ایک رات ملا نصرالدین نے ایسا عجیب و غریب خواب دیکھا کہ صبح تک اس کی چمک ان کی آنکھوں میں باقی رہی۔
خواب میں انہوں نے دیکھا کہ آسمان کے دروازے کھل رہے ہیں، ستارے موتیوں کی طرح جھلملا رہے ہیں، اور ایک نورانی بزرگ ان کے ہاتھ میں ایک سنہری چابی تھما کر کہہ رہے ہیں:
“ملا! یہ آسمان کی چابی ہے۔”
ملا نے عقیدت سے چابی لی، اسے چوما اور سینے سے لگا لیا۔
اچانک آنکھ کھل گئی۔
صبح کی پہلی کرن کھڑکی سے اندر آ رہی تھی، مگر ملا کا دل ابھی تک خواب کی دنیا میں بھٹک رہا تھا۔
وہ چارپائی سے اچھل کر اٹھے اور زور سے اعلان کیا:
“لوگو! خوش خبری سنو! مجھے آسمان کی چابی مل گئی ہے۔”
محلے والے حیران ہو کر جمع ہو گئے۔
کسی نے پوچھا:
“ملا! چابی کہاں ہے؟”
ملا نے اعتماد سے جیب میں ہاتھ ڈالا۔
تعجب کی بات یہ تھی کہ جیب میں واقعی ایک پرانی سی چابی پڑی تھی۔
ملا کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
“دیکھا! میں نہ کہتا تھا؟ یہی وہ چابی ہے!”
لوگ ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔
ملا چابی لے کر گلی کے بیچ کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے چابی آسمان کی طرف بلند کی، پھر اسے گھمایا، ادھر موڑا، اُدھر گھمایا، کچھ دعائیں پڑھیں، کچھ سرگوشیاں کیں اور بڑی امید سے اوپر دیکھا۔
مگر آسمان اپنی جگہ خاموش کھڑا رہا۔
نہ کوئی دروازہ کھلا، نہ کوئی روشنی اتری، نہ کوئی فرشتہ نمودار ہوا۔
ملا نے دوبارہ کوشش کی۔
پھر تیسری بار۔
پھر چوتھی بار۔
لیکن نتیجہ وہی رہا۔
آخرکار ملا نے لمبی سانس لی اور افسوس سے سر ہلایا۔
“ہائے افسوس! یہ چابی غلط نکل آئی۔”
لوگوں نے حیران ہو کر پوچھا:
“ملا، ابھی تو آپ کہہ رہے تھے کہ یہی آسمان کی چابی ہے!”
ملا نے داڑھی سہلاتے ہوئے جواب دیا:
“نہیں بھائی، اصل چابی تو خواب میں تھی۔ میں نے خواب کی چابی جاگتی دنیا میں ڈھونڈ لی، مگر یہ وہ نہیں۔”
مجمعے میں قہقہہ بلند ہوا۔
ایک شخص ہنستے ہوئے بولا:
“ملا! خواب کی چابی سے آسمان نہیں کھلتا۔”
ملا چند لمحے خاموش رہے، پھر ان کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا اور بولے:
“تم نے بڑی سچی بات کہی ہے۔”
سب حیران ہو گئے۔
ملا نے کہا:
“میں خواب میں تھا، مگر جاگ کر بھول گیا کہ خواب ختم ہو چکا ہے۔ میں خواب کی چیز کو حقیقت میں آزمانے نکلا تھا۔ اب سمجھ آیا کہ خواب کے دروازے خواب میں کھلتے ہیں، اور حقیقت کے دروازے حقیقت میں۔”
پھر وہ ہلکے سے مسکرائے اور بولے:
“انسان کی بڑی مشکل یہی ہے کہ وہ اکثر خوابوں کو حقیقت سمجھ لیتا ہے، اور حقیقت کو خواب۔”
مجمع خاموش ہو گیا۔
جو لوگ چند لمحے پہلے ہنس رہے تھے، اب سوچ میں ڈوب گئے تھے۔
ملا اپنی پرانی چابی جیب میں ڈال کر گھر کی طرف روانہ ہو گئے، مگر جاتے جاتے ایک ایسی بات کہہ گئے جو لوگوں کے دلوں میں مدتوں گونجتی رہی:
“خواب اگر راستہ دکھائے تو اچھی بات ہے، مگر اگر آدمی خواب ہی کو منزل سمجھ بیٹھے، تو ساری عمر بند دروازوں پر چابیاں آزماتا رہتا ہے۔”
سبق
خواب خوبصورت ہوتے ہیں، امید دیتے ہیں اور دل کو روشنی بخشتے ہیں، مگر خواب اور حقیقت کے درمیان فرق کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ جو چیز خواب میں ملے، اسے جاگتی دنیا میں ویسا ہی پانے کی ضد اکثر انسان کو مایوسی کی طرف لے جاتی ہے۔
#منقول
