دریا

دریا

قدیم چین کے ایک پُرسکون خطے میں ایک دریا بہتا تھا۔ اس کا پانی شفاف آئینے کی مانند تھا، اور اس کی لہریں یوں گنگناتی تھیں جیسے قدرت کوئی خاموش نغمہ سنا رہی ہو۔ دریا کے کنارے ایک بزرگ فلسفی اکثر بیٹھا رہتا۔ وہ بہتے پانی کو دیکھتا اور اس کی روانی میں زندگی کے راز تلاش کرتا۔
ایک صبح سورج کی سنہری کرنیں پانی پر بکھر رہی تھیں کہ ایک نوجوان وہاں آ پہنچا۔ اس کی آنکھوں میں خود اعتمادی اور لہجے میں غرور تھا۔
اس نے فلسفی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:
“استاد! لوگ کہتے ہیں کہ دریا کو روکا نہیں جا سکتا، مگر میں اسے تھام سکتا ہوں۔”
فلسفی نے مسکرا کر کہا:
“اگر ایسا ہے تو ضرور کوشش کرو۔”
نوجوان آگے بڑھا۔ اس نے دونوں ہاتھ دریا کے پانی میں ڈال دیے اور پوری طاقت سے بہتے پانی کو روکنے کی کوشش کی۔
مگر پانی ہنستا ہوا اس کی انگلیوں کے درمیان سے پھسل گیا۔
اس نے پھر کوشش کی۔
پانی پھر نکل گیا۔
اس نے دونوں بازو پھیلا دیے، مگر دریا اپنی دھن میں بہتا رہا، جیسے اسے کسی کی ضد کی کوئی پروا نہ ہو۔
کافی دیر بعد نوجوان تھک کر کنارے پر بیٹھ گیا۔
“میں ناکام ہو گیا،” اس نے مایوسی سے کہا۔
فلسفی نے دریا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
“تم نے پانی کو قید کرنا چاہا، حالانکہ پانی کی فطرت بہنا ہے۔ جو چیز بہنے کے لیے پیدا ہوئی ہو، اسے روکا نہیں جا سکتا۔”
نوجوان نے سوال کیا:
“پھر انسان کیا کرے؟ اگر وہ کسی چیز کو روک نہ سکے تو؟”
فلسفی کی آنکھوں میں دانائی کی چمک ابھری۔
وہ بولا:
“دریا سے لڑنے کی کوشش مت کرو، اس سے سیکھو۔ جب پانی بہتا ہے تو راستہ بدل لیتا ہے، مگر رکتا نہیں۔ جب اسے چٹان ملتی ہے تو وہ چٹان کو دھکا نہیں دیتا، بلکہ اس کے گرد راستہ بنا لیتا ہے۔”
نوجوان غور سے سننے لگا۔
فلسفی نے کہا:
“زندگی بھی ایک دریا ہے۔ وقت، حالات، خوشیاں، غم، جدائیاں اور تبدیلیاں یہ سب بہتے پانی کی مانند ہیں۔ جو انہیں مٹھی میں قید کرنا چاہتا ہے، وہ خالی ہاتھ رہ جاتا ہے۔”
پھر اس نے آہستہ سے کہا:
“دریا کو تھامنے والا اکثر ڈوب جاتا ہے، مگر دریا کے ساتھ بہنے والا آخرکار ساحل پا لیتا ہے۔”
یہ الفاظ نوجوان کے دل میں اتر گئے۔
اس نے دریا کی طرف دیکھا، گہرا سانس لیا اور پانی میں اتر گیا۔
پہلے وہ گھبرایا، لہروں سے لڑنے کی کوشش کی، مگر جلد ہی اسے فلسفی کی بات یاد آ گئی۔
اس نے مزاحمت چھوڑ دی اور پانی کے بہاؤ کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کر لیا۔
اب دریا اس کا دشمن نہیں تھا، اس کا ساتھی تھا۔
لہریں اسے اٹھاتی رہیں، سنبھالتی رہیں، اور کچھ ہی دیر بعد وہ بحفاظت دوسرے کنارے پر پہنچ گیا۔
اس نے مڑ کر فلسفی کو دیکھا۔
بزرگ مسکرا رہا تھا، اور دریا اپنی ازلی دھن میں بہہ رہا تھا۔
اس دن نوجوان نے جان لیا کہ بعض جنگیں جیتنے کے لیے نہیں، سمجھنے کے لیے ہوتی ہیں۔
سبق
زندگی میں کچھ چیزیں
وقت، تبدیلی، تقدیر اور گزرے ہوئے لمحے دریا کی مانند ہوتی ہیں۔ انہیں روکنے کی ضد انسان کو تھکا دیتی ہے۔ دانائی اس میں نہیں کہ ہر چیز پر قابو پایا جائے، بلکہ اس میں ہے کہ جو ناگزیر ہو، اس کے ساتھ چلنا سیکھ لیا جائے۔ جو بہاؤ کو سمجھ لیتا ہے، وہ بالآخر اپنے ساحل تک پہنچ جاتا ہے۔ 🌊✨📖
#منقول

Leave a Reply

NZ's Corner