جج صاحب نے سخت لہجے میں پوچھا:
“تم نے شوہر کا سر دو حصوں میں کیوں کاٹا؟”
عورت نے پرسکون انداز میں جواب دیا:
“جناب، میں ایک ذہین، خواب دیکھنے والی طالبہ تھی۔ وہ میرا استاد تھا، علم و ترقی کے وعدے کیے، محبت کا دعویٰ کیا۔ شادی کے بعد میری زندگی صرف بچوں، کچن، کپڑوں، صفائی اور ذمہ داریوں میں گم ہو گئی۔
احمد کے اسکول کا ہوم ورک
ایمان کا دودھ
محمود کے پیمپر
فاطمہ کی ریاضی
گھر کی صفائی
کھانے بنانا
کپڑے دھونا
گھر چلانا
شکایت سننا
مسئلے حل کرنا
ہر ایک کی ضرورت پوری کرنا…
اور جب یہ سب کر کے شام کو میں سانس لیتی تو وہ مجھ سے کہتا:
“آخر تم کرتی کیا ہو سارا دن؟”
بس! اُس دن پیاز کاٹتے ہوئے، ہاتھ میں جو چھری تھی، وہ میرے صبر کی حد کا نشان بن گئی۔
مجھے جاننا تھا، آخر اس کے دماغ میں چل کیا رہا تھا؟”
جج صاحب خاموش ہو گئے، کیونکہ عدالت میں آنے سے کچھ لمحے پہلے، وہ بھی اپنی بیوی سے یہی سوال کر چکے تھے:
“تم کرتی کیا ہو سارا دن؟”
تب سے جج صاحب بھی اپنی ماں کے گھر ہی مقیم ہیں۔😅


