حیثیت

حیثیت

ایک دن ملک شام کا بادشاہ سیف الدولہ اپنے دربار میں رونق افروز تھا۔ بڑے بڑے عالم و فاضل اس کے سامنے بیٹھے تھے۔ اتنے میں ایک سیدھا سادا شخص تر کی لباس پہنے دربار میں داخل ہوا۔ بادشاہ نے اسے بیٹھنے کے لیے کہا۔ اس شخص نے بے باکی سے کہا: کہاں؟ کس جگہ؟ کیا میں اپنی حیثیت کے مطابق بیٹھوں ؟“

اس سوال پر بادشاہ کو بڑی حیرت ہوئی ۔ پھر کہا: ” ہاں اپنی حیثیت کے مطابق ۔“ یہ سن کر وہ شخص صفوں کو چیرتا ہوا بادشاہ کے تخت پر گیا اور اسے ہٹا کر خود بیٹھنا چاہا۔

بادشاہ کو اس شخص کی اس حرکت پر شدید غصہ آیا اور خادموں سے اپنی زبان میں کہا کہ یہ شخص بہت بے ادب ہے۔ مگر میں اس سے چند سوال کروں گا ، اگر یہ جواب نہ دے سکا تو اسے نہایت سخت سزا دوں گا۔ وہ شخص بادشاہ کی زبان جانتا تھا۔ اس نے اسی زبان میں بادشاہ سے کہا : اے بادشاہ ذرا صبر کر بادشاہ نے حیرت سے پوچھا۔ ” کیا تم یہ زبان جانتے ہو؟“ اس شخص نے جواب دیا کہ یہی نہیں بلکہ میں دنیا کی ستر سے زیادہ زبانیں جانتا ہوں۔ بس پھر کیا تھا، بادشاہ کا سارا غصہ جاتا رہا اور اس شخص کی علمیت اور قابلیت کا رعب پورے دربار پر چھا گیا۔ بادشاہ نے نہایت احترام سے اس شخص کو اپنے پاس بٹھایا اور دربار میں موجود عالموں اور فاضلوں سے اس شخص سے گفتگو کرنے کے لیے کہا لیکن اس شخص نے تمام درباریوں کو بحث میں ہرا دیا۔

یہ اجنبی شخص دنیائے اسلام کے عظیم سپوت ابونصر فارابی تھے، جو اپنے زمانے کے تمام سائنسی علوم کے عالم اور ستر سے زیادہ زبانوں کے ماہر تھے۔ ابونصر روسی ترکستان کے دریائے سیحون کے کنارے واقع ایک سرسبز و شاداب شہر فاراب میں ۴۵۹ھ میں پیدا ہوئے ۔ اسی نسبت سے فارابی کہلائے۔ اُن کے والد کا پیشہ سپہ گری تھا مگر فارابی کو پڑھنے لکھنے کا بہت شوق تھا۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم فاراب اور بخارا میں حاصل کی، پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے بغداد چلے گئے اور چالیس سال وہاں رہ کر مختلف علم وفنون میں کمال حاصل کیا۔
حصول علم کی لگن نے انھیں پھر بھی چین سے نہ بیٹھنے دیا اور دمشق و مصر جا کر مزید علم حاصل کیا۔ ابونصر فارابی کی قابلیت سے متاثر ہو کر شام کے بادشاہ سیف الدولہ نے انھیں وزارت کا عہدہ دیا۔ آپ نے برسوں کی محنت سے سائنس ، طب، ریاضی اور بہت سے علوم میں بہترین کام پیش کیا اور سینکڑوں کتا بیں لکھیں مگر افسوس کہ ان کی بہت سی کتابیں ضائع ہو گئیں تاہم جو بچ گئیں ان کی تعداد بھی ایک سو سترہ ہے۔ ان کتابوں سے نہ صرف دنیائے اسلام کے بڑے بڑے عالموں اور مفکروں نے بلکہ یورپ نے بھی بھر پور فیض حاصل کیا۔ دنیا کے یه عظیم مفکر بادشاہ کا خاص آدمی ہونے کے باوجود نہایت سادہ زندگی بسر کرتے تھے۔ انھیں فضول خرچی سے سخت نفرت تھی ۔ ہزاروں روپے وظیفہ چھوڑ کر صرف چار درہم روزانہ شاہی خزانے سے لے کر اپنی ضروریات پوری کرتے تھے۔ ان کی طبیعت میں شروع ہی سے صبرو قناعت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ خوشامد اور چاپلوسی سے انھیں نفرت تھی ، بس کتابیں ان کا اوڑھنا بچھونا تھیں۔ خوداری کا یہ عالم تھا کہ شروع میں ایک باغ کی رکھوالی کی ۔ اگر گھر کے چراغ میں تیل نہ ہوتا تو پہرے داروں کے چراغ تلے رات رات بھر مطالعہ کرتے ۔ قدرت نے ان کی محنت کا یہ صلہ دیا کہ ساری دنیا میں ان کے پھیلائے ہوئے علم کے چراغ روشن ہو گئے۔ –

دنیائے اسلام کے اس عظیم فرزند نے ۳۳۹ھ میں ۸۰ سال کی عمر میں دمشق میں وفات پائی اور وہیں مدفون ہوئے ۔ ان کا فرمان عالیشان تھا:

علم حاصل کرنے کے لیے انسان کو صحت مند و خوش مزاج اور خوش اخلاق ہونا چاہیے اور سب سے پہلے قرآن اور سیرت پاک کا مطالعہ کرنا چاہیے۔“

Leave a Reply

NZ's Corner