جون کی تپتی ہوئی رات تھی، حبس اتنا کہ پنکھا بھی گرم ہوا کے تھپڑے مار رہا تھا۔ اچانک ٹھاہ کی آواز آئی اور پورے محلے کی بجلی ایسے غائب ہوئی جیسے امتحان کے بعد طالب علم کے دماغ سے کتابی باتیں غائب ہو جاتی ہیں۔
گھروں کے اندر دم گھٹنے لگا تو باری باری پورا محلہ اپنی اپنی چھتوں پر منتقل ہو گیا۔ تھوڑی ہی دیر میں چھتیں آباد ہو گئیں اور اندھیرے میں صرف سگریٹ کی روشنیاں اور موبائلوں کی ٹارچیں نظر آنے لگیں۔
سب سے پہلے آواز چوہدری صاحب کی چھت سے آئی: اوئے شیدے! تیرے گھر کی بھی گئی ہے کیا؟
دوسری طرف سے آواز آئی: نہیں چوہدری صاحب! میں نے تو گھر میں سورج پال رکھا ہے، بس ویسے ہی اندھیرے میں تارے گن رہا ہوں!
محلے کے لڑکوں نے موقع غنیمت جانا اور چھتوں پر ہی کرکٹ شروع کر دی۔ تایا جی جو نیچے گرمی سے بے حال ہو کر اوپر آئے تھے، ان کے سر پر جیسے ہی گیند لگی، انہوں نے وہیں سے بجلی والوں کو ایسی ایسی دعائیں دیں کہ اگر واپڈا والے سن لیتے تو استعفیٰ دے دیتے۔
تباہی والا اختتام
رات کے دو بج چکے تھے، بجلی آنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ محلے کی خواتین نے چھتوں کی دیواروں کے ساتھ لگ کر محلے بھر کی غیبتوں کا سیشن شروع کر دیا تھا۔ اسی دوران محلے کے سب سے ڈرپوک لڑکے، پپو، کو شرارت سوجھی۔ اس نے سفید چادر اوڑھی اور پڑوسیوں کی چھت پر آہٹ کی۔
خالہ زبیدہ، جو اس وقت بتا رہی تھیں کہ کیسے ان کی بہو نے سالن میں نمک تیز کر دیا ہے، انہوں نے جیسے ہی سفید سایہ دیکھا، ایسی فلک شگاف چیخ ماری کہ پورے محلے میں جن آگیا، جن آگیا کا شور مچ گیا۔
پپو جو خود کو بڑا فنکار سمجھ رہا تھا، بدحواسی میں بھاگتے ہوئے پانی کی ٹنکی سے ٹکرا گیا اور ٹنکی کا ڈھکن کھلا ہونے کی وجہ سے سیدھا اس کے اندر جا گرا۔ اب ٹنکی کے اندر سے گپ گپ کی آوازیں آنے لگیں تو لوگوں کو یقین ہو گیا کہ جن اب پانی پی رہا ہے۔
چوہدری صاحب نے بہادری دکھائی اور ہاتھ میں ڈنڈا لے کر ٹنکی کی طرف بڑھے ۔ جیسے ہی انہوں نے ٹنکی میں ٹارچ ماری، پپو بھیگی بلی بنا باہر نکلا۔ اسی لمحے اچانک بجلی آگئی!
بجلی آتے ہی پورے محلے میں ایسا شور مچا جیسے پاکستان نے ورلڈ کپ جیت لیا ہو۔ لیکن اصل نظارہ تب ہوا جب سب کی نظریں چھتوں پر گئیں۔
چوہدری صاحب بنیان میں کھڑے تھے اور ہاتھ میں بیلن پکڑا ہوا تھا جو وہ جلدی میں کچن سے اٹھا لائے تھے۔ خالہ زبیدہ ڈر کے مارے اپنے پڑوسی کے گھر کی چھت پر منتقل ہو چکی تھیں اور واپسی کا راستہ بھول گئی تھیں۔ پپو جو ٹنکی سے نکلا تھا، اس کے پورے جسم پر کائی جمی ہوئی تھی اور وہ واقعی کسی آبی جن کا چھوٹا بھائی لگ رہا تھا۔
بجلی آتے ہی سب اپنے اپنے کمروں کی طرف ایسے بھاگے جیسے پولیس کا چھاپہ پڑا ہو، لیکن پپو اگلے ایک مہینے تک محلے کے بچوں کے لیے ٹنکی والا بھوت بنا رہا۔ جیسے ہی بجلی آئی، سب سے زیادہ خوشی چوہدری صاحب کو ہوئی کیونکہ ان کا اے سی چلنے والا تھا۔ وہ فاتحانہ انداز میں نیچے اپنے کمرے میں پہنچے اور پوری رفتار پر اے سی چلا کر سکون سے لیٹ گئے۔ ابھی انہیں نیند آنے ہی لگی تھی کہ اچانک پورے محلے میں زوردار دھماکہ ہوا اور بجلی پھر چلی گئی۔
معلوم ہوا کہ بجلی آتے ہی پورے محلے نے ایک ساتھ اپنے اپنے اے سی، استریاں اور موٹریں چلا دی تھیں، جس کی وجہ سے محلے کا ٹرانسفارمر توبہ کر کے پھٹ گیا تھا۔
چوہدری صاحب غصے میں دوبارہ چھت پر چڑھے اور چیخ کر بولے: اوئے شیدے! یہ کیا ہوا؟ ابھی تو آئی تھی!
اندھیرے میں سے شیدے کی آواز آئی: چوہدری صاحب! لگتا ہے بجلی صرف یہ دیکھنے آئی تھی کہ ٹنکی سے پپو صحیح سلامت نکل آیا ہے یا نہیں، اب اسے تسلی ہو گئی ہے تو وہ واپس چلی گئی ہے۔
پورا محلہ ایک بار پھر چھتوں پر تھا، مگر اس بار سب کے پاس ٹارچیں نہیں بلکہ ہاتھ والے پنکھے تھے اور پپو، جو ابھی تک گیلا تھا، اندھیرے میں کھڑا سب کو مشورہ دے رہا تھا: فکر نہ کریں، اگلی بار جب بجلی آئے گی تو میں ٹنکی کے بجائے فریج میں چھپ جاؤں گا، شاید وہ ہمیں ٹھنڈا رکھنے کے لیے تھوڑی دیر زیادہ رک جائے!
چوہدری صاحب نے اپنا بیلن دیوار پر مارا اور بولے: اب تو ٹرانسفارمر نیا آئے گا یا میں نیا محلہ ڈھونڈوں گا!😂😂
شیدے میاں 👌
اگر آپ کو تحریر پسند آئی ہو تو کمنٹ ضرور کریں۔ اور پیج کو فالو اور پوسٹ کو شیئر کریں.
