بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

پرانے زمانے کی بات ہے، ایک عالمِ دین بغاوت کے الزام میں جیل چلے گئے۔ جب جمعے کا دن آتا تو وہ نہا دھو کر، تیل کنگھی کر کے تیار ہو جاتے اور بےچینی سے انتظار کرتے۔ جونہی جمعے کی اذان ہوتی، وہ تیز قدموں سے جیل کے مین گیٹ کی طرف بڑھتے۔ پوری اذان جیل کے گیٹ کی سلاخیں تھام کر سنتے، پھر بوجھل قدموں اور افسردہ چہرے کے ساتھ، آنسو پونچھتے ہوئے واپس اپنی بیرک میں آ جاتے۔

گیٹ پر مامور جیلر، جو غیر مسلم تھا، کافی عرصے سے اس عالمِ دین کا یہ معمول دیکھ رہا تھا۔ آخر ایک دن وہ ضبط نہ کر سکا۔ اس نے عالمِ دین کو اپنے پاس بلایا اور پوچھا:

“تم ہر جمعے یہ کیا کرتے ہو؟ تیار ہو کر گیٹ تک آتے ہو، جبکہ تمہیں معلوم ہے کہ جیل کا دروازہ تمہارے لیے بند ہے اور تم باہر نہیں جا سکتے۔ پھر بھی اتنی دور چل کر کیوں آتے ہو؟”

عالمِ دین نے جواب دیا:
“جیلر صاحب! میرے اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ جب جمعے کی اذان سنو تو سارے کام چھوڑ کر جلد از جلد مسجد کی طرف بڑھو۔ اسی لیے میں اپنے رب کا حکم بجا لاتا ہوں اور جہاں تک میرے لیے ممکن ہوتا ہے، وہاں تک پہنچتا ہوں۔”

انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا:
“پھر میں جیل کے گیٹ کی سلاخیں پکڑ کر اپنے رب سے مخاطب ہوتا ہوں اور عرض کرتا ہوں:
یا اللہ! تو میری مجبوری دیکھ رہا ہے۔ تیرے حکم کی خاطر میں یہاں تک تو آ گیا ہوں، لیکن اس سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اب تو میری نیت کو دیکھتے ہوئے خود ہی میری حاضری لگا دینا۔
کیونکہ میرا اللہ کسی جان پر اس کی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا، اس لیے مجھے امید ہے کہ میرا رب مجھے جمعے کا اجر ضرور عطا فرمائے گا، اگرچہ میں نمازِ ظہر جیل ہی میں ادا کرتا ہوں۔”

آخر میں عالمِ دین نے کہا:
“جو چیز آپ کو تماشا لگتی ہے، وہ میرے لیے میرا دین اور میرا ایمان ہے

👍🏼 *پوسٹ پڑھ کر رئیکٹ اور فالو ضرور کیا کریں، کیونکہ ری ایکٹ صرف ایک نشان نہیں بلکہ احساس، شعور، جذبے، اخلاق اور حوصلہ افزائی کا خوبصورت اظہار ہے۔ اسے معمولی نہ سمجھیں، آپ کا ایک ری ایکٹ ہمارے لیے قدردانی اور باہمی تعلق کی علامت ہے۔* 🥰

*جزاک اللّٰہ خیرا* ❤️



Leave a Reply

NZ's Corner