ایک چھوٹے سے خوبصورت گاؤں کی بات ہے، جہاں دریا کے کنارے ایک پرانا اور گھنا درخت تھا۔ اس درخت پر ایک چھوٹا سا پرندہ رہتا تھا جس کا نام “رنگو” تھا۔ رنگو کے پر باقی پرندوں سے ذرا مختلف اور چمکدار تھے، لیکن وہ بہت شرمیلا تھا اور دوسرے پرندوں کے ساتھ کھیلنے سے کتراتا تھا۔
ہر شام گاؤں کے تمام پرندے دریا کے اوپر اونچی اڑان بھرتے اور مل کر گیت گاتے، لیکن رنگو ایک کونے میں بیٹھ کر بس انہیں دیکھا کرتا۔ اس کا دل تو بہت چاہتا تھا کہ وہ بھی ان کی طرح آزادانہ اڑے اور گائے، مگر اسے لگتا تھا کہ شاید اس کی آواز کسی کو پسند نہیں آئے گی۔
ایک روز ہوا یہ کہ جنگل میں سخت طوفان آ گیا۔ کالی گھٹا چھا گئی اور تیز ہواؤں کے ساتھ بارش شروع ہو گئی۔ باقی تمام پرندے ڈر کے مارے اپنے گھونسلوں میں چھپ گئے۔ طوفان کی خوفناک آوازوں کی وجہ سے ایک ننھی چڑیا کا بچہ اپنے گھونسلے سے نکل کر دریا کے پاس لٹکتی ہوئی ایک کمزور شاخ پر اٹک گیا۔ وہ ننھا بچہ درد سے چیخ رہا تھا، مگر طوفان کے شور میں کسی کو اس کی آواز نہیں سنائی دے رہی تھی۔
رنگو نے جب اس چھوٹے بچے کو مشکل میں دیکھا، تو وہ اپنا ڈر اور شرمیلا پن بالکل بھول گیا۔ اس نے ہمت کی، اپنے پر پھیلائے اور تیز ہواؤں کا مقابلہ کرتے ہوئے سیدھا اس شاخ کی طرف اڑا۔ طوفانی ہوا اسے پیچھے دھکیل رہی تھی، لیکن رنگو نے ہار نہیں مانی۔ وہ بالآخر بچے کے پاس پہنچا، اسے اپنی چنچ سے مضبوطی سے تھاما اور محفوظ جگہ پر لے آیا۔
جب طوفان تھما اور سورج دوبارہ نکلا، تو تمام پرندوں کو معلوم ہوا کہ رنگو نے کس طرح اپنی جان پر کھیل کر ننھے بچے کی جان بچائی ہے۔ سب پرندے اس کے گرد جمع ہو گئے اور اس کی بہادری کی داد دینے لگے۔
اس دن رنگو کو احساس ہوا کہ انسان ہو یا پرندہ، اصل خوبصورتی اور طاقت پروں کے رنگ یا میٹھی آواز میں نہیں، بلکہ مشکل وقت میں دوسروں کے کام آنے میں ہوتی ہے۔ اس کے بعد رنگو نے کبھی خود کو اکیلا یا کمزور نہیں سمجھا اور وہ باقی پرندوں کے ساتھ خوشی خوشی رہنے لگا۔


