جعلی پیر

جعلی پیر

ایک گاؤں میں ایک شخص آیا جو خود کو بڑا پیر اور صاحبِ کرامت بتاتا تھا۔ وہ دعویٰ کرتا تھا کہ اسے پوشیدہ باتوں کا علم ہے اور وہ ہر مشکل کا حل جانتا ہے۔

سادہ لوح گاؤں والے اس کی باتوں پر یقین کرنے لگے اور اسے تحفے اور نذرانے دینے لگے۔

گاؤں میں مریم نام کی ایک سمجھدار عورت رہتی تھی۔ اسے شک تھا کہ یہ شخص لوگوں کو دھوکا دے رہا ہے، مگر وہ بغیر ثبوت کے کسی پر الزام نہیں لگانا چاہتی تھی۔

ایک دن وہ ایک بند مٹکا لے کر پیر کے پاس پہنچی اور بولی:

“اگر آپ واقعی سب کچھ جانتے ہیں تو بتائیے، اس مٹکے میں کیا ہے؟”

پیر پریشان ہو گیا، لیکن اپنی جھوٹی شہرت بچانے کے لیے فوراً بولا:

“اس میں سونے کا کڑا ہے!”

مریم نے مسکرا کر مٹکا کھولا۔

اندر صرف چند کنکر پڑے تھے۔

مجمع خاموش ہو گیا۔

تب مریم نے کہا:

“جو شخص ایک بند مٹکے کے اندر کی چیز نہ جان سکے، وہ لوگوں کی قسمت اور مستقبل کا علم کیسے رکھ سکتا ہے؟”

یہ سن کر گاؤں والوں کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا اور جعلی پیر شرمندہ ہو کر وہاں سے چلا گیا۔

عقل اور شعور انسان کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔ ہر دعویٰ سچ نہیں ہوتا، اس لیے کسی کی بات پر یقین کرنے سے پہلے اسے پرکھ لینا چاہیے۔

Leave a Reply

NZ's Corner