جنگل میں ایک دن بڑا ہنگامہ برپا تھا۔ اعلان ہوا کہ اب بادشاہ کا انتخاب ہوگا، اور ہر وہ جانور جو اپنے آپ کو اہل سمجھتا ہے، دعویٰ پیش کر سکتا ہے۔
پہلا امیدوار اونٹ تھا۔ وہ گردن تان کر، ریتلے فخر کے ساتھ آگے آیا اور بولا:
“میں صبر کا پہاڑ ہوں، طاقت کا مینار ہوں! جنگل کی ہر مشکل میں کام آ سکتا ہوں۔ بادشاہی کا حق تو صرف مجھے ہے!”
ابھی اس کا جملہ مکمل بھی نہ ہوا تھا کہ ہاتھی صاحب دھمکتے ہوئے تشریف لائے۔ زمین کانپ گئی، پرندے اڑ گئے، اور ہاتھی نے بھاری آواز میں کہا:
“ذرا ٹھہرو! تم خود کو کیا سمجھتے ہو؟ اصل طاقت تو میرے پاس ہے! میں چاہوں تو پورا جنگل اٹھا کر رکھ دوں!”
بات بڑھتی گئی، آوازیں اونچی ہوئیں، اور معاملہ “میں بڑا ہوں” سے “نہیں، میں بڑا ہوں” تک پہنچ گیا۔
اسی شور شرابے میں بندر صاحب درخت سے جھولتے جھولتے نیچے اترے، مونچھوں (جو ان کے پاس نہیں تھیں مگر انداز ایسا ہی تھا) کو سنوارتے ہوئے بولے:
“بس بس! تم دونوں بادشاہی کے لائق نہیں ہو۔”
اونٹ نے حیران ہو کر پوچھا: “وہ کیوں بھلا؟”
بندر نے ذرا سا طنز ملا کر جواب دیا: “کیونکہ طاقت تو تم دونوں کے پاس ہے، مگر عقل؟ وہ ذرا کم دکھائی دے رہی ہے۔ جو اپنے خوف پر قابو نہ پا سکے، وہ دوسروں کی حفاظت کیا خاک کرے گا!”
ہاتھی نے غصے میں سونڈ ہلائی: “میں اور خوفزدہ؟ یہ تو میری توہین ہے!”
بندر مسکرایا اور چالاکی سے بولا: “اچھا؟ تو پھر بتاؤ… کیا تم سور سے نہیں ڈرتے؟”
یہ سنتے ہی ہاتھی ایک لمحے کو ساکت رہ گیا۔ آنکھیں واقعی بڑی ہو گئیں، اور خاموشی نے خود بھی حیرت سے سانس روک لی۔
بندر نے فوراً بات پکڑی: “دیکھا؟ جس کا دل ایک چھوٹے سے سور کے خیال سے بھی لرز جائے، وہ جنگل کا بادشاہ کیسے بنے گا؟ پہلے اپنے ڈر کو فتح کرو، پھر تاج کی بات کرو!”
اور پھر بندر دوبارہ درخت پر چڑھ گیا، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
سبق:
بادشاہی صرف جسامت یا طاقت سے نہیں ملتی، بلکہ دل کی بہادری اور خوف پر قابو پانے سے ملتی ہے ورنہ کبھی کبھی ایک چھوٹا سا “ڈر” بھی بڑے بڑے دعوؤں کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔
منقول
