سمندر اور مچھلی

سمندر اور مچھلی

نیلگوں پانیوں کی بے کراں دنیا میں ایک مچھلی رہتی تھی۔ وہ چست، طاقتور اور اپنے جھنڈ میں سب سے بڑی سمجھی جاتی تھی۔ وقت گزرتا گیا، اور اس کے جسم کے ساتھ ساتھ اس کا غرور بھی بڑھتا گیا۔
ایک دن اس نے اپنے گرد پھیلے ہوئے سمندر کو دیکھا اور نخوت بھرے لہجے میں بولی:
“میں اب پہلے جیسی نہیں رہی۔ میں بڑی ہو گئی ہوں۔ مجھے زیادہ جگہ چاہیے۔”
سمندر کی موجیں ہلکے سے مسکرائیں۔ اس کی گہرائیوں میں صدیوں کی خاموش حکمت موجزن تھی۔
وہ بولا:
“جگہ؟ اے مچھلی! تم جس وسعت کی طلبگار ہو، وہ پہلے ہی تمہارے گرد موجود ہے۔ تم میرے اندر ہو، اور میں تمہارے خیال سے بھی کہیں بڑا ہوں۔”
مچھلی نے اس بات کو معمولی جانا۔ اس نے مزید بڑھنے کی ٹھان لی۔
موسم بدلتے رہے، برس بیتتے گئے۔ مچھلی واقعی پہلے سے کہیں زیادہ بڑی ہو گئی۔ اس کی طاقت میں اضافہ ہوا، اس کی رفتار بڑھ گئی، اور اس کا اعتماد آسمان کو چھونے لگا۔
مگر جب اس نے دوبارہ چاروں طرف نظر دوڑائی تو وہی منظر اس کے سامنے تھا:
بے کنار افق… لا محدود گہرائیاں… اور خاموش، وسیع سمندر…
وہ جتنی بڑی ہوئی، سمندر پھر بھی اس سے بڑا رہا۔
تب پہلی بار اسے احساس ہوا کہ اپنی بڑائی کا اندازہ لگانا آسان ہے، مگر اُس وسعت کو سمجھنا مشکل ہے جس کے اندر ہم خود موجود ہوتے ہیں۔
تفسیر: انسان جب کامیابی، علم یا طاقت حاصل کرتا ہے تو اکثر خود کو بہت بڑا سمجھنے لگتا ہے۔ لیکن کائنات، حقیقت، علم اور وقت کا سمندر اس کی ذات سے کہیں زیادہ وسیع ہوتے ہیں۔ جو خود کو مرکزِ کائنات سمجھ بیٹھتا ہے، وہ اپنی محدودیت کو بھول جاتا ہے۔
حقیقی دانائی اپنی بڑائی کے اعلان میں نہیں، بلکہ اُس سمندر کی عظمت کو پہچاننے میں ہے جس نے ہمیں اپنے اندر جگہ دی ہوئی ہے۔
کیونکہ قطرہ جتنا بھی پھیل جائے، سمندر نہیں بن جاتا؛ اور سمندر اپنی وسعت کا اعلان کیے بغیر بھی سمندر رہتا ہے۔
#منقول

Leave a Reply

NZ's Corner