بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

ایک جنگل میں ایک چیتا رہتا تھا جسے اپنی رفتار پر بہت گھمنڈ تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ جو تیز بھاگ سکتا ہے، وہی سب سے زیادہ عزت کا حقدار ہے۔ اسی جنگل کے ایک پرانے برگد کے درخت پر ایک کبوتروں کا جوڑا رہتا تھا جو بہت پرسکون اور خاموش طبع تھا۔
ایک دن چیتے نے کبوتر کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا: “تمہاری زندگی بھی کیا زندگی ہے؟ ذرا سی آہٹ ہو تو تم پھڑپھڑا کر اڑ جاتے ہو۔ کاش تم میری طرح بہادر اور تیز ہوتے، تو تمہیں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہ پڑتی۔”
کبوتر نے مسکرا کر جواب دیا: “چیتے بھائی! رفتار اللہ کی دین ہے، لیکن اصل چیز وہ نظر ہے جو آنے والے خطرے کو وقت سے پہلے دیکھ لے۔” چیتے نے قہقہہ لگایا اور وہاں سے چلا گیا۔
کچھ دن گزرے، جنگل میں شکاریوں نے قدم رکھا۔ انہوں نے چیتے کو پکڑنے کے لیے ایک بہت ہی باریک لیکن مضبوط تاروں کا جال بچھایا جو خشک پتوں کے نیچے چھپا ہوا تھا۔ چیتا اپنی مستی میں دوڑ رہا تھا کہ اچانک اس کا پاؤں جال میں پھنس گیا اور وہ اوندھے منہ گرا۔ جتنا وہ زور لگاتا، جال اتنا ہی اس کے جسم میں دھنستا جاتا۔
اوپر درخت سے کبوتر یہ سب دیکھ رہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ شکاری ابھی دور ہیں۔ کبوتر اڑ کر نیچے آیا، لیکن اس نے چیتے کی طرح جال کھینچنے کی کوشش نہیں کی (کیونکہ وہ جانتا تھا کہ وہ جسمانی طور پر کمزور ہے)۔ اس نے اپنی تیز چونچ سے جال کی ان گرہوں کو کاٹنا شروع کیا جہاں سے وہ کمزور تھیں۔
کچھ ہی دیر میں کبوتر نے وہ راستہ بنا دیا جہاں سے چیتا اپنا پنجہ نکال سکتا تھا۔ چیتے نے آزاد ہوتے ہی کبوتر کا شکریہ ادا کیا اور شرمندگی سے سر جھکا لیا۔
کبوتر نے اڑتے ہوئے کہا: “طاقت صرف پنجوں میں نہیں ہوتی، بعض اوقات چھوٹی سی چونچ وہ کام کر جاتی ہے جو بڑے بڑے دانت نہیں کر پاتے۔”

اخلاقی سبق:
کسی کو حقیر نہ سمجھیں: کوئی کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو، اس کے پاس ایسا ہنر ہو سکتا ہے جو بڑے بڑوں کے پاس نہیں ہوتا۔

  1. ٹیم ورک اور عقل: مشکل وقت میں بے صبری سے طاقت کا استعمال نقصان دہ ہوتا ہے، جبکہ ٹھنڈے دماغ سے کام لینا نجات دلاتا ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner