپنے چند سپاہیوں کے ساتھ شہر کا جائزہ لینے نکلے ہوئے تھے۔ راستے میں وہ ایک پرانے کنویں کے پاس سے گزرے تو انہوں نے دیکھا کہ وہاں بہت زیادہ بھیڑ لگی ہوئی ہے۔ لوگ قطاروں میں کھڑے تھے اور کچھ لوگ مٹکے اور مشکیزے بھر کر لے جا رہے تھے۔
سلطان کو حیرت ہوئی کہ آخر ایک عام سے کنویں پر اتنی بھیڑ کیوں ہے۔ انہوں نے اپنے ایک سپاہی کو حکم دیا کہ جا کر معلوم کرے کہ معاملہ کیا ہے۔ سپاہی واپس آیا اور عرض کیا،
“حضور! یہ کنواں ایک شخص کی ملکیت ہے اور اس کا پانی بہت میٹھا ہے۔ لوگ دور دور سے یہاں آتے ہیں اور اس شخص سے پانی خرید کر لے جاتے ہیں۔”
سلطان یہ سن کر مزید حیران ہوئے۔ انہوں نے سوچا کہ اللہ کی دی ہوئی نعمت یعنی پانی کو کوئی شخص بیچ کیسے سکتا ہے۔ مگر انہوں نے اس وقت کچھ نہ کہا اور خاموشی سے محل واپس آ گئے۔
محل پہنچ کر بھی سلطان کے ذہن میں وہی بات گردش کرتی رہی۔ انہوں نے اپنے مشیران سے مشورہ کیا مگر کسی کے پاس کوئی واضح جواب نہ تھا۔ اسی دوران ایک پرانا سپاہی آگے بڑھا اور ادب سے بولا،
“حضور! مجھے شک ہے کہ اس کنویں میں کوئی راز چھپا ہوا ہے۔ اگر اجازت ہو تو اس کی تحقیق کی جائے۔”
یہ بات سن کر سلطان کے دل میں تجسس مزید بڑھ گیا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ خود حقیقت جانیں گے، مگر کسی کو خبر نہ ہو۔ اسی رات انہوں نے عام آدمی کا بھیس بدلا، سادہ کپڑے پہنے اور چند قابل اعتماد سپاہیوں کے ساتھ خاموشی سے شہر کی طرف روانہ ہو گئے۔
رات گہری تھی اور شہر کے بیشتر لوگ سو چکے تھے۔ جب سلطان اس کنویں کے پاس پہنچے تو وہاں سناٹا تھا۔ کنویں کا مالک بھی اپنے گھر جا چکا تھا۔ سلطان نے اپنے سپاہیوں سے کہا کہ رسی اور چراغ لے آئیں۔
کچھ دیر بعد سلطان خود رسی کے ذریعے کنویں کے اندر اترنے لگے۔ جیسے جیسے وہ نیچے جا رہے تھے، ٹھنڈی ہوا اور پانی کی نمی محسوس ہو رہی تھی۔ جب وہ نیچے پہنچے تو چراغ کی روشنی میں انہوں نے غور سے اردگرد دیکھا۔
اچانک سلطان کی نظر ایک عجیب چیز پر پڑی۔
کنویں کی دیوار کے ساتھ ایک چھوٹا سا سوراخ تھا جس سے مسلسل پانی بہہ کر کنویں میں آ رہا تھا۔ سلطان نے چراغ قریب کر کے دیکھا تو انہیں حیرت ہوئی کہ یہ پانی کسی قدرتی چشمے سے آ رہا تھا جو زمین کے اندر سے نکل رہا تھا۔
مگر اصل حیرت ابھی باقی تھی۔
جب سلطان نے مزید غور کیا تو دیکھا کہ اس سوراخ کے قریب مٹی میں کچھ چمک رہا ہے۔ انہوں نے ہاتھ بڑھا کر اسے نکالا تو وہ ایک چمکتا ہوا پتھر تھا۔ چراغ کی روشنی میں وہ پتھر موتی کی طرح چمک رہا تھا۔
سلطان نے حیرت سے کہا،
“یہ تو اللہ کی بڑی عجیب نشانی ہے۔”
مزید کھدائی کرنے پر معلوم ہوا کہ وہاں کئی چھوٹے چھوٹے قیمتی پتھر موجود تھے جو پانی کے ساتھ چمک پیدا کر رہے تھے اور شاید اسی وجہ سے پانی میں ایک خاص مٹھاس اور ٹھنڈک محسوس ہوتی تھی۔
سلطان نے اوپر کھڑے سپاہیوں کو آواز دی اور کہا کہ وہ بھی نیچے آئیں۔ جب سب نے یہ منظر دیکھا تو سب حیران رہ گئے۔
سلطان کچھ دیر خاموش کھڑے رہے۔ پھر انہوں نے آہستہ سے کہا،
“یہ اللہ کی نعمت ہے اور اس پر کسی ایک شخص کا حق نہیں ہو سکتا۔”
اگلی صبح سلطان نے دربار لگایا اور اس کنویں کے مالک کو بلایا گیا۔ وہ شخص گھبرا کر دربار میں حاضر ہوا۔
سلطان نے نرمی سے پوچھا،
“ہم نے سنا ہے کہ تم اس کنویں کا پانی لوگوں کو بیچتے ہو۔ کیا یہ سچ ہے؟”
وہ شخص ڈرتے ہوئے بولا،
“جی حضور، یہ میرا کنواں ہے اور میں ہی اس کی دیکھ بھال کرتا ہوں، اس لیے پانی بیچتا ہوں۔”
سلطان نے مسکرا کر کہا،
“کنواں تمہاری زمین پر ضرور ہے، مگر اس کا پانی اللہ کی نعمت ہے جو سب کے لیے ہے۔ اسے بیچنا مناسب نہیں۔”
پھر سلطان نے حکم دیا کہ اس کنویں کو عوام کے لیے مفت کر دیا جائے تاکہ ہر مسافر اور ہر غریب آدمی بغیر پیسے کے پانی لے سکے۔
ساتھ ہی سلطان نے اس شخص کو سزا دینے کے بجائے اس کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے خزانے سے اسے کچھ رقم دی اور کہا،
“یہ رقم اس لیے ہے کہ تم کنویں کی حفاظت اور صفائی کرتے رہو تاکہ لوگ ہمیشہ صاف اور میٹھا پانی حاصل کر سکیں۔”
یہ سن کر وہ شخص سلطان کے قدموں میں گر گیا اور بولا،
“حضور! میں نے لالچ میں آ کر غلطی کی۔ آج سے یہ کنواں اللہ کی مخلوق کے لیے وقف ہے۔”
جلد ہی یہ خبر پورے شہر میں پھیل گئی کہ سلطان صلاح الدین ایوبی نے ایک کنویں کو عوام کے لیے مفت کر دیا ہے۔ لوگ سلطان کی انصاف پسندی اور رحم دلی کی مثالیں دینے لگے۔
مسافر دور دور سے آتے اور اس کنویں کا پانی پیتے۔ ہر کوئی سلطان کے لیے دعائیں کرتا۔
سلطان اکثر کہا کرتے تھے،
“حکمران وہی اچھا ہے جو اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو بندوں تک پہنچائے، نہ کہ ان پر پہرے بٹھائے۔”
اس واقعے کے بعد شہر کے لوگوں کے دلوں میں سلطان کی عزت اور بھی بڑھ گئی۔ اور وہ کنواں آج بھی لوگوں کے لیے سخاوت، انصاف اور اللہ کی نعمت کی ایک خوبصورت یادگار بن گیا۔

Leave a Reply

NZ's Corner