سینے سے اگنے والا درخت: وہ خواب جس نے دنیا کا نقشہ بدل دیا

سینے سے اگنے والا درخت: وہ خواب جس نے دنیا کا نقشہ بدل دیا

13ویں صدی کا اختتام… اناطولیہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں، ایک بزرگ درویش ‘شیخ ادیبالی’ کے حجرے میں سویا ہوا ایک نوجوان جنگجو اچانک پسینے میں شرابور نیند سے جاگتا ہے۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک اور حیرت تھی۔ اس نے ابھی ایک ایسا خواب دیکھا تھا جس میں آنے والی چھ صدیوں اور تین براعظموں کی تاریخ چھپی تھی۔

خواب میں اس نے دیکھا تھا کہ درویش کے سینے سے ایک چاند نکلا اور اس نوجوان کے سینے میں سما گیا۔ پھر اسی جگہ سے ایک عظیم الشان درخت اگا، جس کی شاخیں اتنی پھیلیں کہ انہوں نے آسمان کو ڈھک لیا۔ اس درخت کے سائے میں دنیا کے چار بڑے پہاڑ (کوہِ قاف، اطلس، طور اور بلقان) اور چار بڑے دریا (دجلہ، فرات، نیل اور ڈینیوب) بہہ رہے تھے۔

جب اس نے یہ خواب درویش کو سنایا، تو بزرگ نے مسکرا کر کہا: “مبارک ہو! اللہ نے تمہیں اور تمہاری نسل کو دنیا کی بادشاہت کے لیے چن لیا ہے۔”

یہ نوجوان ارطغرل غازی کا بیٹا، عثمان غازی تھا۔ اس ایک خواب اور اس کی تعبیر نے ایک خانہ بدوش قبیلے کو وہ راستہ دکھایا جو بالآخر دنیا کی سب سے طویل اور عظیم ‘سلطنتِ عثمانیہ’ کی شکل میں ابھرا۔

خواب سے حقیقت تک کا سفر
عثمان غازی بخوبی جانتا تھا کہ محض خواب دیکھنے سے سلطنتیں قائم نہیں ہوتیں۔ اس وقت اس کا ‘قائی’ قبیلہ ایک طرف منگولوں کی تباہی اور دوسری طرف دم توڑتی بازنطینی (عیسائی) سلطنت کے درمیان پھنسا ہوا تھا۔

عثمان نے اپنے والد ارطغرل کی طرح صرف تلوار پر بھروسہ نہیں کیا، بلکہ اس نے ایک زبردست حکمتِ عملی اپنائی۔ اس نے اپنے خیموں کے دروازے ہر اس شخص کے لیے کھول دیے جو ظلم کا شکار تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے دور دراز سے جنگجو، دستکار، کسان اور عالم عثمان کے جھنڈے تلے جمع ہونے لگے۔ اس نے تلوار کے ساتھ ساتھ انصاف کو اپنا سب سے بڑا ہتھیار بنایا۔

بافیوس (Bapheus) کا معرکہ: ایک ریاست کا جنم
عثمان کی بڑھتی ہوئی طاقت کو دیکھ کر بازنطینی شہنشاہ گھبرا گیا۔ 1302ء میں اس نے عثمان کو کچلنے کے لیے ایک باقاعدہ اور بڑی فوج بھیجی۔ ‘کویون حصار’ (بافیوس) کے مقام پر تاریخ کا وہ پہلا بڑا معرکہ ہوا جہاں عثمان غازی نے اپنے مٹھی بھر قبائلیوں کے ساتھ بازنطینی فوج کو عبرتناک شکست دی۔

یہ وہ دن تھا جب عثمان کا نام محض ایک قبیلے کے سردار کے بجائے ایک آزاد حکمران کے طور پر پورے اناطولیہ میں گونجنے لگا۔ اسی فتح کو سلطنتِ عثمانیہ کی اصل بنیاد مانا جاتا ہے۔

انجام: خیمے کا فقیر شہنشاہ
عثمان غازی نے اپنی ساری زندگی گھوڑے کی پیٹھ اور جنگی خیموں میں گزاری۔ اس نے کبھی کوئی شاہی محل نہیں بنوایا۔ 1326ء میں جب وہ بسترِ مرگ پر تھا، تو اسے اپنے بیٹے اورہان کی طرف سے بازنطینیوں کے سب سے اہم شہر ‘برسا’ کی فتح کی خوشخبری ملی۔

مرتے وقت اس عظیم الشان سلطنت کے بانی نے اپنے پیچھے سونا، چاندی یا ہیرے جواہرات نہیں چھوڑے، بلکہ اس کے ترکے میں صرف چند چیزیں نکلیں: ایک تلوار، ایک زرہ بکتر، خیمہ لگانے کا سامان، نمک دانی، لکڑی کا ایک چمچ اور بھیڑوں کا ایک ریوڑ۔ لیکن اس کے ساتھ اس نے ایک ایسا نظریہ اور ریاست چھوڑی، جس نے اس کے بعد 600 سال تک ایشیا، یورپ اور افریقہ پر حکمرانی کی۔

Leave a Reply

NZ's Corner