خاموش دعا کا معجزہ.. ایک دلچسپ سبق آموز کہانی

خاموش دعا کا معجزہ.. ایک دلچسپ سبق آموز کہانی

ایک اندھیری رات، گرجتے طوفان نے سمندر کو قیامت بنا دیا۔ ایک بڑا بحری جہاز لہروں سے لڑتا ہوا آخرکار ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ سینکڑوں مسافروں میں سے صرف دو بدقسمت لوگ زندہ بچے۔ دونوں تھکے ہارے، زخمی جسموں کے ساتھ تیرتے ہوئے ایک ویران، بنجر جزیرے کے ساحل پر آ گرے۔

بھوک، پیاس اور ناامیدی نے انہیں گھیر لیا۔ آخر دونوں نے فیصلہ کیا کہ اب صرف خدا سے دعا ہی آخری سہارا ہے۔ مگر دل میں ایک سوال اٹھا — آخر خدا کس کی سنتا ہے؟ مقابلہ کرنے کے لیے انہوں نے جزیرے کو دو حصوں میں بانٹ لیا۔ ایک شمال میں، دوسرا جنوب میں۔ اب فیصلہ دعاؤں سے ہونا تھا۔

پہلے دن دونوں نے کھانے کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ صبح ہوتے ہی پہلے آدمی کی زمین پر ایک گھنا، پھلوں سے لدا درخت اُگ آیا۔ وہ پیٹ بھر کر کھاتا رہا۔ دوسری طرف… سناٹا تھا۔ دوسرے آدمی کی زمین پر ایک تنکا تک نہ اُگا۔ وہ صرف بھوک سے بلکتا رہا۔

ایک ہفتہ گزرا۔ تنہائی نے پہلے آدمی کو کھانا شروع کر دیا۔ اس نے ایک ساتھی کے لیے دعا مانگی۔ اگلے دن، سمندر نے ایک اور تباہ شدہ جہاز کا ملبہ کنارے پر پھینکا۔ اس میں سے ایک لڑکی زندہ نکلی — اور وہ تیر کر سیدھا پہلے آدمی کی طرف آ گئی۔ دوسرے آدمی کے ساحل پر صرف خاموش لہریں تھیں۔

حوصلہ بڑھا تو پہلے آدمی کی خواہشیں بھی بڑھ گئیں۔ اس نے گھر مانگا، نرم کپڑے مانگے، ڈھیر سارا کھانا مانگا۔ اگلی صبح، اس کی آنکھوں کے سامنے ایک چھوٹا سا لکڑی کا گھر، کپڑوں کا صندوق، اور کھانے سے بھری ٹوکریاں موجود تھیں۔ جیسے کسی نے راتوں رات جنت اتار دی ہو۔ دوسرا آدمی اب بھی بھوکا، ننگا، بے گھر تھا۔

آخر پہلے آدمی نے سب سے بڑی دعا کی — “یا اللہ! ایک جہاز بھیج دے، تاکہ میں اس قید سے نکل جاؤں۔”

فجر کے وقت سمندر پر دھند چھٹی تو کنارے پر ایک شاندار جہاز کھڑا تھا۔ اس کے بادبان ہوا سے پھڑپھڑا رہے تھے۔ پہلا آدمی خوشی سے چلایا۔ وہ اپنی بیوی کا ہاتھ پکڑ کر جہاز پر چڑھ گیا۔ جاتے جاتے اس نے دوسرے آدمی کی طرف نفرت سے دیکھا۔

“یہ اس قابل ہی نہیں کہ خدا اس پر رحم کرے۔ اس کی ایک بھی دعا قبول نہیں ہوئی۔ میں کیوں اس بوجھ کو ساتھ لے جاؤں؟”

جیسے ہی جہاز نے لنگر اٹھایا، آسمان یکدم سیاہ ہو گیا۔ بادلوں میں بجلی کڑکی۔ اور پھر… ایک گرج دار آواز پورے جزیرے پر گونج اٹھی۔

“ٹھہرو! تم اپنے ساتھی کو اس ویرانے میں مرنے کے لیے کیوں چھوڑ رہے ہو؟”

پہلا آدمی گھبرایا، مگر غرور سے بولا: “یہ سب میری محنت ہے! میری دعائیں ہیں! اس نے کچھ نہیں مانگا، اسے کچھ نہیں ملا۔ یہ نعمتیں صرف میری ہیں!”

آسمان سے قہر بھری آواز آئی: “نادان! تو سخت غلطی پر ہے۔ اس شخص نے پوری زندگی میں صرف ایک دعا کی تھی… اور میں نے صرف وہی دعا قبول کی تھی۔ اگر وہ دعا نہ ہوتی، تو تجھے ایک دانہ بھی نصیب نہ ہوتا!”

پہلے آدمی کا چہرہ پیلا پڑ گیا۔ اس کی آواز کانپنے لگی۔ “ک… کون سی دعا؟ اس نے کیا مانگا تھا کہ آج میں اس کا مقروض ہوں؟”

چند لمحے سناٹا چھا گیا۔ پھر وہی آواز نرمی سے بولی۔ ایک ایسا جملہ جس نے پہلے آدمی کے غرور کے محل کو زمین بوس کر دیا:

“دوسرے آدمی نے اپنے لیے بھی دعا کی، مگر اس کی سب سے بڑی دعا یہ تھی:
‘یا اللہ! اگر میری دعا قبول ہو تو میرے ساتھی کی ہر دعا قبول فرما۔’
چنانچہ خدا نے اس کی سب سے محبوب دعا قبول کر لی۔”

جہاز پر خاموشی چھا گئی۔ پہلے آدمی کے ہاتھ سے بیوی کا ہاتھ چھوٹ گیا۔ اسے اپنا محل جیسا گھر، پھل دار درخت، اور یہ جہاز سب زہر لگنے ۔

Leave a Reply

NZ's Corner