نصیر بھائی کی سستی کے قصے پورے علاقے میں مشہور تھے۔
ایک دن وہ آم کے درخت کے نیچے لیٹے تھے کہ اچانک ایک پکا ہوا آم ٹوٹ کر سیدھا ان کے سینے پر آ گرا۔
انہوں نے آنکھ کھولی…
آم کو دیکھا…
پھر دوبارہ آنکھ بند کر لی۔ 😴
کیونکہ آم اٹھانے کے لیے ہاتھ ہلانا پڑتا تھا! 😂
کافی دیر بعد ان کا دوست بشیر وہاں سے گزرا۔
نصیر بھائی نے آہستہ سے آواز دی:
“اوئے بشیر… ذرا ادھر آ… ایک بہت ضروری کام ھے۔”
بشیر بھاگتا ھوا آیا:
“خیر تو ھے؟”
نصیر بھائی بولے:
“یار…! یہ آم اٹھا کر میرے منہ میں ڈال دے، کافی دیر سے سینے پر بوجھ بنا ھوا ھے!” 🥭😂
بشیر نے ماتھا پکڑ لیا۔
بولا:
“نصیر! تم اتنے سست ھو؟ سنا ھے تم نے ایک کتا بھی رکھا ھوا ھے، وہ کہاں ھے؟”
نصیر بھائی نے ٹھنڈی سانس لی اور بولے:
“یار… وہ تو مجھ سے بھی دو ہاتھ آگے نکلا!”
بشیر حیران ھوا:
“کیسے؟”
نصیر بھائی بولے:
“کل رات چور پورا گھر صاف کر گیا، مگر کتے نے ایک بار بھی نہیں بھونکا!”
بشیر نے پوچھا:
“وہ سو رہا تھا؟”
نصیر بھائی بولے:
“نہیں… جاگ رہا تھا۔”
“پھر بھونکا کیوں نہیں؟”
نصیر بھائی نے بڑے سکون سے جواب دیا:
“وہ انتظار کر رہا تھا کہ چور پہلے اس کی دم پر پیر رکھے تاکہ بھونکنے کی کوئی ‘وجہ’ تو بنے! بغیر وجہ کے اپنی انرجی کیوں ضائع کرتا؟” 🤣🤣🤣
سبق:
کچھ لوگوں کی سستی اتنی خطرناک ھوتی ھے کہ ان کے پالتو جانور بھی ان سے متاثر ھو جاتے ھیں! 😂
😄 اگر ہنسی آئی ھو تو ایک ایسے دوست کو مینشن کریں جو چھٹی والے دن نصیر بھائی کا رشتہ دار لگتا ھو! 😁😆
