شہر کے درمیان میں ایک اونچے ستون پر خوش راجکمار کا مجسمہ کھڑا تھا۔ وہ بالکل سونے کا بنا ہوا تھا، اس کی آنکھوں کی جگہ دو نیلم جڑے ہوئے تھے، اور اس کی تلوار کے قبضے پر ایک بہت بڑا سرخ یاقوت جڑا ہوا تھا۔
یہ مجسمہ بہت خوبصورت تھا۔ ہر کوئی اسے دیکھ کر حیران رہ جاتا تھا۔
شہر کے ایک بوڑھے کونسلر نے کہا: “وہ ہوا کے جھونکے کی طرح خوبصورت ہے۔”
لیکن دوسرے کونسلر، جو ہمیشہ اپنی اہمیت جتانا چاہتے تھے، نے کہا: “وہ اتنا خوبصورت نہیں جتنا کہ مفید ہے۔” اور اس نے اپنی بات ثابت کرنے کے لیے ایک اور چیز بھی کہی جو کوئی نہیں سمجھ سکا، لیکن وہ خود اس سے بہت خوش تھا۔
“تمہیں ہمیشہ اپنی اہمیت جتانے کا طریقہ آتا ہے،” بوڑھے کونسلر نے کہا۔
رات کے وقت، جب شہر میں سناٹا چھا جاتا تھا، ایک چھوٹا سا نگل پرندہ شہر کے اوپر سے گزر رہا تھا۔ اس کے دوست مہینوں پہلے مصر چلے گئے تھے، لیکن یہ ایک خوبصورت سرکنڈے سے محبت کر بیٹھا تھا جس کے ساتھ اس نے گرمیوں میں اڑان بھری تھی۔ جب سردیوں کے موسم نے سب کچھ بدل دیا تو اسے اکیلا ہی سفر کرنا پڑا۔
وہ بہت تھکا ہوا تھا اور آرام کرنا چاہتا تھا۔ اس نے خوش راجکمار کے مجسمے کے پاؤں کے پاس بیٹھنے کا سوچا۔
لیکن جیسے ہی اس نے وہاں بیٹھنے کی کوشش کی، اس پر پانی کے قطرے گرنے لگے۔
“عجب! آسمان صاف ہے، پھر بارش کیسے؟” اس نے سوچا۔
پھر اس نے اوپر دیکھا تو اس کی آنکھیں حیرت سے پھٹ گئیں۔ راجکمار کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
نگل نے پوچھا: “آپ کیوں رو رہے ہیں؟ آپ تو سونے کے بنے ہیں، آپ کو تو کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔”
راجکمار بولا: “جب میں زندہ تھا، جب میرے پاس انسان کا دل تھا، میں خوش راجکمار تھا۔ میں نے کبھی غم نہیں دیکھا۔ میں ایک ایسے محل میں رہتا تھا جہاں غم کا داخلہ منع تھا۔ میرے محل کے باہر کیا ہوتا تھا، میں نہیں جانتا تھا۔ میں ایک ایسی دیوار میں رہتا تھا جسے ‘خوشی کا باغ’ کہا جاتا تھا۔ میں نہیں جانتا تھا کہ آنسو کیا ہوتے ہیں۔
لیکن اب جب میں مر گیا ہوں اور مجھے یہاں اتنا اونچا کھڑا کیا گیا ہے، تو میں اپنے شہر کا ہر دکھ دیکھ سکتا ہوں۔ میرا دل تو سیسے کا بنا ہے، لیکن پھر بھی روئے بغیر نہیں رہ سکتا۔”
پھر اس نے نگل سے کہا: “دیکھو، وہاں اس گلی میں ایک غریب عورت رہتی ہے۔ اس کا بچہ بیمار ہے اور پانی مانگ رہا ہے، لیکن اس کے پاس پیسے نہیں ہیں کہ اسے کچھ دودھ لا کر دے سکے۔ نگل، میری تلوار پر جو یاقوت ہے، اسے نکال کر اس عورت کے پاس لے جا۔”
نگل نے کہا: “لیکن میں نے تو مصر جانا ہے۔ میرے دوست وہاں میرا انتظار کر رہے ہیں۔ وہ نیل دریا پر اڑ رہے ہیں اور بڑے بادشاہ کے مقبرے پر بیٹھے باتیں کر رہے ہیں۔ وہاں ہر طرف سونا اور چاندی چمکتا ہے۔”
راجکمار نے پھر درخواست کی۔ اس کی آنکھوں میں اتنی اداسی تھی کہ نگل راضی ہو گیا۔
اس نے وہ یاقوت نکالا اور اس عورت کے گھر میں رکھ دیا۔ عورت سو رہی تھی، اسے پتہ نہیں چلا۔ لیکن صبح جب وہ اٹھی تو اس کی آنکھوں پر یقین نہیں آیا۔ اس کے پاس اتنا پیسہ تھا کہ وہ اپنے بچے کا علاج کروا سکتی تھی۔
اگلی رات راجکمار نے پھر نگل کو پکارا۔
“دیکھو، وہاں اس اٹاری میں ایک نوجوان لڑکا رہتا ہے۔ وہ بہت غریب ہے اور ڈرامہ لکھ رہا ہے۔ سردی میں اس کے پاس جلانے کو لکڑی نہیں ہے اور وہ بھوکا بھی ہے۔ وہ بہت کمزور ہو گیا ہے، اس کے ہونٹ نیلے پڑ گئے ہیں۔ میری آنکھ کا نیلم نکال کر اس کے پاس لے جا۔”
نگل نے کہا: “لیکن اس سے آپ اندھے ہو جائیں گے۔”
راجکمار بولا: “کوئی بات نہیں۔ جاؤ۔”
نگل نے وہ نیلم نکالا اور اس نوجوان کے پاس رکھ دیا۔ نوجوان خوش ہو گیا۔ اس کے پاس اب اتنا پیسہ تھا کہ وہ اپنا ڈرامہ مکمل کر سکتا تھا۔
تیسری رات راجکمار نے کہا: “اب میری دوسری آنکھ کا نیلم نکالو اور اس چھوٹی بچی کے پاس لے جاؤ جو بازار میں ماچس بیچ رہی ہے۔ اس کی ماچس گر گئی ہے اور اگر وہ پیسے نہ لائی تو اس کا باپ اسے مارے گا۔ وہ بہت ڈر گئی ہے، اس کے کپڑے پھٹے ہوئے ہیں، اس کے پاؤں ننگے ہیں۔ جاؤ، اس کی مدد کرو۔”
نگل نے پھر اعتراض کیا: “لیکن اس سے آپ بالکل اندھے ہو جائیں گے۔”
راجکمار مسکرایا: “جاؤ، میرے بھائی۔”
نگل نے وہ نیلم نکال کر بچی کی ہتھیلی میں رکھ دیا۔ بچی کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
اب راجکمار اندھا تھا۔ وہ کچھ نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اس نے نگل سے کہا: “اب تم مجھے بتاؤ کہ شہر میں کیا ہو رہا ہے۔”
نگل نے بتایا: “یہاں ایک بھکاری ہے، وہاں ایک بیمار بچہ ہے، ادھر ایک ماں رو رہی ہے…”
راجکمار بولا: “میرے جسم پر جو سونے کی پتری لگی ہے، اسے اتارو اور ان غریبوں میں بانٹ دو۔”
نگل نے ساری پتری اتار کر غریبوں میں بانٹ دی۔ اب راجکمار بالکل سیسے کا ہو گیا تھا۔ بدصورت، سنہرے رنگ کے بغیر۔
لیکن شہر کے غریب لوگ خوش تھے۔ ان کے پاس اب روٹی تھی، کپڑے تھے، دوا تھی۔
سردی بہت بڑھ گئی۔ نگل کو اب مصر جانا چاہیے تھا، لیکن وہ راجکمار کو چھوڑ کر نہیں جا سکتا تھا۔ وہ اندھا تھا، اکیلا تھا۔
ایک رات بہت برف پڑ رہی تھی۔ نگل نے راجکمار کے پاؤں میں بیٹھ کر کہا: “مجھے لگتا ہے میں مر رہا ہوں۔ مجھے مصر جانا چاہیے تھا، لیکن میں خوش ہوں کہ میں یہاں رہا۔”
راجکمار نے کہا: “تم نے میرے لیے بہت کچھ کیا، نگل۔ میں تمہیں کبھی نہیں بھولوں گا۔”
نگل نے آخری سانس لی اور راجکمار کے پاؤں کے پاس گر گیا۔
اسی وقت مجسمے کے سیسے کے دل میں ایک آواز آئی وہ دل دو ٹکڑے ہو گیا۔
صبح شہر کے افسروں نے مجسمہ دیکھا تو بہت غصے میں آ گئے۔
“یہ مجسمہ تو بالکل بدصورت ہو گیا ہے۔ سونا بھی غائب ہے، قیمتی پتھر بھی۔ اب یہ کسی کام کا نہیں رہا۔”
انہوں نے مجسمہ اتار کر پگھلانے کی بھٹی میں ڈال دیا۔ لیکن سیسے کا دل نہیں پگھلا۔ انہوں نے اسے کوڑے دان میں پھینک دیا، جہاں مردہ نگل بھی پڑا تھا۔
اوپر آسمان میں خدا نے اپنے فرشتے سے کہا: “اس شہر سے دو سب سے قیمتی چیزیں لے آؤ۔”
فرشتہ آیا اور اس نے سیسے کا دل اور مردہ نگل اٹھا لیا۔
خدا نے مسکراتے ہوئے کہا: “تم نے ٹھیک چنا۔ یہی دو چیزیں میرے باغ میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔”
کہانی کا سبق
یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ حقیقی خوشی دوسروں کے دکھ بانٹنے اور ان کی مدد کرنے میں ہے۔ خوش راجکمار نے اپنی آنکھیں، اپنا سونا، اپنی خوبصورتی سب کچھ غریبوں پر قربان کر دیا، اور پھر بھی وہ خوش تھا کیونکہ اس نے محبت کرنا سیکھ لیا تھا۔
کہانی کا دوسرا سبق یہ ہے کہ ظاہری خوبصورتی بے کار ہے اگر اس میں انسانیت نہ ہو۔ راجکمار کا مجسمہ جب سونے کا تھا تو لوگ اس کی تعریف کرتے تھے، لیکن اس کی حقیقی خوبصورتی اس وقت نکھری جب اس نے سب کچھ دے دیا۔
کہانی کا تیسرا سبق یہ ہے کہ قربانی اور وفاداری کو خدا بھی دیکھتا ہے۔ راجکمار کا سیسے کا دل اور نگل کی لاش یہی دو چیزیں خدا کے باغ میں ہمیشہ زندہ رہیں۔
کہانی کا حوالہ
یہ کہانی آسکر وائلڈ (Oscar Wilde) نے 1888 میں لکھی تھی۔ آسکر وائلڈ آئرش ادیب، شاعر اور ڈراما نگار تھے۔ انہوں نے “The Picture of Dorian Gray” جیسا مشہور ناول اور “The Importance of Being Earnest” جیسا شاہکار ڈرامہ لکھا۔
یہ کہانی پہلی بار 1888 میں ان کے افسانوی مجموعے “The Happy Prince and Other Tales” میں شائع ہوئی تھی۔
یہ کہانی پاکستان کی پرانی نصابی کتابوں کا بھی حصہ رہی ہے۔ آج بھی یہ کہانی دنیا بھر کے اسکولوں اور کالجوں میں پڑھائی جاتی ہے۔
