ایک جنگل میں ایک بہت بڑا ریچھ قاضی (جج) مقرر کیا گیا۔ اس ریچھ کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ قانون کی کتاب کا بہت ماہر ہے، لیکن اس کی ایک آنکھ پر “پٹی” بندھی تھی جسے وہ اپنی مرضی سے کھولتا اور بند کرتا تھا۔
ایک دن ایک غریب بکری روتی ہوئی عدالت میں آئی۔ اس کا الزام یہ تھا کہ ایک بھیڑیے نے اس کے بچوں کا راشن چھین لیا ہے اور اسے زخمی کر دیا ہے۔
ریچھ نے بھیڑیے کو طلب کیا۔ بھیڑیا بہت آرام سے عدالت میں آیا، اس کے ساتھ دو لومڑیاں بطور وکیل تھیں۔ لومڑیوں نے عدالت میں ایسی ایسی بحث کی کہ قانون کی کتابیں کانپ اٹھیں۔ انہوں نے کہا:
“حضور! بھیڑیے نے جو کیا وہ تو ‘ضرورتِ وقت’ (Doctrine of Necessity) کے تحت تھا۔ اور ویسے بھی، بکری کے پاس کیا ثبوت ہے کہ وہ راشن اس کا تھا؟ کیا اس نے راشن کارڈ پر انگوٹھا لگایا تھا؟”
ریچھ نے بکری سے کہا: “تمہارے ثبوت کمزور ہیں، مزید گواہ لاؤ!” بیچاری بکری گواہ کہاں سے لاتی، کیونکہ باقی جانور بھیڑیے کے ڈر سے بلوں میں گھسے ہوئے تھے۔ ریچھ نے کیس کو “غیر معینہ مدت” کے لیے ملتوی کر دیا (یعنی تاریخ پر تاریخ دینا شروع کر دی)۔
اگلے ہی دن، ایک عجیب واقعہ ہوا۔ اسی بھیڑیے نے ریچھ کے باغ سے ایک شہد کا چھتہ چرانے کی کوشش کی۔ اس بار ریچھ نے فوراً اپنی پٹی کھولی، ہتھوڑا مارا اور حکم دیا:
“بھیڑیے کو فوراً گرفتار کیا جائے! اس نے ‘جنگل کے وقار’ کو ٹھیس پہنچائی ہے۔”
بھیڑیے نے مسکرا کر ریچھ کے کان میں کچھ کہا اور ایک “بند لفافہ” میز پر رکھ دیا۔ ریچھ کا غصہ اچانک ٹھنڈا ہو گیا۔ اس نے فیصلہ سنایا:
“تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ بھیڑیا تو صرف چھتے کو ‘تحفظ’ دے رہا تھا۔ اصل قصور ان مکھیوں کا ہے جنہوں نے چھتہ اتنی اونچی جگہ کیوں بنایا کہ بھیڑیے کا ہاتھ وہاں تک پہنچ گیا!”
عدالت کے باہر کھڑے جانوروں نے جب یہ سنا تو ایک بوڑھے کتے نے کہا:
“اس جنگل میں قانون کی زنجیر اتنی کمزور ہے کہ مچھر تو اس میں پھنس جاتا ہے، لیکن مگرمچھ اسے توڑ کر نکل جاتا ہے۔”
کستانی تناظر میں اس کے اہم نکات (Political Analysis):
1. دہرا معیار: طاقتور کے لیے “رات کو عدالتیں کھلنا” یا ریلیف ملنا، جبکہ عام آدمی برسوں دھکے کھاتا ہے۔
2. نظریہ ضرورت (Doctrine of Necessity): غیر قانونی کاموں کو قانونی جواز فراہم کرنا۔
3. بند لفافے اور ڈیل: پسِ پردہ ہونے والے معاہدے جو فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
4. تکنیکی بنیادوں پر ریلیف: ثبوتوں کے باوجود قانون کی باریکیوں میں چھپا کر مجرم کو بچانا۔
ایک مشہور قول:
“انصاف میں تاخیر، انصاف کا قتل ہے۔ اور جہاں جج بک جائیں، وہاں بستی اجڑ جاتی ہے۔”
اگر آپ کو ہماری پوسٹ/کہانیاں پسند آتی ہیں تو لائک اور شئیر ضرور کریں
