بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

فارس کے شہنشاہ نوشیرواں عادل کے پاس ایک بہترین باز تھا، جسے اس نے اپنے اکلوتی شہزادے کو دیا تھا۔ شہزادہ جوان تھا اور اسے شکار کا بڑا شوق تھا۔ ایک دن وہ باز لے کر شکار کو نکلا۔ راستے میں اس نے ایک ہرن دیکھا۔ اس نے باز کو اڑایا، لیکن باز واپس آ گیا۔ اس نے دوبارہ کوشش کی، لیکن باز پھر واپس آ گیا۔ شہزادے کو بہت غصہ آیا اور اس نے باز کو زمین پر پٹخ دیا۔ باز مر گیا۔

شہزادہ شکار بھول کر واپس محل لوٹ آیا۔ شام کو جب شہنشاہ کو پتا چلا تو وہ بہت غمگین ہوا۔ اس نے شہزادے کو بلایا اور کہا، “بیٹا! باز تو چلا گیا، لیکن تم نے اسے بغیر وجہ مار ڈالا۔” شہزادے نے کہا، “والد جان! وہ میرا کہنا نہیں مان رہا تھا۔”

شہنشاہ نے کہا، “بیٹا! باز کو مارنا آسان تھا، لیکن اس کی حکمت کو سمجھنا مشکل ہے۔ یہ باز بہت تربیت یافتہ تھا۔ وہ ہرن کو دیکھ کر اس لیے واپس آ گیا کہ اس نے راستے میں ایک بڑا گڑھا دیکھا تھا جس میں شکاریوں نے کانٹے بچھا رکھے تھے۔ وہ تمہیں بچانا چاہ رہا تھا، مگر تم نے اس کی بات نہ سمجھی۔”

شہزادے نے حیرت سے کہا، “والد جان! آپ کو کیسے پتا؟” شہنشاہ نے کہا، “میں نے اپنے دوسرے شکاریوں کو وہاں بھیجا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہاں ایک بڑا گڑھا تھا جس میں تیز کانٹے تھے۔ اگر باز تمہیں وہاں لے جاتا تو تم دونوں مر جاتے۔”

شہزادے کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اس نے اپنے والد سے معافی مانگی اور کہا کہ آئندہ وہ کبھی جلد بازی میں فیصلہ نہیں کرے گا۔ شہنشاہ نے اسے گلے لگایا اور کہا، “بیٹا! انسان کو چاہیے کہ وہ ہر معاملے میں صبر سے کام لے اور دوسروں کی بات سنے۔”

اخلاقی سبق: جلد بازی میں فیصلہ کرنا بہت بڑی غلطی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ صبر سے کام لے اور دوسروں کی بات سنے۔

حوالہ:
یہ کہانی عربی ادب کی کتاب کلیہ ودمنہ سے ماخوذ ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner