بلاعنوان۔۔😄!

بلاعنوان۔۔😄!

سردار جی ایک لوکل بس میں سفر کر رہے تھے۔ بس میں بہت رش تھا، سردار جی کو بڑی مشکل سے کھڑے ہونے کی جگہ ملی تھی۔

کچھ دیر بعد کنڈکٹر ٹکٹ کاٹنے کے لیے ان کے پاس آیا۔
کنڈکٹر: “سردار جی! ٹکٹ دکھائیں۔”

سردار جی نے اپنی جیبوں میں ہاتھ مارا اور بڑی پریشانی سے بولے:
“یار کنڈکٹر! میرا تو پرس ہی کسی نے نکال لیا ہے۔”

کنڈکٹر (تھوڑا سخت لہجے میں): “سردار جی! یہ پرانے بہانے چھوڑیں۔ ٹکٹ کے پیسے نکالیں ورنہ اگلے سٹاپ پر اتر جائیں۔”

سردار جی (منت کرتے ہوئے): “اوئے خدا کا خوف کر! سچ میں میرا پرس چوری ہو گیا ہے۔ میں تجھے جھوٹ کیوں بولوں گا؟”

کنڈکٹر نہیں مانا اور بحث کرنے لگا۔ آخر کار سردار جی کو غصہ آ گیا۔

سردار جی نے اپنے گلے میں مفلر (Muffler) ٹھیک کیا، ایک گہرا سانس لیا اور اچانک بس میں زور سے چیخے:

“اوئے! جس کسی نے بھی میرا پرس نکالا ہے، چپ چاپ واپس کر دے! ورنہ…”

سردار جی کی آواز سن کر پوری بس میں سناٹا چھا گیا۔ سب لوگ ڈر کر ان کی طرف دیکھنے لگے۔

سردار جی نے اور اونچی آواز میں دھمکی دی:
“میں آخری بار کہہ رہا ہوں! میرا پرس واپس کر دو، ورنہ میں وہی کروں گا جو میں نے پچھلے سال لاہور میں کیا تھا!”

بس میں بیٹھے سب لوگ ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگے۔ کنڈکٹر بھی گھبرا گیا۔ اس نے جلدی سے سردار جی کو چپ کرایا اور بولا:
“سردار جی! غصہ نہ کریں۔ یہ لیں آپ کی ٹکٹ، میری طرف سے فری۔ بس آپ وہ نہ کرنا جو آپ نے پچھلے سال لاہور میں کیا تھا۔”

ایک بڈھے بابے نے ڈرتے ڈرتے سردار جی سے پوچھا:
“پُتر! پچھلے سال تو نے لاہور میں کیا کیا تھا؟”

سردار جی نے بڑی معصومیت سے کندھے اچکائے اور مسکرا کر بولے:
“بابا جی! پچھلے سال بھی میرا پرس چوری ہوا تھا… تو میں چپ چاپ رو کر گھر پیدل چلا گیا تھا! اب میں نہیں رونا چاہتا تھا!”

کنڈکٹر اور پوری بس کے مسافروں نے اپنا سر پکڑ لیا۔

Leave a Reply

NZ's Corner