بے وقوف بادشاہ

بے وقوف بادشاہ

ایک ملک میں ایک بہت ہی بے وقوف بادشاہ حکومت کرتا تھا
اس کا نام راجہ موٹو تھا اور وہ اپنی بے وقوفیوں کی وجہ سے مشہور تھا
اس کا دربار بھی عجیب و غریب لوگوں سے بھرا ہوا تھا
بادشاہ کو لگتا تھا کہ وہ دنیا کا سب سے عقل مند بادشاہ ہے
حالانکہ حقیقت میں وہ ہر بات الٹی سمجھتا تھا
ایک دن بادشاہ نے اپنے وزیر سے کہا کہ مجھے چاند چاہیے
وزیر نے کہا حضور چاند تو آسمان پر ہے اسے کیسے لایا جائے
بادشاہ نے کہا تم سب بے وقوف ہو ایک بڑی سی سیڑھی لگاؤ اور چاند اتار لاؤ
پورے دربار میں سپاہی سیڑھیاں لے کر چاند کو اتارنے کی کوشش کرنے لگے
لوگ یہ تماشا دیکھ کر ہنسنے لگے کہ کیسا بے وقوف بادشاہ ہے
بادشاہ نے ایک دن کہا کہ ملک میں سب کو الٹا چلنا چاہیے
اس نے حکم دیا کہ آج سے سب لوگ سیدھے کی بجائے الٹے چلیں گے
اگلے دن پورے ملک میں لوگ الٹے چلنے کی کوشش کر رہے تھے اور گر رہے تھے
بازار میں ہر طرف لوگ ایک دوسرے سے ٹکرا رہے تھے
بادشاہ اپنے تخت پر الٹا بیٹھا تھا اور کہہ رہا تھا اب ملک ترقی کرے گا
ایک دن بادشاہ کو خیال آیا کہ پانی اوپر کی طرف بہنا چاہیے
اس نے دریا کو حکم دیا کہ الٹا بہو
سپاہی دریا کے کنارے کھڑے ہو کر دریا کو الٹا بہنے کا حکم دے رہے تھے
دریا تو اپنے راستے پر ہی بہتا رہا
بادشاہ نے غصے میں کہا دریا میری بات نہیں مانتا اسے قید کر دو
ایک دن بادشاہ نے کہا کہ سورج رات کو نکلے گا
اس نے سورج کو حکم دیا کہ کل سے رات کو نکلا کرے
جب سورج دن کو نکلا تو بادشاہ نے کہا یہ سورج باغی ہو گیا ہے
اس نے اپنے وزیر کو کہا سورج کو سزا دو
وزیر بیچارہ پریشان ہو گیا کہ سورج کو کیسے سزا دے
بادشاہ نے ایک دن اپنے گھوڑے کو کہا کہ تم اب گدھے کی طرح رینکو
گھوڑا حیران ہو کر بادشاہ کو دیکھنے لگا
بادشاہ نے کہا تم میری بات نہیں مانتے
ایک دن بادشاہ نے کہا کہ آج سے روٹی کی جگہ پتھر کھائے جائیں گے
اس نے خود پتھر کو دانتوں سے توڑنے کی کوشش کی تو اس کے دانت ٹوٹ گئے
دربار میں سب لوگ اپنی ہنسی روک کر بیٹھے تھے
بادشاہ کا سب سے بڑا مشغلہ الٹے الٹے حکم دینا تھا
ایک دن اس نے کہا کہ ملک کے تمام پرندوں کو قید کر لو
اس نے کہا پرندے شور کرتے ہیں انہیں جیل میں ڈالو
سپاہی جال لے کر پرندوں کے پیچھے بھاگنے لگے
پرندے اڑ کر درختوں پر بیٹھ گئے
بادشاہ نے کہا درختوں کو کاٹ دو تاکہ پرندے نیچے آ جائیں
وزیر نے بڑی مشکل سے اسے سمجھایا کہ درخت کاٹنے سے ملک بنجر ہو جائے گا
بادشاہ نے ایک دن کہا کہ میں اڑنا چاہتا ہوں
اس نے اپنے لیے پر بنوائے اور محل کی چھت سے چھلانگ لگا دی
وہ سیدھا نیچے گر پڑا اور اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی
حکیم نے کہا حضور آپ انسان ہیں پرندہ نہیں
بادشاہ نے کہا میں بادشاہ ہوں میں کچھ بھی کر سکتا ہوں
ایک دن بادشاہ نے کہا کہ آج سے سونا مٹی کے بھاؤ بکے گا
اس نے خزانے سے سارا سونا نکال کر بازار میں مٹی کے ساتھ رکھوا دیا
لوگ سستا سونا دیکھ کر دوڑ پڑے
خزانہ خالی ہو گیا
وزیر نے سر پیٹ لیا کہ یہ کیا کر دیا
بادشاہ خوش ہو رہا تھا کہ دیکھو میں نے لوگوں کو امیر کر دیا
ایک دن ایک پڑوسی ملک کے بادشاہ نے حملہ کر دیا
بے وقوف بادشاہ نے کہا فوج کو کہو کہ دشمن پر پھول پھینکو
سپاہی پھول پھینکنے لگے اور دشمن تلواریں چلانے لگا
بادشاہ کی فوج ڈر کر بھاگ گئی
آخر کار وزیر نے عقل سے کام لیا
اس نے چالاکی سے دشمن بادشاہ سے دوستی کر لی
اور کہا کہ ہمارا بادشاہ بیمار ہے اس کا دماغ خراب ہے
دشمن بادشاہ ہنس کر واپس چلا گیا
اس طرح ملک ایک بڑی جنگ سے بچ گیا
ایک دن بادشاہ نے کہا میں کسان بنوں گا
وہ ہل لے کر کھیت میں گیا اور الٹا ہل چلانے لگا
بیج کی جگہ اس نے پتھر بو دیے
اور کہا کہ کل تک یہاں سے درخت اگیں گے
اگلے دن وہاں کچھ بھی نہیں اگا
بادشاہ نے کہا زمین بھی میری بات نہیں مانتی
وزیر نے کہا حضور زمین میں بیج بونے پڑتے ہیں پتھر نہیں
بادشاہ نے کہا تم سب مجھ سے جلتے ہو
ایک دن بادشاہ نے کہا کہ آج سے سب لوگ ننگے پاؤں نہیں جوتے سر پر پہنیں گے
لوگوں نے جوتے سر پر رکھ لیے
پورے ملک میں ہر کوئی سر پر جوتا رکھ کر گھوم رہا تھا
باہر سے آنے والے تاجر یہ دیکھ کر حیران رہ گئے
ایک تاجر نے بادشاہ سے کہا کہ حضور یہ کیا ہو رہا ہے
بادشاہ نے کہا یہ میرا نیا فیشن ہے
تاجر نے کہا اس سے تو لوگ بیمار ہو جائیں گے
بادشاہ نے کہا بیماری بھی میری رعایا ہے اسے بھی رہنے دو
وزیر نے سوچا کہ اب اس بادشاہ کا کچھ کرنا پڑے گا
اس نے تمام درباریوں کو جمع کیا
اور کہا کہ ہمیں بادشاہ کو عقل مند بنانا ہوگا
ایک درباری نے کہا کہ بادشاہ کو کہانیاں سنانی چاہیے
دوسرے نے کہا کہ اسے بچوں کے ساتھ بٹھانا چاہیے
آخر فیصلہ ہوا کہ ایک عقل مند فقیر کو بلایا جائے
فقیر بہت دور سے آیا اور بادشاہ سے ملا
فقیر نے کہا بادشاہ سلامت میں آپ کو ایک جادوئی آئینہ دوں گا
اس آئینے میں آپ کو اپنی اصلی عقل نظر آئے گی
بادشاہ نے آئینہ دیکھا تو اس میں ایک گدھا نظر آیا
بادشاہ غصے سے بولا یہ گدھا کون ہے
فقیر نے کہا حضور یہ آپ کی بے وقوفی کی تصویر ہے
بادشاہ کو پہلی بار احساس ہوا کہ وہ واقعی بے وقوف ہے
وہ رونے لگا اور کہا کہ مجھے عقل مند بنا دو
فقیر نے کہا عقل بازار میں نہیں ملتی
عقل کے لیے دوسروں کی سننی پڑتی ہے
اپنے وزیر کی بات مانو وہ عقل مند ہے
بادشاہ نے وزیر سے معافی مانگی
اور کہا آج سے تم جو کہو گے میں وہی کروں گا
وزیر نے کہا حضور سب سے پہلے الٹے قانون ختم کریں
بادشاہ نے تمام بے وقوف قانون ختم کر دیے
لوگوں نے جوتے سر سے اتار کر پاؤں میں پہن لیے
سیدھا چلنا شروع کر دیا
پرندوں کو آزاد کر دیا گیا
خزانے کو دوبارہ بھرنے کی کوشش کی گئی
بادشاہ نے کہا کہ آج سے میں روز ایک اچھی بات سیکھوں گا
فقیر روز آ کر اسے ایک اچھی بات سکھاتا
پہلے دن اس نے سکھایا کہ سچ بولو
دوسرے دن سکھایا کہ محنت کرو
تیسرے دن سکھایا کہ غرور نہ کرو
چوتھے دن سکھایا کہ دوسروں کی مدد کرو
آہستہ آہستہ بادشاہ میں تبدیلی آنے لگی
وہ اب الٹے حکم نہیں دیتا تھا
وہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کرتا تھا
لوگ بھی اب اس کی عزت کرنے لگے
جو لوگ پہلے اس پر ہنستے تھے اب اس کی تعریف کرتے تھے
پڑوسی ملک کے بادشاہ نے بھی اس کی تعریف کی
اور کہا کہ اب یہ ملک ترقی کرے گا
بادشاہ نے اپنے ملک میں اسکول کھولے
جہاں بچوں کو عقل مندی کی باتیں سکھائی جاتیں
اس نے کہا کہ میرے جیسا بے وقوف کوئی نہ بنے
ہر بچے کو تعلیم حاصل کرنی چاہیے
اس نے کسانوں کی مدد کی
انہیں اچھے بیج دیے
تاجروں کے لیے آسانیاں پیدا کیں
ملک میں خوشحالی آنے لگی
کچھ سالوں بعد وہی بے وقوف بادشاہ عقل مند بادشاہ کہلانے لگا
لوگ اسے راجہ عقل مند کہنے لگے
اس کی کہانی دور دور تک مشہور ہو گئی
کہ ایک بے وقوف بادشاہ کیسے عقل مند بن گیا
اس کہانی سے ہمیں سبق ملتا ہے
کہ کوئی بھی پیدائشی بے وقوف نہیں ہوتا
اگر کوشش کی جائے تو بے وقوف بھی عقل مند بن سکتا ہے
ضرورت صرف سیکھنے کی نیت کی ہے
اور دوسروں کی اچھی بات ماننے کی ہے
غرور اور ضد سے انسان بے وقوف بنتا ہے
عاجزی اور سیکھنے سے عقل مند بنتا ہے
بے وقوف بادشاہ کی یہ کہانی یہیں ختم ہوتی ہے
مگر اس کا سبق ہمیشہ یاد رہے گا
ایک ملک میں ایک بہت ہی بے وقوف بادشاہ حکومت کرتا تھا
اس کا نام راجہ موٹو تھا اور وہ اپنی بے وقوفیوں کی وجہ سے مشہور تھا
اس کا دربار بھی عجیب و غریب لوگوں سے بھرا ہوا تھا
بادشاہ کو لگتا تھا کہ وہ دنیا کا سب سے عقل مند بادشاہ ہے
حالانکہ حقیقت میں وہ ہر بات الٹی سمجھتا تھا
ایک دن بادشاہ نے اپنے وزیر سے کہا کہ مجھے چاند چاہیے
وزیر نے کہا حضور چاند تو آسمان پر ہے اسے کیسے لایا جائے
بادشاہ نے کہا تم سب بے وقوف ہو ایک بڑی سی سیڑھی لگاؤ اور چاند اتار لاؤ
پورے دربار میں سپاہی سیڑھیاں لے کر چاند کو اتارنے کی کوشش کرنے لگے
لوگ یہ تماشا دیکھ کر ہنسنے لگے کہ کیسا بے وقوف بادشاہ ہے
بادشاہ نے ایک دن کہا کہ ملک میں سب کو الٹا چلنا چاہیے
اس نے حکم دیا کہ آج سے سب لوگ سیدھے کی بجائے الٹے چلیں گے
اگلے دن پورے ملک میں لوگ الٹے چلنے کی کوشش کر رہے تھے اور گر رہے تھے
بازار میں ہر طرف لوگ ایک دوسرے سے ٹکرا رہے تھے
بادشاہ اپنے تخت پر الٹا بیٹھا تھا اور کہہ رہا تھا اب ملک ترقی کرے گا
ایک دن بادشاہ کو خیال آیا کہ پانی اوپر کی طرف بہنا چاہیے
اس نے دریا کو حکم دیا کہ الٹا بہو
سپاہی دریا کے کنارے کھڑے ہو کر دریا کو الٹا بہنے کا حکم دے رہے تھے
دریا تو اپنے راستے پر ہی بہتا رہا
بادشاہ نے غصے میں کہا دریا میری بات نہیں مانتا اسے قید کر دو
ایک دن بادشاہ نے کہا کہ سورج رات کو نکلے گا
اس نے سورج کو حکم دیا کہ کل سے رات کو نکلا کرے
جب سورج دن کو نکلا تو بادشاہ نے کہا یہ سورج باغی ہو گیا ہے
اس نے اپنے وزیر کو کہا سورج کو سزا دو
وزیر بیچارہ پریشان ہو گیا کہ سورج کو کیسے سزا دے
بادشاہ نے ایک دن اپنے گھوڑے کو کہا کہ تم اب گدھے کی طرح رینکو
گھوڑا حیران ہو کر بادشاہ کو دیکھنے لگا
بادشاہ نے کہا تم میری بات نہیں مانتے
ایک دن بادشاہ نے کہا کہ آج سے روٹی کی جگہ پتھر کھائے جائیں گے
اس نے خود پتھر کو دانتوں سے توڑنے کی کوشش کی تو اس کے دانت ٹوٹ گئے
دربار میں سب لوگ اپنی ہنسی روک کر بیٹھے تھے
بادشاہ کا سب سے بڑا مشغلہ الٹے الٹے حکم دینا تھا
ایک دن اس نے کہا کہ ملک کے تمام پرندوں کو قید کر لو
اس نے کہا پرندے شور کرتے ہیں انہیں جیل میں ڈالو
سپاہی جال لے کر پرندوں کے پیچھے بھاگنے لگے
پرندے اڑ کر درختوں پر بیٹھ گئے
بادشاہ نے کہا درختوں کو کاٹ دو تاکہ پرندے نیچے آ جائیں
وزیر نے بڑی مشکل سے اسے سمجھایا کہ درخت کاٹنے سے ملک بنجر ہو جائے گا
بادشاہ نے ایک دن کہا کہ میں اڑنا چاہتا ہوں
اس نے اپنے لیے پر بنوائے اور محل کی چھت سے چھلانگ لگا دی
وہ سیدھا نیچے گر پڑا اور اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی
حکیم نے کہا حضور آپ انسان ہیں پرندہ نہیں
بادشاہ نے کہا میں بادشاہ ہوں میں کچھ بھی کر سکتا ہوں
ایک دن بادشاہ نے کہا کہ آج سے سونا مٹی کے بھاؤ بکے گا
اس نے خزانے سے سارا سونا نکال کر بازار میں مٹی کے ساتھ رکھوا دیا
لوگ سستا سونا دیکھ کر دوڑ پڑے
خزانہ خالی ہو گیا
وزیر نے سر پیٹ لیا کہ یہ کیا کر دیا
بادشاہ خوش ہو رہا تھا کہ دیکھو میں نے لوگوں کو امیر کر دیا
ایک دن ایک پڑوسی ملک کے بادشاہ نے حملہ کر دیا
بے وقوف بادشاہ نے کہا فوج کو کہو کہ دشمن پر پھول پھینکو
سپاہی پھول پھینکنے لگے اور دشمن تلواریں چلانے لگا
بادشاہ کی فوج ڈر کر بھاگ گئی
آخر کار وزیر نے عقل سے کام لیا
اس نے چالاکی سے دشمن بادشاہ سے دوستی کر لی
اور کہا کہ ہمارا بادشاہ بیمار ہے اس کا دماغ خراب ہے
دشمن بادشاہ ہنس کر واپس چلا گیا
اس طرح ملک ایک بڑی جنگ سے بچ گیا
ایک دن بادشاہ نے کہا میں کسان بنوں گا
وہ ہل لے کر کھیت میں گیا اور الٹا ہل چلانے لگا
بیج کی جگہ اس نے پتھر بو دیے
اور کہا کہ کل تک یہاں سے درخت اگیں گے
اگلے دن وہاں کچھ بھی نہیں اگا
بادشاہ نے کہا زمین بھی میری بات نہیں مانتی
وزیر نے کہا حضور زمین میں بیج بونے پڑتے ہیں پتھر نہیں
بادشاہ نے کہا تم سب مجھ سے جلتے ہو
ایک دن بادشاہ نے کہا کہ آج سے سب لوگ ننگے پاؤں نہیں جوتے سر پر پہنیں گے
لوگوں نے جوتے سر پر رکھ لیے
پورے ملک میں ہر کوئی سر پر جوتا رکھ کر گھوم رہا تھا
باہر سے آنے والے تاجر یہ دیکھ کر حیران رہ گئے
ایک تاجر نے بادشاہ سے کہا کہ حضور یہ کیا ہو رہا ہے
بادشاہ نے کہا یہ میرا نیا فیشن ہے
تاجر نے کہا اس سے تو لوگ بیمار ہو جائیں گے
بادشاہ نے کہا بیماری بھی میری رعایا ہے اسے بھی رہنے دو
وزیر نے سوچا کہ اب اس بادشاہ کا کچھ کرنا پڑے گا
اس نے تمام درباریوں کو جمع کیا
اور کہا کہ ہمیں بادشاہ کو عقل مند بنانا ہوگا
ایک درباری نے کہا کہ بادشاہ کو کہانیاں سنانی چاہیے
دوسرے نے کہا کہ اسے بچوں کے ساتھ بٹھانا چاہیے
آخر فیصلہ ہوا کہ ایک عقل مند فقیر کو بلایا جائے
فقیر بہت دور سے آیا اور بادشاہ سے ملا
فقیر نے کہا بادشاہ سلامت میں آپ کو ایک جادوئی آئینہ دوں گا
اس آئینے میں آپ کو اپنی اصلی عقل نظر آئے گی
بادشاہ نے آئینہ دیکھا تو اس میں ایک گدھا نظر آیا
بادشاہ غصے سے بولا یہ گدھا کون ہے
فقیر نے کہا حضور یہ آپ کی بے وقوفی کی تصویر ہے
بادشاہ کو پہلی بار احساس ہوا کہ وہ واقعی بے وقوف ہے
وہ رونے لگا اور کہا کہ مجھے عقل مند بنا دو
فقیر نے کہا عقل بازار میں نہیں ملتی
عقل کے لیے دوسروں کی سننی پڑتی ہے
اپنے وزیر کی بات مانو وہ عقل مند ہے
بادشاہ نے وزیر سے معافی مانگی
اور کہا آج سے تم جو کہو گے میں وہی کروں گا
وزیر نے کہا حضور سب سے پہلے الٹے قانون ختم کریں
بادشاہ نے تمام بے وقوف قانون ختم کر دیے
لوگوں نے جوتے سر سے اتار کر پاؤں میں پہن لیے
سیدھا چلنا شروع کر دیا
پرندوں کو آزاد کر دیا گیا
خزانے کو دوبارہ بھرنے کی کوشش کی گئی
بادشاہ نے کہا کہ آج سے میں روز ایک اچھی بات سیکھوں گا
فقیر روز آ کر اسے ایک اچھی بات سکھاتا
پہلے دن اس نے سکھایا کہ سچ بولو
دوسرے دن سکھایا کہ محنت کرو
تیسرے دن سکھایا کہ غرور نہ کرو
چوتھے دن سکھایا کہ دوسروں کی مدد کرو
آہستہ آہستہ بادشاہ میں تبدیلی آنے لگی
وہ اب الٹے حکم نہیں دیتا تھا
وہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کرتا تھا
لوگ بھی اب اس کی عزت کرنے لگے
جو لوگ پہلے اس پر ہنستے تھے اب اس کی تعریف کرتے تھے
پڑوسی ملک کے بادشاہ نے بھی اس کی تعریف کی
اور کہا کہ اب یہ ملک ترقی کرے گا
بادشاہ نے اپنے ملک میں اسکول کھولے
جہاں بچوں کو عقل مندی کی باتیں سکھائی جاتیں
اس نے کہا کہ میرے جیسا بے وقوف کوئی نہ بنے
ہر بچے کو تعلیم حاصل کرنی چاہیے
اس نے کسانوں کی مدد کی
انہیں اچھے بیج دیے
تاجروں کے لیے آسانیاں پیدا کیں
ملک میں خوشحالی آنے لگی
کچھ سالوں بعد وہی بے وقوف بادشاہ عقل مند بادشاہ کہلانے لگا
لوگ اسے راجہ عقل مند کہنے لگے
اس کی کہانی دور دور تک مشہور ہو گئی
کہ ایک بے وقوف بادشاہ کیسے عقل مند بن گیا
اس کہانی سے ہمیں سبق ملتا ہے
کہ کوئی بھی پیدائشی بے وقوف نہیں ہوتا
اگر کوشش کی جائے تو بے وقوف بھی عقل مند بن سکتا ہے
ضرورت صرف سیکھنے کی نیت کی ہے
اور دوسروں کی اچھی بات ماننے کی ہے
غرور اور ضد سے انسان بے وقوف بنتا ہے
عاجزی اور سیکھنے سے عقل مند بنتا ہے
بے وقوف بادشاہ کی یہ کہانی یہیں ختم ہوتی ہے
مگر اس کا سبق ہمیشہ یاد رہے گا

Leave a Reply

NZ's Corner