ایک بزرگ 13 سال سے عدالت کے چکر لگا رہا تھا۔
ہر پیشی پر یہی سنتا:
“اگلی تاریخ لے لیں…”
بزرگ بیچارا کبھی بس میں دھکے کھاتا، کبھی وکیل کی فیس دیتا، کبھی گواہ ڈھونڈتا…
یہاں تک کہ اس کی داڑھی بھی سیاہ سے سفید ہو گئی۔
آخرکار 13 سال بعد فیصلہ اُس کے حق میں آ گیا۔
جج صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا:
“بابا جی مبارک ہو، آپ مقدمہ جیت گئے!”
بزرگ نے ہاتھ اٹھا کر دعا دی:
“اللہ تجھے ترقی دے… اور تھانیدار بنا دے!”
پورا کورٹ روم ہنس پڑا۔
جج صاحب مسکرا کر بولے:
“بابا جی! جج تھانیدار سے بڑا ہوتا ہے!”
بزرگ نے لاٹھی سیدھی کرتے ہوئے کہا:
“نہیں پُتر… تھانیدار بڑا ہوتا ہے!”
جج حیران:
“وہ کیسے؟”
بزرگ بولے:
“بیٹا…
تمہیں میرا کیس ختم کرنے میں 13 سال لگ گئے…
اور تھانیدار پہلے دن ہی کہہ رہا تھا:
‘500 دے دو… معاملہ ابھی ختم کرا دیتا ہوں!’”
اتنا سننا تھا کہ
وکیل ہنس ہنس کر کرسی سے گر گیا…
اور تھانیدار پیچھے بیٹھا آہستہ سے بولا:
“بابا جی… اب ریٹ 500 نہیں رہا…”
