ایک چالاک کوا، ایک خطرناک بھیڑیا اور ایک مکار لومڑی ایک شیر کی خدمت میں تھے۔ ان کا جنگل شاہراہِ عام کے نزدیک تھا۔ ایک بار ایک سوداگر کا اونٹ اس جنگل کے آس پاس چرتے چرتے آیا اور شیر کے نزدیک پہنچ گیا۔ اونٹ شیر کو دیکھتے ہی گھبرا گیا، مگر اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا کہ عاجزی اور انکساری سے کام لے۔ لہٰذا، اس نے فوراً شیر کو سلام کیا۔ شیر نے بھی سلام کا جواب دیا اور اس کی خیریت پوچھی۔ اونٹ نے جواب دیا: “اگرچہ آپ سے پہلے اپنے کام میں مجھے اختیار تھا، لیکن جب سے آپ کو دیکھ لیا، عنانِ اختیار ہاتھ سے جاتی رہی۔ اب آپ جو فرمائیں گے، وہی کروں گا۔”
شیر نے کہا: “اگر پسند ہو تو میری امان میں رہو۔”
اونٹ بہت خوش ہوا اور اسی جنگل میں رہنے لگا۔ ایک عرصہ اسی طرح گزر گیا اور اونٹ کافی موٹا ہو گیا۔ ایک روز شیر شکار کی تلاش میں نکلا اور ایک مست ہاتھی سے اس کی مڈبھیڑ ہو گئی۔ دونوں کے درمیان زبردست مقابلہ ہوا، جس میں شیر زخمی ہو کر واپس لوٹ آیا اور کراہتا ہوا، زخموں سے چور چور ایک کونے میں گر پڑا۔ بھیڑیا، لومڑی اور کوا جو اس کے طفیل میں تھے، اب بے یارو مددگار ہو گئے۔ شیر چونکہ شاہانہ مزاج رکھتا تھا، اس لیے اپنے ملازموں کی یہ حالت دیکھ کر اسے بہت افسوس ہوا۔
اس نے کہا: “تمہاری تکلیف مجھ سے دیکھی نہیں جاتی۔ اگر کوئی شکار قریب ہو تو مجھے اطلاع دو تاکہ میں اسی حالت میں جا کر اس کا شکار کروں، تا کہ تم اپنا پیٹ بھر سکو۔”
انہوں نے وہاں سے اٹھ کر ایک دوسرے سے صلاح و مشورہ کیا اور طے کیا کہ اس اونٹ سے نہ تو بادشاہ کو کوئی فائدہ ہے اور نہ ہی ہمیں اس سے کوئی محبت ہے۔ اس لیے بادشاہ کو اس بات پر راضی کرنا چاہیے کہ وہ اونٹ کا شکار کرے تا کہ دو چار روز کے لیے ہمیں اور اسے کھانے کا آرام مل جائے۔
بھیڑیے نے کہا: “ایسا خیال بھی دل میں نہ لاؤ کیونکہ شیر نے اونٹ کو امان دی ہے۔ جو کوئی بادشاہ کو بدعہدی پر اکسائے گا اور عہد شکنی کی تحریک دلائے گا، وہ خیانت کرے گا اور خیانت ہر حال میں قابلِ نفرین ہے، اور خیانت کرنے والے سے خدا اور رسول ناراض اور خلق ناخوش رہتی ہے۔”
کوے نے کہا: “اس معاملے میں کوئی بہانہ تلاش کیا جا سکتا ہے اور شیر کو اس کے وعدے سے آزاد کیا جا سکتا ہے۔ تم لوگ یہاں نگاہ رکھو، میں جاتا ہوں اور ابھی لوٹ کر آتا ہوں۔”
کوا پھر شیر کے پاس جا کھڑا ہوا۔ شیر نے پوچھا: “کیا کوئی شکار نظر آیا؟ اور میرے لیے کوئی خبر لائے ہو؟”
کوے نے کہا: “جہاں پناہ! بھوک کے مارے نظر کچھ کام نہیں کر رہی ہے اور ہلنے جلنے کی قوت بھی نہیں رہی۔ لیکن ایک صورت ایسی نظر آتی ہے کہ اگر بادشاہ اس کی اجازت مرحمت فرمائیں تو ہم سب ان نعمتوں سے مستفیض ہو سکتے ہیں۔”
شیر نے کہا: “اپنے دل کی بات کہہ ڈالو تاکہ مجھے اس کی خبر ہو۔”
کوے نے کہا: “یہ اونٹ ہم لوگوں کے درمیان اجنبی ہے، ہمیں اس سے کوئی فائدہ بھی دکھائی نہیں دیتا اور فی الحال کوئی دوسرا شکار بھی نظر نہیں آتا۔”
شیر یہ سن کر غضبناک ہوا اور بولا: “آج کل کے دوستوں پر لعنت ہے جو سوائے دشمنی اور بغض کے کچھ نہیں رکھتے۔ دوستی، محبت، مروت اور انسانیت کو ایک دم بھلا بیٹھے ہیں۔ عہد شکنی کون سے مذہب میں جائز ہے؟ اور دی ہوئی زبان سے مکرنا کہاں تک بجا ہے؟”
کوے نے کہا: “میں یہ بات جانتا ہوں، لیکن عقل مندوں نے کہا ہے کہ اپنے آپ کو اپنے گھر والوں پر فدا کرنا چاہیے، اپنے گھر والوں کو اپنے قبیلے پر، قبیلے کو شہر والوں پر، اور شہر والوں کو شہر کے بادشاہ پر جو خطرے میں ہو، فدا کرنا واجب ہے، کیونکہ بادشاہ کی سلامتی میں ہی ہماری سلامتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ اس طرح وعدہ دینے والا، وعدہ شکنی کے گناہ سے پاک رہے گا اور اس کی جان محفوظ رہے گی۔”
شیر یہ سن کر خاموش ہو گیا اور اس نے گردن جھکا لی۔ کوا پھر دوستوں کے پاس آیا اور کہا: “پہلے جب میں نے اونٹ کو مارنے کی بات کی تو شیر غصہ ہوا، اس کے بعد نیم رضامند ہو گیا۔ اب تدبیر یہ ہے کہ ہم سب اونٹ کے پاس چلیں، شیر کی تکلیف کا حال بیان کریں اور کہیں کہ ہم اس کی پناہ میں ہنسی خوشی بسر کر رہے تھے کہ آج یہ حادثہ پیش آ گیا ہے۔ انسانیت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اپنی جان اس پر فدا کریں ورنہ بے وفا کہلائیں گے۔ بہتری اسی میں ہے کہ ہم سب شیر کے پاس جائیں، اس کے انعام و اکرام کا شکریہ ادا کریں اور پھر کہیں کہ ہم سے آپ کی کوئی خدمت نہیں ہو سکتی سوائے اس کے کہ ہم اپنی جانیں آپ پر فدا کریں۔ لہٰذا ہم میں سے ہر کوئی چاہتا ہے کہ آج جہاں پناہ ہمارا ناشتہ فرمائیں اور دوسرا اس کا بچاؤ کرے، یہاں تک کہ اونٹ کی باری آئے۔ ممکن ہے کہ اس طرح اونٹ مارا جائے۔”
مل جل کر یہ سب اونٹ کے پاس گئے اور ساری تفصیل اسے سنائی۔ چونکہ وہ سادہ دل تھا، اس لیے ان کی باتوں میں آ گیا اور طے شدہ تدبیر کے مطابق وہ سب اونٹ کے ساتھ شیر کے پاس پہنچے اور آداب بجا لائے۔
پھر کوے نے کہا: “ہماری خوشی آپ کی سلامتی میں ہے اور چونکہ جہاں پناہ بے حد کمزور ہو گئے ہیں، لہٰذا اس بات کی ضرورت ہے کہ آپ میرے گوشت سے لذت حاصل کریں۔ مہربانی فرما کر مجھے شکار کریں تا کہ میری زندگی آپ کے کام آئے۔”
دوسروں نے فوراً کہا: “تمہیں کھانے سے کیا فائدہ ہو گا؟ تمہارے گوشت سے تو بادشاہ کا پیٹ بھی نہیں بھرے گا، تمہاری حیثیت ہی کیا ہے؟”
یہ سن کر کوے نے گردن جھکا لی اور بھیڑیے نے کہنا شروع کیا: “ایک عرصے سے آپ کے سائے میں ہوں، آج چاہتا ہوں کہ بادشاہ میرے گوشت سے ناشتہ فرمائیں۔”
دوسروں نے فوراً جواب دیا: “تم جو کچھ بھی کہہ رہے ہو محض محبت اور احسان مندی میں کہہ رہے ہو۔ اس میں شک نہیں کہ تمہارا گوشت بدبو دار ہے، لہٰذا بادشاہ اسے کھا کر بے مزہ ہوں گے۔”
یہ سن کر بھیڑیا خاموش ہو گیا اور لومڑی سامنے آ کر کہنے لگی: “میں بھی بادشاہ پر فدا ہونے کی خواہش مند ہوں اور چاہتی ہوں کہ بادشاہ ہنسی خوشی مجھے اپنے دانتوں میں جگہ عطا فرمائیں۔”
دوسروں نے کہا: “یہ بات تم نے انتہائی خلوص سے کہی ہے، لیکن تمہارا گوشت کھانے سے گلے میں سوجن آ جاتی ہے اور نقصان کا اندیشہ ہے۔”
لومڑی یہ سن کر پیچھے ہٹ گئی۔ اب اونٹ نے اپنی لمبی گردن اٹھائی اور احمقوں کی طرح بولنا شروع کیا: “جہاں پناہ! میں آپ ہی کا پروردہ ہوں۔ اگر آپ کو اپنے دستر خوان کے قابل نظر آؤں تو اپنی جان دینے سے مجھے کوئی اعتراض نہیں۔”
دوسروں نے کہا: “یہ بات تم نے انتہائی عقیدت اور محبت سے کہی ہے اور یہ سچ ہے کہ تمہارا گوشت بادشاہ کے مزاج کے موافق ہے۔ تمہاری ہمت کی داد دینی چاہیے کہ بادشاہ کے لیے تم نے اپنی جان کی بھی پروا نہیں کی اور اس معاملے میں اپنا نام امر کر دیا۔”
اس طرح سب نے مل کر اونٹ کو مار ڈالا اور وہ غریب ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔

