ایک نوجوان ایک ہوٹل میں داخل ہوا اور ویٹر سے بولا
“چھ پلیٹ مرغی، چار پلیٹ دال، آٹھ پلیٹ سبزی، پانچ پلیٹ قورمہ، ایک بڑی ڈش پلاؤ اور پچاس روٹیاں لے آؤ!”
ویٹر نے حیرت سے اسے دیکھا، مگر آرڈر کچن میں پہنچا دیا۔
تھوڑی دیر بعد کھانوں کا ڈھیر اس کے سامنے لگا دیا گیا۔ نوجوان نے آستینیں چڑھائیں اور ایسے ٹوٹ پڑا جیسے کئی دنوں سے بھوکا ہو۔ دیکھتے ہی دیکھتے ساری دیگیں اور روٹیاں صاف ہوگئیں۔
اتفاق سے ایک سرکس کا مالک بھی وہاں بیٹھا یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ وہ فوراً نوجوان کے پاس آیا اور بولا:
“بھائی، سرکس میں کام کرو گے؟”
نوجوان نے پوچھا:
“کام کیا کرنا ہوگا؟”
مالک مسکرایا:
“بس وہی جو تم ابھی کر رہے تھے!”
نوجوان نے فوراً ہامی بھر لی۔
چند دن بعد سرکس میں اس کا پہلا شو ہوا۔ نوجوان کے سامنے کھانوں کا پہاڑ لگا دیا گیا۔ حاضرین سانس روکے اسے دیکھتے رہے اور وہ پلک جھپکتے میں سب کچھ چٹ کر گیا۔
پورا پنڈال تالیوں سے گونج اٹھا۔
سرکس کا مالک خوشی سے پھولا نہ سمایا۔
“کمال کر دیا! اگر تم دوسرا شو بھی کر دو تو آج ہماری قسمت بدل جائے گی!”
نوجوان نے کہا:
“ٹھیک ہے، کھانے کا انتظام کرو۔”
دوسرے شو میں بھی اس نے پہلے سے کم نہ کھایا۔ حاضرین دنگ رہ گئے اور ایک بار پھر تالیوں کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔
اب سرکس کے باہر لوگوں کا ہجوم لگ چکا تھا۔
شو ختم ہونے کے بعد مالک بھاگتا ہوا اس کے پاس آیا اور بولا:
“نوجوان! شہر بھر میں تمہارے چرچے ہو رہے ہیں۔ لوگ دکانیں بند کرکے تمہارا تماشا دیکھنے آ رہے ہیں۔ اگر تم تیسرا شو بھی کر دو تو میں تمہاری فیس چار گنا بڑھا دوں گا!”
نوجوان نے چند لمحے سوچا، پھر سر ہلاتے ہوئے بولا:
“معاف کیجیے جناب، تیسرا شو ممکن نہیں۔”
مالک گھبرا کر بولا:
“کیوں؟ آخر کیوں؟”
نوجوان نے بڑے سکون سے جواب دیا:
🤣آخر مجھے گھر جا کر کھانا بھی تو کھانا ہے!
