عقل مند لڑکا اور بادشاہ کا معمہ

عقل مند لڑکا اور بادشاہ کا معمہ

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک عظیم سلطنت پر جلال الدین نام کا بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ وہ بہادر تو تھا ہی، مگر اپنی عقل اور حاضر جوابی کی وجہ سے بھی مشہور تھا۔ اسے عجیب و غریب سوالات پوچھنے کا بہت شوق تھا۔ وہ اکثر اپنے وزیروں اور درباریوں کو مشکل معمہ دے دیتا، اور جو جواب نہ دے پاتا اسے شرمندگی اٹھانا پڑتی۔

وقت گزرنے کے ساتھ بادشاہ کو اپنی عقل پر بہت غرور ہوگیا۔ اب وہ سمجھنے لگا تھا کہ پوری سلطنت میں کوئی شخص اس سے زیادہ عقل مند نہیں۔

ایک دن اس نے پورے شہر میں اعلان کروایا: “جو شخص میرے تین سوالوں کے صحیح جواب دے گا، اسے ہزار سونے کے سکے انعام میں دیے جائیں گے۔ لیکن اگر جواب نہ دے سکا تو اسے ایک ماہ تک شاہی خدمت کرنی ہوگی۔”

یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے شہر میں پھیل گئی۔

اگلے دن محل کے دربار میں لوگوں کا ہجوم لگ گیا۔ بڑے بڑے عالم، تاجر، استاد اور دانشور آئے۔ مگر بادشاہ کے سوال اتنے عجیب تھے کہ ہر شخص ناکام ہو گیا۔

شام کے وقت ایک غریب عورت اپنے تیرہ سالہ بیٹے حمزہ کے ساتھ محل پہنچی۔ لڑکے کے کپڑے سادہ تھے مگر آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی۔

درباری ہنسنے لگے۔ “جہاں بڑے بڑے عالم ہار گئے، وہاں یہ بچہ کیا جواب دے گا؟”

بادشاہ بھی مسکرایا مگر بولا: “ٹھیک ہے، اسے بھی موقع دو۔”

حمزہ سکون سے بادشاہ کے سامنے کھڑا ہوگیا۔

بادشاہ نے پہلا سوال پوچھا: “دنیا میں سب سے تیز چیز کیا ہے؟”

درباری سرگوشیاں کرنے لگے۔ کسی نے کہا ہوا، کسی نے کہا بجلی۔

مگر حمزہ نے فوراً جواب دیا: “حضور! دنیا میں سب سے تیز چیز انسان کا خیال ہے۔ ایک لمحے میں زمین سے آسمان تک پہنچ جاتا ہے۔”

بادشاہ چونک گیا۔ دربار میں خاموشی چھا گئی۔

بادشاہ نے دوسرا سوال کیا: “وہ کون سی چیز ہے جو جتنی بڑھتی ہے اتنی کم ہوتی جاتی ہے؟”

کئی لوگ سوچ میں پڑ گئے۔

حمزہ مسکرایا اور بولا: “عمر۔ جوں جوں بڑھتی ہے، زندگی کم ہوتی جاتی ہے۔”

اب بادشاہ کے چہرے کی مسکراہٹ غائب ہو چکی تھی۔

اس نے تیسرا اور آخری سوال پوچھا: “اگر تم اتنے عقل مند ہو تو بتاؤ، اس وقت میں کیا سوچ رہا ہوں؟”

پورا دربار خاموش ہوگیا۔ سب کو یقین تھا کہ اب یہ لڑکا پھنس گیا۔

حمزہ نے چند لمحے بادشاہ کی طرف غور سے دیکھا، پھر ادب سے بولا: “حضور اس وقت سوچ رہے ہیں کہ شاید میں یہ جواب نہ دے سکوں۔”

یہ سن کر بادشاہ حیرت سے اپنی جگہ کھڑا ہوگیا۔ چند لمحوں بعد وہ زور زور سے ہنسنے لگا۔

“شاباش لڑکے! تم نے تو ہمیں بھی حیران کر دیا!”

پھر بادشاہ نے پوچھا: “تم نے یہ کیسے جانا؟”

حمزہ بولا: “حضور! عقل مند آدمی سوال سے زیادہ سوال پوچھنے والے کے چہرے کو پڑھتا ہے۔”

پورا دربار تالیاں بجانے لگا۔

بادشاہ نے خوش ہو کر ہزار سونے کے سکے دینے کا حکم دیا، مگر حمزہ نے کہا: “حضور! مجھے اتنے سکوں کی ضرورت نہیں۔ اگر واقعی خوش ہیں تو میرے گاؤں کے غریب لوگوں کا ٹیکس معاف کر دیں۔”

یہ سن کر بادشاہ خاموش ہوگیا۔ پہلی بار اسے احساس ہوا کہ اصل عقل صرف چالاکی نہیں، بلکہ دوسروں کا درد سمجھنا بھی ہے۔

اسی دن بادشاہ نے پورے گاؤں کا ٹیکس معاف کر دیا اور حمزہ کو شاہی مشیر بنانے کی پیشکش کی۔

مگر حمزہ نے عاجزی سے کہا: “میں ابھی علم سیکھنا چاہتا ہوں۔ کیونکہ عقل وہ خزانہ ہے جو انسان جتنا حاصل کرے، اتنا کم لگتا ہے۔”

بادشاہ نے مسکرا کر کہا: “آج ایک بچے نے ہمیں عاجزی اور عقل دونوں کا سبق سکھا دیا۔”

سبق:
اصل عقل صرف مشکل سوالوں کے جواب دینا نہیں، بلکہ سمجھ داری، عاجزی اور دوسروں کی بھلائی سوچنا ہے۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اصلاحی، سبق آموز اور مزاحیہ کہانیوں کے لیے پیج کو فالو کریں ۔ شکریہ

#urdustories
#funnymoments
#stories
#viral
#funnystory

Leave a Reply

NZ's Corner